🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

2. بَابُ ذِكْرُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ يُقْتَلُ بِبَدْرٍ:
باب: بدر کی لڑائی میں فلاں فلاں مارے جائیں گے، اس کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشین گوئی کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3950
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا شُرَيْحُ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مَيْمُونٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَدَّثَ، عَنْ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ، أَنَّهُ قَالَ: كَانَ صَدِيقًا لِأُمَيَّةَ بْنِ خَلَفٍ وَكَانَ أُمَيَّةُ إِذَا مَرَّ بِالْمَدِينَةِ نَزَلَ عَلَى سَعْدٍ , وَكَانَ سَعْدٌ إِذَا مَرَّ بِمَكَّةَ نَزَلَ عَلَى أُمَيَّةَ , فَلَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ انْطَلَقَ سَعْدٌ مُعْتَمِرًا , فَنَزَلَ عَلَى أُمَيَّةَ بِمَكَّةَ، فَقَالَ لِأُمَيَّةَ: انْظُرْ لِي سَاعَةَ خَلْوَةٍ لَعَلِّي أَنْ أَطُوفَ بِالْبَيْتِ , فَخَرَجَ بِهِ قَرِيبًا مِنْ نِصْفِ النَّهَارِ , فَلَقِيَهُمَا أَبُو جَهْلٍ، فَقَالَ: يَا أَبَا صَفْوَانَ مَنْ هَذَا مَعَكَ؟ فَقَالَ: هَذَا سَعْدٌ، فَقَالَ لَهُ أَبُو جَهْلٍ: أَلَا أَرَاكَ تَطُوفُ بِمَكَّةَ آمِنًا وَقَدْ أَوَيْتُمُ الصُّبَاةَ , وَزَعَمْتُمْ أَنَّكُمْ تَنْصُرُونَهُمْ وَتُعِينُونَهُمْ , أَمَا وَاللَّهِ لَوْلَا أَنَّكَ مَعَ أَبِي صَفْوَانَ مَا رَجَعْتَ إِلَى أَهْلِكَ سَالِمًا، فَقَالَ لَهُ سَعْدٌ: وَرَفَعَ صَوْتَهُ عَلَيْهِ أَمَا وَاللَّهِ لَئِنْ مَنَعْتَنِي هَذَا لَأَمْنَعَنَّكَ مَا هُوَ أَشَدُّ عَلَيْكَ مِنْهُ , طَرِيقَكَ عَلَى الْمَدِينَةِ، فَقَالَ لَهُ أُمَيَّةُ: لَا تَرْفَعْ صَوْتَكَ يَا سَعْدُ عَلَى أَبِي الْحَكَمِ سَيِّدِ أَهْلِ الْوَادِي، فَقَالَ سَعْدٌ: دَعْنَا عَنْكَ يَا أُمَيَّةُ فَوَاللَّهِ لَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" إِنَّهُمْ قَاتِلُوكَ"، قَالَ: بِمَكَّةَ، قَالَ: لَا أَدْرِي , فَفَزِعَ لِذَلِكَ أُمَيَّةُ فَزَعًا شَدِيدًا , فَلَمَّا رَجَعَ أُمَيَّةُ إِلَى أَهْلِهِ، قَالَ: يَا أُمَّ صَفْوَانَ أَلَمْ تَرَيْ مَا قَالَ لِي سَعْدٌ؟ قَالَتْ: وَمَا قَالَ لَكَ؟ قَالَ: زَعَمَ أَنَّ مُحَمَّدًا أَخْبَرَهُمْ أَنَّهُمْ قَاتِلِيَّ، فَقُلْتُ لَهُ: بِمَكَّةَ، قَالَ: لَا أَدْرِي، فَقَالَ: أُمَيَّةُ وَاللَّهِ لَا أَخْرُجُ مِنْ مَكَّةَ , فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ بَدْرٍ اسْتَنْفَرَ أَبُو جَهْلٍ النَّاسَ، قَالَ: أَدْرِكُوا عِيرَكُمْ فَكَرِهَ أُمَيَّةُ أَنْ يَخْرُجَ , فَأَتَاهُ أَبُو جَهْلٍ، فَقَالَ: يَا أَبَا صَفْوَانَ إِنَّكَ مَتَى مَا يَرَاكَ النَّاسُ قَدْ تَخَلَّفْتَ وَأَنْتَ سَيِّدُ أَهْلِ الْوَادِي تَخَلَّفُوا مَعَكَ , فَلَمْ يَزَلْ بِهِ أَبُو جَهْلٍ حَتَّى قَالَ: أَمَّا إِذْ غَلَبْتَنِي فَوَاللَّهِ لَأَشْتَرِيَنَّ أَجْوَدَ بَعِيرٍ بِمَكَّةَ، ثُمَّ قَالَ أُمَيَّةُ" يَا أُمَّ صَفْوَانَ جَهِّزِينِي، فَقَالَتْ لَهُ: يَا أَبَا صَفْوَانَ وَقَدْ نَسِيتَ مَا، قَالَ: لَكَ أَخُوكَ الْيَثْرِبِيُّ، قَالَ: لَا مَا أُرِيدُ أَنْ أَجُوزَ مَعَهُمْ إِلَّا قَرِيبًا , فَلَمَّا خَرَجَ أُمَيَّةُ أَخَذَ لَا يَنْزِلُ مَنْزِلًا إِلَّا عَقَلَ بَعِيرَهُ , فَلَمْ يَزَلْ بِذَلِكَ حَتَّى قَتَلَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِبَدْرٍ".
مجھ سے احمد بن عثمان نے بیان کیا، ہم سے شریح بن مسلمہ نے بیان کیا، ہم سے ابراہیم بن یوسف نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے، ان سے ابواسحاق نے بیان کیا کہ مجھ سے عمرو بن میمون نے بیان کیا، انہوں نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے تھے، انہوں نے کہا کہ وہ امیہ بن خلف کے (جاہلیت کے زمانے سے) دوست تھے اور جب بھی امیہ مدینہ سے گزرتا تو ان کے یہاں قیام کرتا تھا۔ اسی طرح سعد رضی اللہ عنہ جب مکہ سے گزرتے تو امیہ کے یہاں قیام کرتے۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ ہجرت کر کے تشریف لائے تو ایک مرتبہ سعد رضی اللہ عنہ مکہ عمرہ کے ارادے سے گئے اور امیہ کے پاس قیام کیا۔ انہوں نے امیہ سے کہا کہ میرے لیے کوئی تنہائی کا وقت بتاؤ تاکہ میں بیت اللہ کا طواف کروں۔ چنانچہ امیہ انہیں دوپہر کے وقت ساتھ لے کر نکلا۔ ان سے ابوجہل کی ملاقات ہو گئی۔ اس نے پوچھا، ابوصفوان! یہ تمہارے ساتھ کون ہیں؟ امیہ نے بتایا کہ یہ سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ ہیں۔ ابوجہل نے کہا، میں تمہیں مکہ میں امن کے ساتھ طواف کرتا ہوا نہ دیکھوں۔ تم نے بے دینوں کو پناہ دے رکھی ہے اور اس خیال میں ہو کہ تم لوگ ان کی مدد کرو گے۔ خدا کی قسم! اگر اس وقت تم، ابوصفوان! امیہ کے ساتھ نہ ہوتے تو اپنے گھر سلامتی سے نہیں جا سکتے تھے۔ اس پر سعد رضی اللہ عنہ نے کہا، اس وقت ان کی آواز بلند ہو گئی تھی کہ اللہ کی قسم! اگر آج تم نے مجھے طواف سے روکا تو میں بھی مدینہ کی طرف سے تمہارا راستہ بند کر دوں گا اور یہ تمہارے لیے بہت سی مشکلات کا باعث بن جائے گا۔ امیہ کہنے لگا، سعد! ابوالحکم (ابوجہل) کے سامنے بلند آواز سے نہ بولو۔ یہ وادی کا سردار ہے۔ سعد رضی اللہ عنہ نے کہا، امیہ! اس طرح کی گفتگو نہ کرو۔ اللہ کی قسم! میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سن چکا ہوں کہ تو ان کے ہاتھوں سے مارا جائے گا۔ امیہ نے پوچھا۔ کیا مکہ میں مجھے قتل کریں گے؟ انہوں نے کہا کہ اس کا مجھے علم نہیں۔ امیہ یہ سن کر بہت گھبرا گیا اور جب اپنے گھر لوٹا تو (اپنی بیوی سے) کہا، ام صفوان! دیکھا نہیں سعد میرے متعلق کیا کہہ رہے ہیں۔ اس نے پوچھا، کیا کہہ رہے ہیں؟ امیہ نے کہا کہ وہ یہ بتا رہے تھے کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) نے انہیں خبر دی ہے کہ کسی نہ کسی دن وہ مجھے قتل کر دیں گے۔ میں نے پوچھا کیا مکہ میں مجھے قتل کریں گے؟ تو انہوں نے کہا کہ اس کی مجھے خبر نہیں۔ امیہ کہنے لگا: خدا کی قسم! اب مکہ سے باہر میں کبھی نہیں جاؤں گا۔ پھر بدر کی لڑائی کے موقع پر جب ابوجہل نے قریش سے لڑائی کی تیاری کے لیے کہا اور کہا کہ اپنے قافلہ کی مدد کو چلو تو امیہ نے لڑائی میں شرکت پسند نہیں کی، لیکن ابوجہل اس کے پاس آیا اور کہنے لگا، اے صفوان! تم وادی کے سردار ہو۔ جب لوگ دیکھیں گے کہ تم ہی لڑائی میں نہیں نکلتے ہو تو دوسرے لوگ بھی نہیں نکلیں گے۔ ابوجہل یوں ہی برابر اس کو سمجھاتا رہا۔ آخر مجبور ہو کر امیہ نے کہا جب نہیں مانتا تو خدا کی قسم (اس لڑائی کے لیے) میں ایسا تیز رفتار اونٹ خریدوں گا جس کا ثانی مکہ میں نہ ہو۔ پھر امیہ نے (اپنی بیوی سے) کہا، ام صفوان! میرا سامان تیار کر دے۔ اس نے کہا، ابوصفوان! اپنے یثربی بھائی کی بات بھول گئے؟ امیہ بولا، میں بھولا نہیں ہوں۔ ان کے ساتھ صرف تھوڑی دور تک جاؤں گا۔ جب امیہ نکلا تو راستہ میں جس منزل پر بھی ٹھہرنا ہوتا، یہ اپنا اونٹ (اپنے پاس ہی) باندھے رکھتا۔ وہ برابر ایسا ہی احتیاط کرتا رہا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اسے قتل کرا دیا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 3950]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ زمانہ جاہلیت میں امیہ بن خلف کے دوست تھے اور امیہ جب مدینہ طیبہ سے گزرتا تو ان کے پاس ٹھہرتا تھا۔ اسی طرح جب حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ مکہ مکرمہ جاتے تو اس کے پاس قیام کرتے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کر کے مدینہ طیبہ تشریف لائے تو حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ بغرضِ عمرہ مکہ مکرمہ گئے اور امیہ کے پاس قیام کیا۔ انہوں نے امیہ سے کہا: میرے لیے تنہائی کا وقت دیکھو تاکہ میں عمرہ کر لوں۔ چنانچہ امیہ انہیں دوپہر کے وقت اپنے ساتھ لے کر نکلا تو ان کی ابوجہل سے ملاقات ہو گئی۔ اس نے پوچھا: اے ابوصفوان! تمہارے ساتھ یہ کون ہے؟ اس نے کہا: یہ سعد بن معاذ ہیں۔ ابوجہل نے کہا: میں تمہیں مکہ میں امن کے ساتھ طواف کرتا ہوا نہ دیکھوں۔ تم لوگوں نے بے دین حضرات کو اپنے ہاں پناہ دے رکھی ہے اور تم اپنے خیال کے مطابق ان کا تعاون بھی کرتے ہو؟ اللہ کی قسم! اگر اس وقت تم ابو صفوان کے ساتھ نہ ہوتے تو اپنے گھر سلامتی کے ساتھ نہیں جا سکتے تھے۔ حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ نے بآوازِ بلند ابوجہل سے کہا: خبردار! اللہ کی قسم! اگر تو مجھے اس وقت طواف سے روکے گا تو میں بھی تجھے اس سے سخت کام سے منع کروں گا، یعنی مدینے کی طرف سے تمہارا راستہ بند کر لوں گا۔ امیہ کہنے لگا: اے سعد! ابوالحکم کے سامنے بلند آواز سے گفتگو نہ کرو، یہ اس وادی کا سردار ہے۔ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا: امیہ! تم اس طرح کی گفتگو نہ کرو، اللہ کی قسم! میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سن چکا ہوں: یقینا وہ تجھے قتل کریں گے۔امیہ نے پوچھا: کیا (وہ) مکہ میں (مجھے قتل کر دیں گے)؟ انہوں نے فرمایا: مجھے اس کا علم نہیں۔ یہ سن کر امیہ بہت گھبرایا۔ جب وہ اپنی بیوی کے پاس لوٹا تو اس نے کہا: اے ام صفوان! تجھے معلوم ہے کہ مجھے سعد نے کیا کہا ہے؟ اس نے کہا: کیا کہا ہے؟ امیہ نے کہا: اس نے بتایا ہے کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے کہنے کے مطابق وہ مجھے کسی نہ کسی دن موت کے گھاٹ اتار دیں گے۔ میں نے پوچھا: کیا مکہ میں مجھے قتل کریں گے؟ تو انہوں نے کہا: مجھے اس کے متعلق کچھ معلوم نہیں۔ امیہ کہنے لگا: اللہ کی قسم! اب میں مکہ سے باہر کبھی نہیں جاؤں گا۔ چنانچہ جب غزوہ بدر کا موقع آیا تو ابوجہل نے لوگوں کو لڑائی کی تیاری کے لیے کہا، نیز انہیں ابھارا کہ تم اپنے قافلے کی حفاظت کے لیے نکلو، لیکن امیہ نے مکے سے باہر نکلنے کو پسند نہ کیا۔ ابوجہل نے اس کے پاس آ کر کہا: ابے ابو صفوان! تم وادی کے سردار ہو، جب لوگ دیکھیں گے کہ تم لڑائی کے لیے نہیں نکل رہے تو وہ بھی نہیں نکلیں گے۔ ابوجہل مسلسل اصرار کرتا رہا حتی کہ امیہ نے کہا: اگر تو مجھے مجبور کرتا ہے تو اللہ کی قسم! میں ایسا تیز رفتار اونٹ خریدتا ہوں جس کا مکے میں کوئی ثانی نہیں ہو گا۔ پھر امیہ ملعون نے (اپنی بیوی سے) کہا: اے ام صفوان! میرا جنگی سامان تیار کرو۔ اس نے کہا: اے ابو صفوان! کیا تم اپنے یثربی بھائی (دوست) کی بات بھول گئے ہو؟ امیہ بولا: میں بھولا نہیں ہوں لیکن ان کے ساتھ صرف تھوڑی دور تک جاؤں گا۔ جب امیہ نکلا تو راستے میں جس منزل پر بھی ٹھہرنا ہوتا یہ اپنا اونٹ قریب ہی باندھ لیتا۔ وہ مسلسل ایسے ہی احتیاط کرتا رہا حتی کہ اللہ تعالیٰ نے اسے میدان بدر میں کیفرِ کردار تک پہنچا دیا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 3950]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں