🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند اسحاق بن راهويه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند اسحاق بن راهويه میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (981)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

نمازِ جنازہ کا طریقہ اور دعائیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 251
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الدِّمَشْقِيُّ، نا أَبُو بَلْجٍ، وَهُوَ يَحْيَى بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ الْجُلَاسُ، يُحَدِّثُ أَنَّ مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ، مَرَّ عَلَى أَبِي هُرَيْرَةَ وَهُوَ يُحَدِّثُ، فَقَالَ بَعْضٌ: حَدِّثْنَا يَا أَبَا هُرَيْرَةَ، فَقَالَ: دَعْنَا مِنْكَ يَا مَرْوَانُ، قَالَ: ثُمَّ رَجَعَ فَقَالَ لَهُ: كَيْفَ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْجِنَازَةِ؟ فَقَالَ: أَتَعُدُّ مَا قُلْتُ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: يَقُولُ ( (اللَّهُمْ أَنْتَ خَلَقْتَهَا وَأَنْتَ قَبَضْتَ رُوحَهَا وَأَنْتَ هَدَيْتَهَا لِلْإِسْلَامِ وَأَنْتَ تَعْلَمُ سِرَّهَا وَعَلَانِيَتَهَا، جِئْنَا شُفَعَاءَ فَاغْفِرْ لَهُ) ) .
جلاس بیان کرتے ہیں: مروان بن حکم، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے جبکہ وہ حدیث بیان کر رہے تھے تو انہوں نے کہا: ابوہریرہ! اپنی بات، حدیث کے حصے کرو، انہوں نے فرمایا: مروان! ہمیں اپنی طرف سے چھوڑ دو، راوی نے بیان کیا، پھر وہ واپس آئے تو انہیں کہا: آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز جنازہ میں کس طرح دعا کرتے ہوئے سنا ہے؟ انہوں نے فرمایا: جو میں نے کہا، کیا تو اسے شمار کرتا ہے؟ اس نے کہا: ہاں، فرمایا: آپ یہ دعا کرتے تھے: ”اے اللہ! تو نے اسے پیدا فرمایا، تو نے اس کی روح قبض کی، تو نے اس کی اسلام کی طرف راہنمائی فرمائی، تو اس کے ظاہر و باطن کو خوب جانتا ہے، ہم سفارشی بن کر آئے ہیں پس اس کی مغفرت فرما دے۔“ [مسند اسحاق بن راهويه/كتاب الجنائز/حدیث: 251]
تخریج الحدیث: «سن ابوداود، كتاب الجنائز، باب الدعاء للميث، رقم: 3200 . مسند احمد: 245/2 . قال ابن حجر: اسناده حسن .»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 252
أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِيدِ هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، نا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي الْجُلَاسِ، قَالَ: سَمِعْتُ عُثْمَانَ بْنَ شَمَّاسٍ، رَجُلًا مِنْ قَوْمِهِ قَالَ: أَرْسَلَنِي سَعِيدُ بْنُ الْعَاصِ إِلَى الْمَدِينَةِ فَكُنْتُ مَعَ مَرْوَانَ، فَمَرَّ أَبُو هُرَيْرَةَ قَالَ: بَعْضَ حَدِيثِكَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ، ثُمَّ سَأَلَهُ كَيْفَ رَأَيْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي عَلَى الْجِنَازَةِ؟ فَيَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي عَلَى الْجِنَازَةِ فَيَقُولُ: ( (اللَّهُمَّ أَنْتَ خَلَقْتَهَا، وَأَنْتَ هَدَيْتَهَا لِلْإِسْلَامِ، وَأَنْتَ قَبَضْتَ رُوحَهَا تَعْلَمُ سِرَّهَا وَعَلَانِيَتَهَا جِئْنَاكَ شُفَعَاءَ فَاغْفِرْ لَهُ) ) .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز جنازہ پڑھتے تو آپ یہ دعا کیا کرتے تھے: ”اے اللہ! تو نے اسے پیدا فرمایا، تو نے اس کی اسلام کی طرف راہنمائی فرمائی، تو نے اس کی روح قبض فرمائی، تو ہی اس کے مخفی و علانیہ حالات سے واقف ہے، ہم سفارشی بن کر تیری خدمت میں حاضر ہوئے ہیں پس تو اسے بخش دے۔“ [مسند اسحاق بن راهويه/كتاب الجنائز/حدیث: 252]
تخریج الحدیث: «السابق»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں