صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
51. بَابُ مَنْزِلُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفَتْحِ:
باب: فتح مکہ کے دن قیام نبوی کا بیان۔
حدیث نمبر: 4293
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي رُكُوعِهِ وَسُجُودِهِ: سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي".
مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے غندر نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ‘ ان سے منصور نے ‘ ان سے ابوالضحیٰ نے ‘ ان سے مسروق نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رکوع اور سجدہ میں یہ پڑھتے تھے «سبحانك اللهم، ربنا وبحمدك، اللهم اغفر لي» ۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4293]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رکوع اور سجود میں یہ دعا پڑھا کرتے تھے: «سُبْحَانَكَ اللّٰهُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ، اللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِي» ”اے اللہ! ہمارے پروردگار! تو اپنی حمد کے ساتھ پاک ہے۔ اے اللہ! مجھے معاف کر دے۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4293]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4294
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ:" كَانَ عُمَرُ يُدْخِلُنِي مَعَ أَشْيَاخِ بَدْرٍ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: لِمَ تُدْخِلُ هَذَا الْفَتَى مَعَنَا وَلَنَا أَبْنَاءٌ مِثْلُهُ؟ فَقَالَ: إِنَّهُ مِمَّنْ قَدْ عَلِمْتُمْ، قَالَ: فَدَعَاهُمْ ذَاتَ يَوْمٍ وَدَعَانِي مَعَهُمْ، قَالَ: وَمَا رُئِيتُهُ دَعَانِي يَوْمَئِذٍ إِلَّا لِيُرِيَهُمْ مِنِّي، فَقَالَ: مَا تَقُولُونَ فِي: إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ {1} وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّهِ أَفْوَاجًا {2} سورة النصر آية 1-2؟ حَتَّى خَتَمَ السُّورَةَ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: أُمِرْنَا أَنْ نَحْمَدَ اللَّهَ وَنَسْتَغْفِرَهُ إِذَا نُصِرْنَا وَفُتِحَ عَلَيْنَا، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَا نَدْرِي أَوْ لَمْ يَقُلْ بَعْضُهُمْ شَيْئًا؟ فَقَالَ لِي: يَا ابْنَ عَبَّاسٍ، أَكَذَاكَ تَقُولُ؟ قُلْتُ: لَا، قَالَ: فَمَا تَقُولُ؟ قُلْتُ: هُوَ أَجَلُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْلَمَهُ اللَّهُ لَهُ إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ سورة النصر آية 1 فَتْحُ مَكَّةَ، فَذَاكَ عَلَامَةُ أَجَلِكَ فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِرْهُ إِنَّهُ كَانَ تَوَّابًا سورة النصر آية 3، قَالَ عُمَرُ: مَا أَعْلَمُ مِنْهَا إِلَّا مَا تَعْلَمُ".
ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا ‘ ان سے ابوبشر نے ‘ ان سے سعید بن جبیر نے ‘ ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ عمر رضی اللہ عنہ مجھے اپنی مجلس میں اس وقت بھی بلا لیتے جب وہاں بدر کی جنگ میں شریک ہونے والے بزرگ صحابہ رضی اللہ عنہم بیٹھے ہوتے۔ اس پر بعض لوگ کہنے لگے اس جوان کو آپ ہماری مجلس میں کیوں بلاتے ہیں؟ اس کے جیسے تو ہمارے بچے بھی ہیں۔ اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے کہا وہ تو ان لوگوں میں سے ہے جن کا علم و فضل تم جانتے ہو۔ انہوں نے بیان کیا کہ پھر ان بزرگ صحابیوں کو ایک دن عمر رضی اللہ عنہ نے بلایا اور مجھے بھی بلایا۔ بیان کیا کہ میں سمجھتا تھا کہ مجھے اس دن آپ نے اس لیے بلایا تھا تاکہ آپ میرا علم بتا سکیں۔ پھر آپ نے دریافت کیا «إذا جاء نصر الله والفتح * ورأيت الناس يدخلون» ‘ ختم سورت تک ‘ کے متعلق تم لوگوں کا کیا خیال ہے؟ کسی نے کہا کہ ہمیں اس آیت میں حکم دیا گیا ہے کہ ہم اللہ کی حمد بیان کریں اور اس سے استغفار کریں کہ اس نے ہماری مدد کی اور ہمیں فتح عنایت فرمائی۔ بعض نے کہا کہ ہمیں اس کے متعلق کچھ معلوم نہیں ہے اور بعض نے کوئی جواب نہیں دیا پھر انہوں نے مجھ سے دریافت کیا: ابن عباس! کیا تمہارا بھی یہی خیال ہے؟ میں نے جواب دیا کہ نہیں ‘ پوچھا ‘ پھر تم کیا کہتے ہو؟ میں نے کہا کہ اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کی طرف اشارہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کی مدد اور فتح حاصل ہو گئی۔ یعنی فتح مکہ تو یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کی نشانی ہے۔ اس لیے آپ اپنے رب کی حمد اور تسبیح اور اس کی مغفرت طلب کریں کہ وہ توبہ قبول کرنے والا ہے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ جو کچھ تم نے کہا وہی میں بھی سمجھتا ہوں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4294]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ مجھے شیوخِ بدر کے ساتھ بٹھاتے تھے۔ ان میں سے کسی نے کہا: ”آپ اس بچے کو ہمارے ساتھ کیوں بٹھاتے ہیں جبکہ اس جیسے تو ہمارے اپنے بیٹے ہیں؟“ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یہ ان لوگوں میں سے ہے جن کی علمی فضیلت تم لوگ بھی جانتے ہو۔“ چنانچہ ایک دن حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے شیوخِ بدر کو بلایا اور ان کے ساتھ مجھے بھی آنے کی دعوت دی۔ میں سمجھ گیا کہ مجھے اس لیے بلایا گیا تاکہ انہیں میری برتری دکھائیں۔ انہوں نے فرمایا: ”تم لوگ اس سورت کے متعلق کیا جانتے ہو؟ ﴿إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ ﴿١﴾ وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّهِ أَفْوَاجًا ﴿٢﴾ فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِرْهُ ۚ إِنَّهُ كَانَ تَوَّابًا ﴿٣﴾ ﴾ [سورة النصر: 1-3] “ حتی کہ انہوں نے پوری سورت پڑھی۔ ان میں سے کسی نے کہا: ”نصرت و فتح کے بعد ہمیں اللہ کی حمد و ثنا اور اس سے معافی مانگنے کا حکم دیا گیا ہے۔“ کچھ نے کہا: ”ہمیں معلوم نہیں۔“ کچھ تو بالکل خاموش رہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مجھے فرمایا: ”اے ابن عباس! کیا تم بھی اسی طرح کہتے ہو (جس طرح یہ حضرات کہہ رہے ہیں)؟“ میں نے کہا: ”نہیں۔“ آپ نے فرمایا: ”تم کیا کہتے ہو؟“ میں نے کہا: ”اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مدتِ حیات کی اطلاع دی ہے۔ «الْفَتْحُ» سے مراد فتح مکہ ہے، یعنی جب مکہ فتح ہو جائے اور اللہ کی مدد آ جائے تو یہ آپ کی علامتِ وفات ہے، اس لیے آپ اللہ کی حمد کریں اور استغفار کریں۔ بے شک وہ بہت زیادہ توبہ قبول کرنے والا ہے۔“ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں بھی اس آیتِ کریمہ سے وہی جانتا ہوں جو تم جانتے ہو۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4294]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4295
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ شُرَحْبِيلَ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْعَدَوِيِّ: أَنَّهُ قَالَ لِعَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ وَهُوَ يَبْعَثُ الْبُعُوثَ إِلَى مَكَّةَ: ائْذَنْ لِي أَيُّهَا الْأَمِيرُ أُحَدِّثْكَ قَوْلًا قَامَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْغَدَ يَوْمَ الْفَتْحِ سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ وَوَعَاهُ قَلْبِي وَأَبْصَرَتْهُ عَيْنَايَ حِينَ تَكَلَّمَ بِهِ إِنَّهُ حَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ:" إِنْ مَكَّةَ حَرَّمَهَا اللَّهُ، وَلَمْ يُحَرِّمْهَا النَّاسُ، لَا يَحِلُّ لِامْرِئٍ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ يَسْفِكَ بِهَا دَمًا، وَلَا يَعْضِدَ بِهَا شَجَرًا، فَإِنْ أَحَدٌ تَرَخَّصَ لِقِتَالِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا، فَقُولُوا لَهُ: إِنَّ اللَّهَ أَذِنَ لِرَسُولِهِ وَلَمْ يَأْذَنْ لَكُمْ، وَإِنَّمَا أَذِنَ لِي فِيهَا سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ، وَقَدْ عَادَتْ حُرْمَتُهَا الْيَوْمَ كَحُرْمَتِهَا بِالْأَمْسِ، وَلْيُبَلِّغْ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ"، فَقِيلَ لِأَبِي شُرَيْحٍ: مَاذَا قَالَ لَكَ عَمْرٌو؟ قَالَ: قَالَ: أَنَا أَعْلَمُ بِذَلِكَ مِنْكَ يَا أَبَا شُرَيْحٍ، إِنَّ الْحَرَمَ لَا يُعِيذُ عَاصِيًا، وَلَا فَارًّا بِدَمٍ، وَلَا فَارًّا بِخَرْبَةٍ، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ: الْخَرْبَةُ: الْبَلِيَّةُ.
ہم سے سعید بن شرحبیل نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا ‘ ان سے مقبری نے کہ ابوشریح عدوی رضی اللہ عنہ نے (مدینہ کے امیر) عمرو بن سعید سے کہا جب کہ عمرو بن سعید (عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کے خلاف) مکہ کی طرف لشکر بھیج رہے تھے کہ اے امیر! مجھے اجازت دیجئیے کہ میں آپ سے ایک حدیث بیان کروں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دوسرے دن ارشاد فرمائی تھی۔ اس حدیث کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرما رہے تھے تو میں اپنی آنکھوں سے آپ کو دیکھ رہا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی اور پھر فرمایا ‘ بلاشبہ مکہ کو اللہ تعالیٰ نے حرمت والا شہر قرار دیا ہے کسی انسان نے اسے اپنے طرف سے حرمت والا قرار نہیں دیا۔ اس لیے کسی شخص کے لیے بھی جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو ‘ جائز نہیں کہ اس میں کسی کا خون بہائے اور کوئی اس سر زمیں کا کوئی درخت کاٹے اور اگر کوئی شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے (فتح مکہ کے موقع پر) جنگ سے اپنے لیے بھی رخصت نکالے تو تم اس سے کہہ دینا کہ اللہ تعالیٰ نے صرف اپنے رسول کو (تھوڑی دیر کے لیے) اس کی اجازت دی تھی۔ ہمارے لیے بالکل اجازت نہیں ہے اور مجھے بھی اس کی اجازت دن کے تھوڑے سے حصے کے لیے ملی تھی اور آج پھر اس کی حرمت اسی طرح لوٹ آئی ہے جس طرح کل یہ شہر حرمت والا تھا۔ پس جو لوگ یہاں موجود ہیں وہ (ان کو میرا کلام) پہنچا دیں جو موجود نہیں۔ ابوشریح سے پوچھا گیا کہ عمرو بن سعید نے آپ کو پھر جواب کیا دیا تھا؟ تو انہوں نے بتایا کہ اس نے کہا کہ میں یہ مسائل تم سے زیادہ جانتا ہوں ‘ حرم کسی گنہگار کو پناہ نہیں دیتا ‘ نہ کسی کا خون کر کے بھاگنے والے کو پناہ دیتا ہے ‘ مفسد کو بھی پناہ نہیں دیتا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4295]
حضرت ابو شریح عدوی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے عمرو بن سعید سے کہا جب وہ مکہ میں لشکر بھیج رہا تھا: ”اے امیر! اگر مجھے اجازت ہو تو میں تم سے ایک حدیث بیان کروں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے اگلے روز فرمائی تھی۔ میرے کانوں نے وہ سنا، میرے دل نے اسے محفوظ کیا اور میری آنکھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا جب آپ گفتگو کر رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کی، پھر فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے مکہ کو حرام ٹھہرایا ہے، لوگوں نے اسے حرام قرار نہیں دیا۔ اللہ پر ایمان اور قیامت پر یقین رکھنے والے کسی شخص کے لیے جائز نہیں کہ وہ اس (مکے) میں خونریزی کرے اور اس کے کسی درخت ہی کو کاٹے۔ اگر کوئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قتال و جنگ سے رخصت ثابت کرنا چاہے تو اسے کہہ دو: بیشک اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اجازت دی تھی تمہیں اجازت نہیں دی۔ اور میرے لیے بھی دن کی ایک گھڑی میں اس کی اجازت تھی، پھر آج سے اس کی حرمت وہی ہو گئی ہے جیسے کل تھی۔ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:) جو شخص یہاں موجود ہے وہ غائب کو یہ خبر پہنچا دے۔““ حضرت ابو شریح رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا گیا: پھر عمرو بن سعید نے آپ کو کیا جواب دیا؟ انہوں نے کہا: اس نے مجھے یہ جواب دیا: ”اے ابو شریح! میں یہ حدیث تم سے زیادہ جانتا ہوں۔ حرم مکہ کسی مجرم کو پناہ نہیں دیتا اور نہ کسی قاتل ہی کو جو کسی کا خون بہا کر بھاگ آئے اور نہ کسی فسادی کو جو فساد برپا کر کے بھاگ آئے۔“ ابو عبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) نے فرمایا: لفظ «خَرْبَة» کے معنی ہیں: خرابی کرنے والا، یعنی مجرم۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4295]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4296
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" عَامَ الْفَتْحِ وَهُوَ بِمَكَّةَ إِنَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ حَرَّمَ بَيْعَ الْخَمْرِ".
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے لیث نے بیان کیا ‘ ان سے یزید بن ابی حبیب نے ‘ ان سے عطاء بن ابی رباح نے اور ان سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فتح مکہ کے موقع پر مکہ مکرمہ میں فرمایا تھا کہ اللہ اور اس کے رسول نے شراب کی خرید و فروخت مطلق حرام قرار دے دی ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4296]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فتح مکہ کے موقع پر مکہ مکرمہ میں فرما رہے تھے: ”اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے شراب کی خریدوفروخت کو حرام قرار دیا ہے۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4296]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة