🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
مسند عبدالرحمن بن عوف سے متعلقہ
تمام کتب
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

14. المشايخ،عن عبدالرحمٰن رضى الله عنه
مشایخ کی عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ سے روایت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 33
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَأَلَ عُمَرُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ عَنِ الْمَجُوسِ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم يَقُولُ: سُنُّوا بِهِمْ سُنَّةَ أَهْلِ الْكِتَابِ.
جناب جعفر نے اپنے باپ محمد سے بیان کیا، انہوں نے کہا: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ سے مجوسیوں کے بارے میں پوچھا (کہ ان کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے؟) تو انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ان سے اہل کتاب والا معاملہ کرو۔ [مسند عبدالرحمن بن عوف/حدیث: 33]
تخریج الحدیث: «مسند شافعي 1008: 209/1، مصنف ابن ابي شيبه 32651: 430/6، مصنف عبدالرزاق 10025: 68-69/6، مسند ابويعلي 862: 168/2»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 34
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، ذَكَرَ الْمَجُوسَ فَقَالَ: مَا أَدْرِي كَيْفَ أَصْنَعُ فِي أَمْرِهِمْ؟ فَقَالَ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ: أَشْهَدُ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم يَقُولُ: «سُنُّوا بِهِمْ سُنَّةَ أَهْلِ الْكِتَابِ» .
جناب جعفر اپنے باپ محمد سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مجوس کا ذکر کیا اور کہا: مجھے معلوم نہیں کہ ان کے ساتھ کیا معاملہ کروں؟ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے انہیں کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ان کے ساتھ وہی سلوک کرو جو اہل کتاب کے ساتھ کرتے ہو۔ [مسند عبدالرحمن بن عوف/حدیث: 34]
تخریج الحدیث: «سنن الكبري للبيهقي 189/9، مسند بزار رقم: 1056، ارواء الغليل 308/7»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 35
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ وَهُوَ فِي مَجْلِسٍ بَيْنَ الْقَبْرِ وَالْمِنْبَرِ: مَا أَدْرِي كَيْفَ أَصْنَعُ فِيَ الْمَجُوسِ؟ فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ يَقُولُ: «سُنُّوا بِهِمْ سُنَّةَ أَهْلِ الْكِتَابِ» .
جعفر اپنے باپ محمد سے بیان کرتے ہیں، انہوں نے کہا: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ منبر اور قبر اطہر کے درمیان والی جگہ پر بیٹھے ہوئے تھے اور کہہ رہے تھے: مجھے معلوم نہیں کہ میں مجوس کے ساتھ کیا معاملہ کروں؟ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ان کے بارے میں وہی طریقہ اپناؤ جو اہل کتاب کے بارے میں اپناتے ہو۔ [مسند عبدالرحمن بن عوف/حدیث: 35]
تخریج الحدیث: «معرفته الصحابه لابه نعيم: 493، 395/1، التلخيص الحبير: 172/3، نصب الرايه للزيلعي: 449/3»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 36
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، أَنَّهُ سَمِعَ بَجَالَةَ، يُحَدِّثُ أَبَا الشَّعْثَاءِ وَعَمْرَو بْنَ أَوْسٍ الثَّقَفِيَّ عَامَ حَجِّ مُصْعَبِ بْنِ الزُّبَيْرِ وَهُوَ جَالِسٌ إِلَى دَرَجِ زَمْزَمَ سَنَةَ سَبْعِينَ قَالَ: كُنْتُ كَاتِبًا لِجَزْءِ بْنِ مُعَاوِيَةَ عَمِّ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ، فَأَتَانَا كِتَابُ عُمَرَ قَبْلَ مَوْتِهِ بِسَنَةٍ اقْتُلُوا كُلَّ سَاحِرٍ وَكَاهِنٍ، وَفَرِّقُوا بَيْنَ كُلِّ ذِي مُحْرِمٍ مِنَ الْمَجُوسِ، وَامْنَعُوهُمْ مِنَ الزَّمْزَمَةِ، قَالَ: فَقَتَلْنَا ثَلَاثَةَ سَوَاحِرَ، وَفَرَّقْنَا بَيْنَ كُلِّ رَجُلٍ مِنَ الْمَجُوسِ وَحُرْمَتِهِ فِي كِتَابِ اللَّهِ وَصَنَعَ طَعَامًا كَثِيرًا فَدَعَا مَجُوسَ وَعَرَضَ السَّيْفَ عَلَى فَخِذِهِ فَأَكَلُوا بِغَيْرِ زَمْزَمَةٍ وَأَلْقُوا وَقْرَ بَغْلٍ أَوْ بَغْلَيْنِ مِنْ وَرِقٍ وَلَمْ يَكُنْ عُمَرُ يَأْخُذُ مِنَ الْمَجُوسِ الْجِزْيَةِ حَتَّى شَهِدَ عِنْدَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم أَخَذَهَا مِنْ مَجُوسِ هَجَرَ.
بجالہ نے ابوشعثاء اور عمرو بن اوس ثقفی کو بیان کرتے ہوئے سنا اور یہ اس سال کا واقعہ ہے جس سال مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ نے بصرہ والوں کے ساتھ حج کیا یعنی سن ستر ہجری میں آپ زمزم کی سیڑھی پر بیٹھے ہوئے تھے، کہتے ہیں ان دنوں میں جزء بن معاویہ احنف بن قیس کے چچا کا کاتب تھا تو عمر رضی اللہ عنہ کی وفات سے ایک سال قبل ان کا خط آیا کہ ہر جادوگر اور کاہن کو قتل کر دو اور جس مجوسی نے اپنی محرم عورت کو بیوی بنایا ہو تو ان کے درمیان جدائی ڈال دو اور زمزم سے انہیں روکو، کہتے ہیں کہ کہا: ہم نے تین جادوگروں کو قتل کیا اور ہر مجوسی آدمی اور کتاب اللہ کے مطابق اس کی ذی محرم بیوی کے درمیان جدائی ڈالی اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مجوسیوں سے جزیہ نہیں لیا تھا، لیکن جب عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے گواہی دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجر کے پارسیوں سے جزیہ لیا تھا۔ (تو وہ بھی لینے لگے تھے) [مسند عبدالرحمن بن عوف/حدیث: 36]
تخریج الحدیث: «صحيح بخاري، كتاب الخمس، باب الجزية والموادعة، رقم: 3156، سنن ابوداؤد، كتاب الخراج، باب فى اخذ الجزية من المجوس، رقم 3043، مسند احمد: 190/1، مسند ابي يعلي، رقم: 860»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 37
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبَانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَارِظٍ، أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ يَعُودُهُ وَهُوَ مَرِيضٌ فَقَالَ لَهُ: وَصَلَتْكَ رَحِمٌ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم يَقُولُ: قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: «أَنَا الرَّحْمَنُ وَالرَّحِمُ مِنِّي اشْتَقَقْتُهَا مِنَ اسْمِي فَمَنْ يَصِلْهَا أَصِلْهُ وَمَنْ يَقْطَعْهَا أَقْطَعْهُ» .
جناب ابراہیم بن عبداللہ بن قارظ نے بیان کیا کہ وہ سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کے پاس بیمار پرسی کے لیے آئے۔ وہ اس وقت بیمار تھے تو (عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے) انہیں کہا: تجھے صلہ رحمی کا عمل ملائے۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: اللہ عزوجل نے فرمایا: میں رحمٰن ہوں اور رحم مجھ سے ہے، میں نے اسے اپنے نام سے نکالا ہے، جو اسے ملائے گا میں اسے ملاؤں گا اور جو اسے کاٹے گا میں اسے کاٹ ڈالوں گا۔ [مسند عبدالرحمن بن عوف/حدیث: 37]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث الذى بعده»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 38
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَارِظٍ، أَنَّ أَبَاهُ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ، دَخَلَ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ يَعُودُهُ فَقَالَ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: وَصَلَتْكَ رَحِمٌ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم يَقُولُ: قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: أَنَا الرَّحْمَنُ وَهِيَ الرَّحِمُ شَقَقْتُ لَهَا اسْمًا مِنَ اسْمِي فَمَنْ وَصَلَهَا وَصَلْتُهُ، وَمَنْ قَطَعَهَا قَطَعْتُهُ أَوْ قَالَ: مَنْ يَبُتُّهَا أَبُتُّهُ".
عبداللہ بن قارظ روایت کرتے ہیں کہ وہ سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کی بیمار پرسی کے لیے ان کے پاس تشریف لے گئے، سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے انہیں کہا: صلہ رحمی تجھے ملائے۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: اللہ عزوجل نے فرمایا: میں رحمٰن ہوں اور رحم کو میں نے اپنے نام سے نکالا ہے، جس نے اسے ملایا، میں اسے ملاؤں گا اور جس نے اسے کاٹا میں اسے کاٹوں گا۔ یا (یہ الفاظ استعمال کیے) «مَن بَتَّهَا أَبَتُّهُ» [مسند عبدالرحمن بن عوف/حدیث: 38]
تخریج الحدیث: «سنن ابوداؤد، كتاب الزكاة، باب فى صلة الرحم، رقم: 1694 مسند احمد: 498/2، مسند ابي يعلي، رقم: 5953، مسند بزار، 992-206/3»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 39
حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْيَشْكُرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقُرَشِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم قَالَ: «ثَلَاثٌ تَحْتَ الْعَرْشِ يَومَ الْقِيَامَةِ، الْقُرْآنُ وَالرَّحِمُ تُنَادِي أَلَا مَنْ وَصَلَنِي وَصَلَهُ اللَّهُ، وَمَنْ قَطَعَنِي قَطَعَهُ اللَّهُ» .
سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف القرشی رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین چیزیں قیامت کے دن عرش کے نیچے ہوں گی، (ایک) قرآن اور (دوسرے) صلہ رحمی آواز دے گی، خبردار! جس نے مجھے ملایا اللہ اسے ملائے گا اور جس نے مجھے کاٹا اللہ اسے کاٹ ڈالے گا۔ [مسند عبدالرحمن بن عوف/حدیث: 39]
تخریج الحدیث: «تقدم تخريجه رقم: 28»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 40
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَفْصٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ مَولَى أَبِي مَرَّةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُ كَانَ قَاعِدًا مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، فَمَرَّ بِلَالٌ، فَدَعُوهُ فَسَأَلُوهُ عَنْ وُضُوءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم فَقَالَ: «كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يأَتِي الْحَاجَةَ فَيَدْعُونِي فَآتِيهِ بِالْمَاءِ، فَيَمْسَحُ عَلَى مُوقَيْهِ وَعِمَامَتِهِ» .
جناب ابوعبدالرحمٰن روایت کرتے ہیں کہ وہ سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، اچانک سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کا گزر ہوا، انہوں نے بلال رضی اللہ عنہ کو بلایا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کے بارے میں استفسار کیا، انہوں نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قضاء حاجت کے لیے آتے تو مجھے بلاتے، میں ان کے پاس پانی لاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے عمامہ اور موزوں پر مسح فرماتے۔ [مسند عبدالرحمن بن عوف/حدیث: 40]
تخریج الحدیث: «سنن ابوداؤد كتاب الطهارة، باب المسح على الخفين، رقم: 153، سنن الكبري للبيهقي: 288/1، مصنف ابن ابي شيبه: 167/1، 1929، مستدرك حاكم: 170/1، معجم كبير للطبراني: 359/1، 1100/360، 1101»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 41
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُمَرُ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي قَاصُّ فِلَسْطِينَ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ، يَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم قَالَ:" ثَلَاثٌ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم بِيَدِهِ إِنْ كُنْتُ حَالِفًا عَلَيْهِنَّ: لَا يَنْقُصُ مَالٌ مِنْ صَدَقَةٍ فَتَصَدَّقُوا، وَلَا يَعْفُو عَبْدٌ عَنْ مَظْلَمَةٍ يَبْتَغِي بِهَا وَجْهَ اللَّهِ جَلَّ وَعَزَّ إِلَّا رَفَعَهُ اللَّهُ بِهَا عِزًّا يَومَ الْقِيَامَةِ، وَلَا يَفْتَحُ عَبْدٌ بَابَ مَسْأَلَةٍ إِلَّا فَتْحَ اللَّهُ عَلَيْهِ بَابَ فَقْرٍ".
فلسطین کے کسی قصہ گو شخص نے بیان کیا، کہا کہ میں نے سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! میں حلف اٹھا کہ کہتا ہوں: مال صدقہ کرنے سے کم نہیں ہوتا، لہٰذا صدقہ کیا کرو، اگر کوئی آدمی ظلم کے بدلے معاف کر دیتا ہے تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے عزت میں بلندی دے گا بشرطیکہ اللہ تعالیٰ کی رضامندی مطلوب ہو اور اگر کوئی آدمی بھیک مانگنا شروع کر دے تو اللہ تعالیٰ اس پر فقیری کا دروازہ کھول دیتا ہے۔ [مسند عبدالرحمن بن عوف/حدیث: 41]
تخریج الحدیث: «مسند احمد: 193/1، مسند ابي يعلي، رقم: 849، صحيح ترغيب و ترهيب: 814، معجم صغير طبراني، رقم: 142»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 42
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي قَاصُّ فِلَسْطِينَ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم يَقُولُ: «وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم بِيَدِهِ إِنْ كُنْتُ لَحَالِفًا عَلَيْهِنَّ لَا يَنْقُصُ مَالٌ مِنْ صَدَقَةٍ فَتَصَدَّقُوا، وَلَا يَعْفُو رَجُلٌ عَنْ مَظْلَمَةٍ يَبْتَغِي بِهَا وَجْهَ اللَّهِ تَعَالَى إِلَّا رَفَعَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهَا عِزًّا يَومَ الْقِيَامَةِ، وَلَا يَفْتَحُ رَجُلٌ عَلَى نَفْسِهِ بَابَ مَسْأَلَةٍ إِلَّا فَتْحَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْهِ بَابَ فَقْرٍ» .
فلسطین کے کسی قصہ گو شخص نے بیان کیا، کہا کہ سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے، اگر ان چیزوں پر میں حلف اٹھاؤں (تو میری بات درست ہے)، صدقہ کرنے سے مال کم نہیں ہوتا، اگر کوئی آدمی محض اللہ رب العزت کی رضامندی کی خاطر کسی ظلم کے بدلے درگزر کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی عزت بلند کرے گا اور اگر کوئی آدمی بھیک مانگنا شروع کر دیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس پر فقر کا دروازہ کھول دیتا ہے۔ [مسند عبدالرحمن بن عوف/حدیث: 42]
تخریج الحدیث: «مسند احمد: 193/1، مسند ابي يعلي، رقم: 849، صحيح ترغيب و ترهيب: 814، معجم صغير طبراني، رقم: 142»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں