🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

بلوغ المرام میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1359)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

8. باب الغسل وحكم الجنب
غسل اور جنبی کے حکم کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 104
وعن عائشة رضي الله عنها قالت: كان رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم إذا اغتسل من الجنابة يبدأ فيغسل يديه ثم يفرغ بيمينه على شماله فيغسل فرجه ثم يتوضأ ثم يأخذ الماء فيدخل أصابعه في أصول الشعر،‏‏‏‏ ثم حفن على رأسه ثلاث حفنات،‏‏‏‏ ثم أفاض على سائر جسده ثم غسل رجليه. متفق عليه واللفظ لمسلم.ولهما من حديث ميمونة: ثم أفرغ على فرجه وغسله بشماله،‏‏‏‏ ثم ضرب بها الأرض.وفي رواية: فمسحها بالتراب. وفي آخره: ثم أتيته بالمنديل فرده،‏‏‏‏ وفيه: وجعل ينفض الماء بيده.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب غسل جنابت کرتے تو اس طرح آغاز کرتے۔ پہلے ہاتھ دھوتے پھر سیدھے ہاتھ سے بائیں ہاتھ پر پانی ڈالتے اور اپنا عضو مخصوص دھوتے۔ پھر وضو کرتے، پھر پانی لے کر اپنی انگلیوں کے ذریعہ سر کے بالوں کی تہہ (جڑوں) میں داخل کرتے۔ پھر تین چلو پانی کے بھر کر یکے بعد دیگرے سر پر ڈالتے۔ پھر باقی سارے وجود پر پانی بہاتے (سب سے آخر میں) پھر دونوں پاؤں دھوتے۔ (بخاری و مسلم) متن حدیث کے الفاظ مسلم کے ہیں۔
اور بخاری و مسلم میں سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کی روایت میں اس طرح ہے۔ ”پھر اپنے عضو مخصوص پر پانی ڈالتے اور اپنے بائیں ہاتھ سے اسے دھوتے اور ہاتھوں کو زمین پر مار کر مٹی سے ملتے اور (صاف کرتے)“ اور ایک دوسری روایت میں اس طرح ہے ”پھر دونوں ہاتھ مٹی سے مل کر اچھی طرح صاف کرتے۔“ اس روایت کے آخر میں ہے کہ ”میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں رومال (تولیہ) پیش کیا مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے واپس لوٹا دیا اور بدن (پر جو پانی رہ گیا تھا) اسے اپنے ہاتھ سے جھاڑنا شروع کیا۔“ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 104]
«وَعَنْ» اور سے – «عَائِشَةَ» عائشہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَتْ» (انہوں نے) کہا: – «كَانَ» تھے – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر اور سلامتی – «إِذَا» جب – «اغْتَسَلَ» آپ غسل کرتے – «مِنَ» سے – «الْجَنَابَةِ» جنابت – «يَبْدَأُ» آپ ابتدا کرتے – «فَيَغْسِلُ» تو دھوتے – «يَدَيْهِ» اپنے دونوں ہاتھ – «ثُمَّ» پھر – «يُفْرِغُ» آپ پانی انڈیلتے – «بِيَمِينِهِ» اپنے دائیں ہاتھ سے – «عَلَى» پر – «شِمَالِهِ» اپنے بائیں ہاتھ – «فَيَغْسِلُ» پھر دھوتے – «فَرْجَهُ» اپنی شرمگاہ کو – «ثُمَّ» پھر – «يَتَوَضَّأُ» آپ وضو کرتے – «ثُمَّ» پھر – «يَأْخُذُ» آپ لیتے – «الْمَاءَ» پانی – «فَيُدْخِلُ» پس داخل کرتے – «أَصَابِعَهُ» اپنی انگلیوں کو – «فِي» میں – «أُصُولِ» جڑوں – «الشَّعْرِ» بالوں کی، – «ثُمَّ» پھر – «حَفَنَ» چلو بھر کر ڈالتے – «عَلَى» پر – «رَأْسِهِ» اپنے سر – «ثَلَاثَ» تین – «حَفَنَاتٍ» چلو، – «ثُمَّ» پھر – «أَفَاضَ» بہاتے – «عَلَى» پر – «سَائِرِ» باقی تمام – «جَسَدِهِ» اپنے جسم – «ثُمَّ» پھر – «غَسَلَ» دھوتے – «رِجْلَيْهِ» اپنے دونوں پاؤں۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر اتفاق ہے (بخاری و مسلم) – «وَاللَّفْظُ» اور یہ الفاظ – «لِمُسْلِمٍ» مسلم کے ہیں۔ – «وَلَهُمَا» اور ان دونوں کے لیے (صحیحین میں) ہے – «مِنْ» سے – «حَدِيثِ» حدیث – «مَيْمُونَةَ» میمونہ: – «ثُمَّ» پھر – «أَفْرَغَ» پانی بہایا – «عَلَى» پر – «فَرْجِهِ» اپنی شرمگاہ – «وَغَسَلَهُ» اور اسے دھویا – «بِشِمَالِهِ» اپنے بائیں ہاتھ سے، – «ثُمَّ» پھر – «ضَرَبَ» مارا (رگڑا) – «بِهَا» اسے (بائیں ہاتھ کو) – «الْأَرْضَ» زمین پر۔ – «وَفِي» اور میں – «رِوَايَةٍ» ایک روایت: – «فَمَسَحَهَا» پس اسے ملا – «بِالتُّرَابِ» مٹی کے ساتھ۔ – «وَفِي» اور میں – «آخِرِهِ» اس کے آخر: – «ثُمَّ» پھر – «أَتَيْتُهُ» میں آپ کے پاس لائی – «بِالْمِنْدِيلِ» رومال (تولیہ) – «فَرَدَّهُ» تو آپ نے اسے واپس کر دیا، – «وَفِيهِ» اور اس میں ہے: – «وَجَعَلَ» اور آپ لگے – «يَنْفُضُ» جھاڑنے – «الْمَاءَ» پانی – «بِيَدِهِ» اپنے ہاتھ سے۔
اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب جنابت کا غسل فرماتے تو (پہلے) اپنے دونوں ہاتھ دھونے سے ابتدا کرتے، پھر اپنے دائیں ہاتھ سے بائیں ہاتھ پر پانی انڈیلتے اور اپنی شرمگاہ کو دھوتے، پھر وضو فرماتے، پھر پانی لیتے اور اپنی انگلیوں کو بالوں کی جڑوں میں داخل کرتے، پھر اپنے سر پر تین چلو پانی ڈالتے، پھر اپنے باقی تمام جسم پر پانی بہاتے، پھر اپنے دونوں پاؤں دھوتے۔ یہ حدیث متفق علیہ ہے اور یہ الفاظ امام مسلم کے ہیں۔ اور ان دونوں (بخاری و مسلم) میں سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کی حدیث سے یہ بھی مروی ہے کہ: ”پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی شرمگاہ پر پانی بہایا اور اسے اپنے بائیں ہاتھ سے دھویا، پھر بائیں ہاتھ کو زمین پر رگڑا۔“ اور ایک روایت میں ہے: ”پس آپ نے اسے مٹی سے ملا۔“ اور اس حدیث کے آخر میں ہے: ”پھر میں آپ کے پاس تولیہ لائی تو آپ نے اسے واپس کر دیا،“ اور اس میں یہ بھی ہے: ”اور آپ اپنے ہاتھ سے پانی جھاڑنے لگے۔“ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 104]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الغسل، باب الوضوء قبل الغسل، حديث:248، ومسلم، الحيض، باب صفة غسل الجنابة، حديث:316، وحديث ميمونة أخرجه البخاري، الغسل، حديث:266 وغيره، ومسلم، الحيض، حديث:317.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 105
وعن أم سلمة رضي الله تعالى عنها قالت: قلت: يا رسول الله! إني امرأة أشد شعر رأسي،‏‏‏‏ أفأنقضه لغسل الجنابة؟ وفي رواية: والحيضة؟ قال: «‏‏‏‏لا إنما يكفيك أن تحثي على رأسك ثلاث حثيات» .‏‏‏‏ رواه مسلم
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! میں اپنے سر کے بال (یعنی مینڈھیوں کی شکل میں) باندھ لیتی ہوں۔ کیا غسل جنابت کے موقع پر ان کو کھولوں؟ اور ایک روایت میں حیض سے فارغ ہو کر غسل کے وقت کے الفاظ ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”نہیں (کھولنے کے ضرورت نہیں) بس تیرے لئے یہی کافی ہے کہ تو اپنے سر پر تین چلو پانی بہا دیا کر۔“ (مسلم) [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 105]
«وَعَنْ» اور سے – «أُمِّ سَلَمَةَ» ام سلمہ – «رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهَا» اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہو – «قَالَتْ» (انہوں نے) کہا: – «قُلْتُ» میں نے عرض کیا: – «يَا» اے – «رَسُولَ اللَّهِ» اللہ کے رسول! – «إِنِّي» بیشک میں – «امْرَأَةٌ» ایک عورت ہوں – «أَشُدُّ» جو مضبوط گوندھتی (باندھتی) ہے – «شَعْرَ» بال – «رَأْسِي» اپنے سر کے، – «أَفَأَنْقُضُهُ» تو کیا میں انہیں کھولوں – «لِغُسْلِ» غسل کے لیے – «الْجَنَابَةِ» جنابت کے؟ – «وَفِي» اور میں – «رِوَايَةٍ» ایک روایت: – «وَالْحَيْضَةِ» اور حیض کے (غسل کے لیے)؟ – «قَالَ» (آپ نے) فرمایا: – «لَا» نہیں – «إِنَّمَا» بس – «يَكْفِيكِ» تجھے کافی ہے – «أَنْ» کہ – «تَحْثِيَ» تو ڈال لے – «عَلَى» پر – «رَأْسِكِ» اپنے سر – «ثَلَاثَ» تین – «حَثَيَاتٍ» لپیں (چلو)۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا ہے – «مُسْلِمٌ» مسلم نے۔
اور سیدہ ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں ایک ایسی عورت ہوں جو اپنے سر کے بالوں کو مضبوط گوندھتی ہوں، تو کیا میں انہیں جنابت کے غسل کے لیے کھول لیا کروں؟ اور ایک روایت میں ہے: اور حیض کے غسل کے لیے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، بس تیرے لیے یہ کافی ہے کہ تو اپنے سر پر تین چلو پانی ڈال لے۔“ اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 105]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، الحيض، باب حكم ضفائر المغتسلة، حديث:330.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 106
وعن عائشة رضي الله عنها قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏إني لا أحل المسجد لحائض ولا جنب» ‏‏‏‏. رواه أبو داود. وصححه ابن خزيمة.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میں حائضہ عورت اور حالت جنابت میں مبتلا مرد کیلئے مسجد میں داخلہ حلال نہیں کرتا (یعنی ان دونوں کو مسجد میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دیتا)۔“ اس کو ابوداؤد نے روایت کیا ہے اور ابن خزیمہ نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 106]
«وَعَنْ» اور سے – «عَائِشَةَ» عائشہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَتْ» (انہوں نے) کہا: – «قَالَ» (فرمایا) – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر اور سلامتی – «إِنِّي» بیشک میں – «لَا» نہیں – «أُحِلُّ» حلال کرتا – «الْمَسْجِدَ» مسجد کو – «لِحَائِضٍ» کسی حائضہ (حیض والی عورت) کے لیے – «وَلَا» اور نہ – «جُنُبٍ» کسی جنبی (ناپاک) کے لیے۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا ہے – «أَبُو دَاوُدَ» ابو داود نے۔ – «وَصَحَّحَهُ» اور اسے صحیح قرار دیا ہے – «ابْنُ خُزَيْمَةَ» ابن خزیمہ نے۔
اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک میں کسی حائضہ اور جنبی کے لیے مسجد کو حلال نہیں سمجھتا۔“ اسے امام ابو داود نے روایت کیا ہے اور ابن خزیمہ نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 106]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، الطهارة، باب في الجنب يدخل المسجد، حديث:232، وابن خزيمة، حديث:1328-جسرة بنت دجاجة: "لا ينزل حديثهاعن درجة الحسن".»

الحكم على الحديث:
حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 107
وعنها رضي الله عنها قالت: كنت أغتسل أنا ورسول الله صلى الله عليه وآله وسلم من إناء واحد تختلف أيدينا فيه من الجنابة. متفق عليه،‏‏‏‏ وزاد ابن حبان:" وتلتقي".
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ہی سے یہ روایت بھی ہے کہ میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دونوں ایک ہی برتن سے غسل جنابت کر لیا کرتے تھے۔ اس برتن میں ہمارے ہاتھ یکے بعد دیگرے داخل ہوتے تھے۔ (بخاری و مسلم)
اور ابن حبان نے اتنا اضافہ مزید نقل کیا ہے کہ بسا اوقات دونوں کے ہاتھ ایک دوسرے سے چھو جاتے تھے۔ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 107]
«وَعَنْهَا» اور انہی سے – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَتْ» (انہوں نے) کہا: – «كُنْتُ» تھی – «أَغْتَسِلُ» غسل کرتی – «أَنَا» میں – «وَرَسُولُ اللَّهِ» اور اللہ کے رسول – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر اور سلامتی – «مِنْ» سے – «إِنَاءٍ» برتن – «وَاحِدٍ» ایک (ہی) – «تَخْتَلِفُ» باری باری پڑتے (آتے جاتے) تھے – «أَيْدِينَا» ہمارے ہاتھ – «فِيهِ» اس میں – «مِنَ» کی وجہ سے – «الْجَنَابَةِ» جنابت (غسل جنابت میں)۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر اتفاق ہے (بخاری و مسلم) – «وَزَادَ» اور اضافہ کیا – «ابْنُ حِبَّانَ» ابن حبان نے: – «وَتَلْتَقِي» ”اور وہ (ہاتھ) ملتے تھے“۔
اور انہی (سیدہ عائشہ) رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جنابت کے غسل کے وقت ایک ہی برتن سے غسل کیا کرتے تھے، اس (برتن) میں ہمارے ہاتھ باری باری پڑتے تھے۔ یہ حدیث متفق علیہ ہے، اور ابن حبان نے ان الفاظ کا اضافہ کیا ہے: ”اور ہمارے ہاتھ (برتن میں) مل بھی جاتے تھے۔“ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 107]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الغسل، باب هل يدخلالجنب يده في الإناء...، حديث:261، ومسلم، الحيض، باب القدر المستحب من الماء في غسل الجنابة...، حديث:321 واللفظ له، وابن حبان: لم أجده بلفظ"وتلتقي"»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 108
وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏إن تحت كل شعرة جنابة فاغسلوا الشعر وانقوا البشر» ‏‏‏‏. رواه أبو داود والترمذي وضعفاه. ولأحمد عن عائشة رضي الله عنها نحوه وفيه راو مجهول.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ ”ہر بال کی تہہ (نیچے) میں جنابت کا اثر ہوتا ہے اس لئے بالوں کو (اچھی طرح) دھویا کرو اور جسم کو اچھی طرح (مل کر) صاف کیا کرو۔“
ابوداؤد اور ترمذی دونوں نے اسے روایت کیا ہے اور ساتھ ہی ضعیف بھی قرار دیا ہے۔ مسند احمد میں بھی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے اسی طرح روایت ہے اور اس میں ایک راوی مجہول ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 108]
«وَعَنْ» اور سے – «أَبِي هُرَيْرَةَ» ابو ہریرہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «قَالَ» (فرمایا) – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر اور سلامتی – «إِنَّ» بیشک – «تَحْتَ» نیچے – «كُلِّ» ہر – «شَعْرَةٍ» بال کے – «جَنَابَةً» جنابت (ناپاکی) ہے – «فَاغْسِلُوا» پس تم دھویا کرو – «الشَّعْرَ» بالوں کو – «وَأَنْقُوا» اور (خوب) صاف کیا کرو – «الْبَشَرَ» جلد کو۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا ہے – «أَبُو دَاوُدَ» ابو داود نے – «وَالتِّرْمِذِيُّ» اور ترمذی نے – «وَضَعَّفَاهُ» اور ان دونوں نے اسے ضعیف قرار دیا ہے۔ – «وَلِأَحْمَدَ» اور (امام) احمد کی روایت میں ہے – «عَنْ» سے – «عَائِشَةَ» عائشہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا» اللہ ان سے راضی ہو – «نَحْوَهُ» اسی طرح – «وَفِيهِ» اور اس (سند) میں – «رَاوٍ» ایک راوی – «مَجْهُولٌ» مجہول ہے۔
اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک ہر بال کے نیچے جنابت (کا اثر) ہوتا ہے، لہٰذا بالوں کو دھویا کرو اور جلد کو (خوب) صاف کیا کرو۔“ اسے امام ابو داود اور امام ترمذی نے روایت کیا ہے اور ان دونوں نے اسے ضعیف قرار دیا ہے۔ اور مسند احمد میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے اسی طرح مروی ہے اور اس (کی سند) میں ایک راوی مجہول ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 108]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، الطهارة، باب في الغسل من الجنابة، حديث:248 وقال: "الحارث بن وجيه حديثه منكر وهو ضعيف"، والترمذي، الطهارة، حديث:106، وابن ماجه، الطهارة، حديث:597* وأحمد:6 / 110، 111، 254 وسنده ضعيف، فيه ضعيف ومجهول.»

الحكم على الحديث:
ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں