🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

27. بَابُ مَنْ قُتِلَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ يَوْمَ أُحُدٍ:
باب: جن مسلمانوں نے غزوہ احد میں شہادت پائی ان کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q4078
مِنْهُمْ حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَالْيَمَانُ وَأَنَسُ بْنُ النَّضْرِ وَمُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ.
‏‏‏‏ ان ہی میں حمزہ بن عبدالمطلب، ابوحذیفہ الیمان، انس بن نضر اور مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہم بھی تھے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: Q4078]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4078
حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ قَتَادَةَ قَالَ مَا نَعْلَمُ حَيًّا مِنْ أَحْيَاءِ الْعَرَبِ أَكْثَرَ شَهِيدًا أَعَزَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنَ الأَنْصَارِ. قَالَ قَتَادَةُ وَحَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَّهُ قُتِلَ مِنْهُمْ يَوْمَ أُحُدٍ سَبْعُونَ، وَيَوْمَ بِئْرِ مَعُونَةَ سَبْعُونَ، وَيَوْمَ الْيَمَامَةِ سَبْعُونَ، قَالَ وَكَانَ بِئْرُ مَعُونَةَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَيَوْمُ الْيَمَامَةِ عَلَى عَهْدِ أَبِي بَكْرٍ يَوْمَ مُسَيْلِمَةَ الْكَذَّابِ.
ہم سے عمرو بن علی نے بیان کیا، کہا ہم سے معاذ بن ہشام نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے بیان کیا کہ عرب کے تمام قبائل میں کوئی قبیلہ انصار کے مقابلے میں اس عزت کو حاصل نہیں کر سکا کہ اس کے سب سے زیادہ آدمی شہید ہوئے اور وہ قبیلہ قیامت کے دن سب سے زیادہ عزت کے ساتھ اٹھے گا۔ انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے ہم سے بیان کیا کہ غزوہ احد میں قبیلہ انصار کے ستر آدمی شہید ہوئے اور بئرمعونہ کے حادثہ میں اس کے ستر آدمی شہید ہوئے اور یمامہ کی لڑائی میں اس کے ستر آدمی شہید ہوئے۔ راوی نے بیان کیا کہ بئرمعونہ کا واقعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں پیش آیا تھا اور یمامہ کی جنگ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں ہوئی تھی جو مسیلمہ کذاب سے ہوئی تھی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4078]
حضرت قتادہ رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ہمیں عرب کے قبائل میں سے کوئی ایسا قبیلہ معلوم نہیں جس کے شہید انصار سے زیادہ ہوں اور وہ قبیلہ قیامت کے دن انصار سے زیادہ عزت والا ہو۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ: غزوہ احد میں قبیلہ انصار کے ستر آدمی شہید ہوئے اور بئر معونہ کے دن ستر شہید ہوئے اور اسی طرح یمامہ کے روز بھی ستر شہید ہوئے۔ بئر معونہ کا سانحہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک ہی میں پیش آیا تھا، البتہ یمامہ کی جنگ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں ہوئی جو مسیلمہ کذاب کے خلاف لڑی گئی تھی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4078]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4079
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَجْمَعُ بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ مِنْ قَتْلَى أُحُدٍ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ ثُمَّ يَقُولُ: «أَيُّهُمْ أَكْثَرُ أَخْذًا لِلْقُرْآنِ» . فَإِذَا أُشِيرَ لَهُ إِلَى أَحَدٍ، قَدَّمَهُ فِي اللَّحْدِ، وَقَالَ: «أَنَا شَهِيدٌ عَلَى هَؤُلاَءِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» . وَأَمَرَ بِدَفْنِهِمْ بِدِمَائِهِمْ، وَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِمْ، وَلَمْ يُغَسَّلُوا.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عبدالرحمٰن بن کعب بن مالک نے اور انہیں جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احد کے شہداء کو ایک ہی کپڑے میں دو دو کو کفن دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم دریافت فرماتے کہ ان میں قرآن کا عالم سب سے زیادہ کون ہے؟ جب کسی ایک کی طرف اشارہ کر کے آپ کو بتایا جاتا تو لحد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہی کو آگے فرماتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کے دن میں ان سب پر گواہ رہوں گا۔ پھر آپ نے تمام شہداء کو خون سمیت دفن کرنے کا حکم فرما دیا اور ان کی نماز جنازہ نہیں پڑھی اور نہ انہیں غسل دیا گیا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4079]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شہدائے اُحد میں سے دو دو کو ایک کفن میں لپیٹتے، پھر دریافت فرماتے: ان میں سے کس کو زیادہ قرآن یاد ہے؟ جب کسی ایک کی طرف اشارہ کیا جاتا تو اسے لحد میں قبلے کی طرف آگے کرتے اور فرماتے: میں قیامت کے دن ان کے حق میں گواہی دوں گا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام شہداء کو خون سمیت دفن کرنے کا حکم دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی نمازِ جنازہ نہ پڑھی اور نہ انہیں غسل ہی دیا گیا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4079]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4080
وَقَالَ أَبُو الْوَلِيدِ عَنْ شُعْبَةَ عَنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرًا قَالَ لَمَّا قُتِلَ أَبِي جَعَلْتُ أَبْكِي وَأَكْشِفُ الثَّوْبَ عَنْ وَجْهِهِ، فَجَعَلَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَوْنِي وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَنْهَ، وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لاَ تَبْكِيهِ أَوْ مَا تَبْكِيهِ، مَا زَالَتِ الْمَلاَئِكَةُ تُظِلُّهُ بِأَجْنِحَتِهَا حَتَّى رُفِعَ» .
اور ابوالولید نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے، ان سے ابن المنکدر نے، انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میرے والد عبداللہ رضی اللہ عنہ شہید کر دیئے گئے تو میں رونے لگا اور باربار ان کے چہرے سے کپڑا ہٹاتا۔ صحابہ مجھے روکتے تھے لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں روکا۔ (فاطمہ بنت عمر رضی اللہ عنہا عبداللہ کی بہن بھی رونے لگیں) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ روؤ مت۔ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «لا تبكيه» فرمایا، یا «ما تبكيه» ۔ راوی کو شک ہو گیا) فرشتے برابر ان کی لاش پر اپنے پروں کا سایہ کئے ہوئے تھے۔ یہاں تک کہ ان کو اٹھا لیا گیا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4080]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے، انہوں نے کہا: جب میرے والد گرامی شہید ہو گئے تو میں رونے لگا اور ان کے چہرے سے کپڑا ہٹانا چاہا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے مجھے ایسا کرنے سے منع کر دیا، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے منع نہیں فرمایا، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے (آپ کی پھوپھی سے) فرمایا: اس پر مت رو، یا فرمایا: کیوں روتی ہو؟ فرشتے برابر ان کی لاش پر اپنے پروں کا سایہ کیے ہوئے تھے، یہاں تک انہیں اٹھا لیا گیا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4080]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4081
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ جَدِّهِ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أُرَى عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «رَأَيْتُ فِي رُؤْيَايَ أَنِّي هَزَزْتُ سَيْفًا فَانْقَطَعَ صَدْرُهُ، فَإِذَا هُوَ مَا أُصِيبَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ يَوْمَ أُحُدٍ، ثُمَّ هَزَزْتُهُ أُخْرَى فَعَادَ أَحْسَنَ مَا كَانَ، فَإِذَا هُوَ مَا جَاءَ بِهِ اللَّهُ مِنَ الْفَتْحِ وَاجْتِمَاعِ الْمُؤْمِنِينَ، وَرَأَيْتُ فِيهَا بَقَرًا وَاللَّهُ خَيْرٌ، فَإِذَا هُمُ الْمُؤْمِنُونَ يَوْمَ أُحُدٍ» .
ہم سے محمد بن علاء نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے یزید بن عبداللہ بن ابی بردہ نے، ان سے ان کے دادا ابوبردہ نے اور ان سے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے خواب میں دیکھا کہ میں نے تلوار کو ہلایا اور اس سے اس کی دھار ٹوٹ گئی۔ اس کی تعبیر مسلمانوں کے اس نقصان کی شکل میں ظاہر ہوئی جو غزوہ احد میں انہیں اٹھانا پڑا تھا۔ پھر میں نے دوبارہ اس تلوار کو ہلایا، تو پھر وہ اس سے بھی زیادہ عمدہ ہو گئی جیسی پہلے تھی۔ اس کی تعبیر اللہ تعالیٰ نے فتح اور مسلمانوں کے پھر از سر نو اجتماع کی صورت میں ظاہر کی۔ میں نے اسی خواب میں ایک گائے دیکھی تھی (جو ذبح ہو رہی تھی) اور اللہ تعالیٰ کے تمام کام خیر و برکت لیے ہوتے ہیں۔ اس کی تعبیر وہ مسلمان تھے (جو) احد کی لڑائی میں (شہید ہوئے)۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4081]
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: میں نے خواب میں دیکھا کہ میں نے تلوار کو حرکت دی تو اس کا اگلا حصہ جدا ہو گیا۔ اس کی تعبیر مسلمانوں کے اس نقصان کی صورت میں ظاہر ہوئی جو غزوہ اُحد میں انہیں اٹھانا پڑا۔ میں نے دوبارہ اس کو لہرایا تو وہ پہلے سے بھی زیادہ اچھی ہو گئی۔ اس کی تعبیر یہ ہوئی کہ مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ نے فتح سے ہمکنار کیا اور وہ ازسرنو مجتمع ہو گئے۔ میں نے اسی خواب میں گائے دیکھی (جو ذبح ہو رہی تھی) اور اللہ تعالیٰ کے تمام امور خیر و برکت سے بھرپور ہوتے ہیں، اس کی تعبیر وہی تھی جو اُحد میں مسلمان شہید کیے گئے تھے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4081]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4082
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ عَنْ شَقِيقٍ عَنْ خَبَّابٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ هَاجَرْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَبْتَغِي وَجْهَ اللَّهِ، فَوَجَبَ أَجْرُنَا عَلَى اللَّهِ، فَمِنَّا مَنْ مَضَى أَوْ ذَهَبَ لَمْ يَأْكُلْ مِنْ أَجْرِهِ شَيْئًا، كَانَ مِنْهُمْ مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ قُتِلَ يَوْمَ أُحُدٍ، فَلَمْ يَتْرُكْ إِلاَّ نَمِرَةً كُنَّا إِذَا غَطَّيْنَا بِهَا رَأْسَهُ خَرَجَتْ رِجْلاَهُ، وَإِذَا غُطِّيَ بِهَا رِجْلاَهُ خَرَجَ رَأْسُهُ، فَقَالَ لَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «غَطُّوا بِهَا رَأْسَهُ، وَاجْعَلُوا عَلَى رِجْلَيْهِ الإِذْخِرَ» . أَوْ قَالَ: «أَلْقُوا عَلَى رِجْلَيْهِ مِنَ الإِذْخِرِ» . وَمِنَّا مَنْ أَيْنَعَتْ لَهُ ثَمَرَتُهُ فَهْوَ يَهْدِبُهَا.
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، کہا ہم سے زہیر نے بیان کیا، کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، ان سے شقیق نے اور ان سے خباب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہجرت کی اور ہمارا مقصد اس سے صرف اللہ تعالیٰ کی رضا مندی حاصل کرنا تھا۔ ضروری تھا کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اس پر ثواب دیتا۔ ہم میں سے بعض لوگ تو وہ تھے جو اللہ سے جا ملے اور (دنیا میں) انہوں نے اپنا کوئی ثواب نہیں دیکھا۔ مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ بھی انہیں میں سے تھے۔ غزوہ احد میں انہوں نے شہادت پائی اور ایک چادر کے سوا اور کوئی چیز انہوں نے نہیں چھوڑی۔ اس چادر سے (کفن دیتے وقت) جب ہم ان کا سر چھپاتے تو پاؤں کھل جاتے اور پاؤں چھپاتے تو سر کھل جاتا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا «غطوا بها رأسه،‏‏‏‏ واجعلوا على رجليه الإذخر» چادر سے سر چھپا دو اور پاؤں پر اذخر گھاس رکھ دو۔ یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں فرمایا «ألقوا على رجليه من الإذخر» یعنی ان کے پیروں پر اذخر گھاس ڈال دو۔ (دونوں جملوں کا مطلب ایک ہی ہے) اور ہم میں بعض وہ ہیں جنہیں ان کے اس عمل کا پھل (اسی دنیا میں) دے دیا گیا اور وہ اس سے خوب فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4082]
حضرت خباب بن ارت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہجرت کی۔ اس سے ہمارا مقصد صرف اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی تھا۔ اس بنا پر ہمارا ثواب تو اللہ کے ذمے ہو گیا۔ اب ہم میں سے کچھ لوگ تو گزر گئے یا دنیا سے چلے گئے۔ انہوں نے دنیا میں اپنے ثواب سے کچھ نہ پایا۔ ان میں حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ ہیں۔ وہ اُحد کے روز شہید کیے گئے۔ انہوں نے صرف ایک چادر چھوڑی۔ جب ہم اس کے ساتھ ان کا سر ڈھانپتے تھے تو ان کے پاؤں کھل جاتے اور جب ان کے پاؤں چھپائے جاتے تو ان کا سر ننگا ہو جاتا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں فرمایا: اس چادر سے ان کا سر چھپا دو اور ان کے پاؤں پر «الْإِذْخِرِ» اذخر گھاس رکھ دو یا ڈال دو۔ اور ہم میں سے کچھ ایسے ہیں جن کا پھل دنیا میں پک چکا ہے اور وہ اس سے خوب فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4082]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں