مسند اسحاق بن راهويه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
مومن کے ساتھ اللہ کی رضا کے لیے تعلق ہونا چاہئیے
حدیث نمبر: 67
أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ: قَالَ صَعْصَعَةُ بْنُ صُوحَانَ لِابْنِ يَزِيدَ: أَنَا كُنْتُ أَحَبَّ إِلَى أَبِيكَ مِنْكَ، وَأَنْتَ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنِ ابْنِي، خَصْلَتَانِ أُوصِيكَ بِهِمَا فَاحْفَظْهُمَا مِنِّي، خَالِصِ الْمُؤْمِنِينَ وَخَالِقِ الْفَاجِرَ فَإِنَّ الْفَاجِرَ يَرْضَى مِنْكَ بِالْخُلُقِ الْحَسَنِ، وَإِنَّهُ يَحَقُّ عَلَيْنَا أَنْ نُخَالِصَ الْمُؤْمِنَ".
صعصعہ بن صوحان نے ابوزید سے کہا: میں تمہاری والدہ کو تم سے زیادہ محبوب نہیں ہوں، جبکہ تم میری والدہ کو مجھ سے زیادہ محبوب ہو، دو خصلتیں ہیں میں تمہیں ان کی وصیت کرتا ہوں، پس انہیں مجھ سے یاد کر لو، مومن شخص سے خالص دوستی رکھو، فاجر شخص سے اچھا برتاؤ کرو، کیونکہ فاجر شخص اچھے اخلاق کے ذریعے تمہاری بات قبول کرے گا، اور مومن تجھ سے حق رکھتا ہے کہ تم اس سے خالص دوستی رکھو۔ [مسند اسحاق بن راهويه/كتاب الايمان/حدیث: 67]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح . شعيب الايمان: 267/6، رقم: 8106 . مصنف ابن ابي شيبه: 293/5 . مسند عبدالرزاق 310/2، رقم: 291»