🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند اسحاق بن راهويه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند اسحاق بن راهويه میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (981)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

مالِ غنیمت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 536
اَخْبَرَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَیْمَانَ التَّیْمِیُّ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ اَبِیْ هِنْدٍ، یُحَدِّثُ عَنْ عِکْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ مَنْ فَعَلَ کَذَا وَکَذَا، اَوْ اَتٰی کَذَا وَکَذَا، فَتَسَارِعُ الشَّبَّانُ اِلٰی ذٰلِكَ، وَثَبَتَ الشُّیُوْخُ تَحْتَ الرَّأْیَاتِ، فَلَمَّا اَنْ فَتَحَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ جَاءَ الشَّبَّانُ یَطْلُبُوْنَ مَا جَعَلَ لَهُمْ، وَقَالَتِ الشُّیُوْخُ: اِنَّا کُنَّا رِدَءًالَکُمْ، وَکُنَّا تَحْتَ الرَّأْیَاتِ، فَاَنْزَلَ اللّٰهُ عَزَّوَجَلَّ ﴿یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الْاَنْفَالِ قُلِ الْاَنْفَالُ لِلّٰهِ وَالرَّسُوْلِ فَاتَّقُوْا اللّٰهَ وَاَصْلِحُوْا ذَاتَ بَیْنِکُمْ﴾ الآیة.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے یہ اور یہ کیا، تو نوجوانوں نے اس کی طرف سبقت کی، اور شیوخ (بڑی عمر والے) پرچموں تلے ثابت قدم رہے، جب اللہ نے انہیں فتح عطا فرمائی تو نوجوان آئے اور ان کے لیے جو مقرر کیا گیا تھا، اس کا مطالبہ کرنے لگے اور بڑی عمر والوں نے کہا: ہم تمہارے معاون تھے اور ہم پرچموں تلے تھے، تو اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: وہ تم سے مال غنیمت کے متعلق پوچھتے ہیں، آپ فرما دیجئیے: مال غنیمت اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہے، پس اللہ سے ڈرو اور آپس میں معاملات درست رکھو۔“ [مسند اسحاق بن راهويه/كتاب الجهاد/حدیث: 536]
تخریج الحدیث: «سنن ابوداود، كتاب الجهاد، باب النفل، رقم: 2738، 2737 قال الالباني: صحيح . مستدرك حاكم: 143/2 . سنن كبري بيهقي: 291/6 .»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 537
اَخْبَرَنَا عَبْدُالْاَعْلٰی، نَا دَاوٗدُ بْنُ اَبِیْ هِنْدٍ، عَنْ عِکْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مِثْلَهٗ، وَزَادَ، قَالَتْ: اِنَّا کُنَّا رِدءًالَکُمْ، وَلَوْ اِنْکَشَفْتُمْ اِنْکَشَفْتُمْ لَنَا.
عکرمہ نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اسی مثل روایت کیا ہے، اور یہ اضافہ نقل کیا: ہم تمہارے معاون تھے اگر تم ظاہر ہوئے تو ہماری خاطر ظاہر ہوئے ہو۔ [مسند اسحاق بن راهويه/كتاب الجهاد/حدیث: 537]
تخریج الحدیث: «تفسير طبري: 172/9 . انظر ما قبله .»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 538
اَخْبَرَنَا یَحْیَی بْنُ آدَمَ، نَا ابْنُ اَبِیْ زَائِدَةَ، عَنْ دَاوٗدَ بْنِ اَبِیْ هِنْدٍ، عَنْ عِکْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ یَوْمَ بَدْرٍ قَالَ: مَنْ صَنَعَ کَذَا وَکَذَا، فَلَهٗ کَذَا وَکَذَا، فَذَهَبَ شَبَانُ الرِّجَالِ، وَثَبَتَ الشُّیُوْخُ تَحْتَ الرَّأْیَاتِ، فَلَمَّا اَنْ فَتَحَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ جَاءَ الشَّبَانُ یَطْلُبُوْنَ نَفْلَهُمْ، وَقَالَتِ الشُّیُوْخُ: اِنَّا کُنَّا تَحْتَ الرَّأیَاتِ، وَقَدْ کُنَّا رِدَءًالَکُمْ لَوْ اِنْهَزَمْتُمْ، (فَـلَا) تَسْتَأْثِرُوْا عَلَیْنَا، فَاَنْزَلَ اللّٰهِ: ﴿یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الْاَنْفَالِ قُلِ الْاَنْفَالُ لِلّٰهِ﴾ تَلَا حَتَّی بَلَغَ ﴿کَمَا اَخْرَجَكَ رَبُّكَ مِنْ بَیْتِكَ بِالْحَقِّ وَاِنَّ فَرِیْقًا مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ لَکٰرِهُوْنَ﴾ فَقَسَمَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ بَیْنَهُمْ بِالسَّوِیَّةِ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ بدر کے موقع پر فرمایا تھا: ”جو یہ کارنامہ سرانجام دے گا، تو اس کے لیے یہ انعام ہو گا۔“ پس نوجوان افراد چلے گئے، جبکہ بڑی عمر والے پرچموں تلے جمے رہے، پس جب اللہ نے انہیں فتح عطا فرمائی، تو نوجوان آئے اور مال غنیمت کا مطالبہ کرنے لگے، جبکہ بڑی عمر والوں نے کہا: ہم پرچموں تلے تھے اور ہم تمہارے معاون تھے، اگر تم شکست کھا جاتے، تو پھر تم ہم پر ترجیح نہ دیتے، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ”وہ آپ سے مال غنیمت کے متعلق پوچھتے ہیں، فرما دیجئیے: مال غنیمت اللہ کے لیے ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (سورۃ الانفال ابتداء سے) تلاوت فرمائی حتیٰ کہ یہاں تک پہنچے: ”جس طرح اللہ نے حق کے ساتھ آپ کو آپ کے گھر سے نکالا، جبکہ مومنوں کا ایک گروہ ناپسند کر رہا تھا۔“ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے درمیان مال غنیمت برابر برابر تقسیم فرما دیا۔ [مسند اسحاق بن راهويه/كتاب الجهاد/حدیث: 538]
تخریج الحدیث: «سنن ابوداود، كتاب الجهاد، باب النفل، رقم: 2737، 2739 قال الالباني: صحيح . سنن كبري بيهقي 292/6 .»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں