مسند اسحاق بن راهويه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
جنازے میں شرکت کی فضیلت
حدیث نمبر: 244
أَخْبَرَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، ثنا عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْمُهَزِّمِ، يَقُولُ: صَحِبْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ عَشْرَ سِنِينَ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (مَنِ اتَّبَعَ جِنَازَةً فَحَمَلَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَقَدْ قَضَى مَا عَلَيْهِ مِنْ حَقِّهَا) ) .
عباد بن منصور نے کہا: میں نے ابوالمھزم کو بیان کرتے ہوئے سنا: میں دس سال سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ رہا، میں نے انہیں بیان کرتے ہوئے سنا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جس نے کسی جنازے میں شرکت کی اور تین بار اسے اٹھایا تو اس نے اس (جنازے) کا وہ حق ادا کر دیا جو اس کے ذمے تھا۔“ [مسند اسحاق بن راهويه/كتاب الجنائز/حدیث: 244]
تخریج الحدیث: «ترمذي، كتاب الجنائز، باب آخر، رقم: 1041، قال الشيخ الالباني: ضعيف»
حدیث نمبر: 245
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، نا عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي الْمُهَزِّمِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ( (مَنْ تَبِعَ جِنَازَةً يَحْمِلُهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَقَدْ أَدَّى مَا عَلَيْهِ مِنْ حَقِّهَا) ) .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے جنازے میں شرکت کی اور تین بار اسے اٹھایا تو اس کا اس کے ذمے جو حق تھا اس نے اسے ادا کر دیا۔“ [مسند اسحاق بن راهويه/كتاب الجنائز/حدیث: 245]
تخریج الحدیث: «السابق»
حدیث نمبر: 246
أَخْبَرَنَا النَّضْرُ، أنا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جِنَازَةٍ، كُنْتُ إِذَا مَشَيْتُ سَبَقَنِي فَأُهَرْوِلُ، فَإِذَا هَرْوَلْتُ سَبَقْتُهُ، فَقَالَ رَجُلٌ إِلَى جَنْبِي: ( (إِنَّ الْأَرْضَ تُطْوَى لَهُ) ) .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا: میں ایک جنازے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا جب میں چلتا تو آپ مجھ سے آگے نکل جاتے اور پھر میں تیز تیز چلنے لگا، جب میں تیز تیز چلنے لگا تو میں آپ سے آگے نکل گیا، میرے پہلو میں ایک آدمی تھا، اس نے کہا: زمین آپ کے لیے لپیٹی جا رہی ہے۔ [مسند اسحاق بن راهويه/كتاب الجنائز/حدیث: 246]
تخریج الحدیث: «مسند احمد: 258/2 . قال شعيب الارناوط: حسن»