مسند اسحاق بن راهويه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
سونے کے زیور کا بیان
حدیث نمبر: 701
أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ أَبِي الْجَهْمِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَتْهُ امْرَأَةٌ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَسِوَارَانِ مِنْ ذَهَبٍ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ( (أَسِوَارَانِ مِنْ نَارٍ) ) ، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ: قُرْطَانِ مِنْ ذَهَبٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ( (قُرْطَانِ مِنْ نَارٍ) ) ، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ الْمَرْأَةَ إِذَا لَمْ تَزَّيَّنَ لِزَوْجِهَا صَلِفَتْ عِنْدَهُ، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ( (فَمَا يَمْنَعُكُنَّ أَنْ تَجْعَلَ قُرْطَيْنِ مِنْ فِضَّةٍ وَتُصَفِّرِيهِ بِعَبِيرٍ أَوْ زَعْفَرَانٍ فَيَكُونَ كَأَنَّهُ ذَهَبٌ) ) .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھا کہ ایک عورت آپ کے پاس آئی، اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! سونے کے دو کنگن ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آگ کے دو کنگن ہیں۔“ اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! سونے کی دو بالیاں ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آگ کی دو بالیاں ہیں۔“ اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اگر عورت اپنے شوہر کے لیے زیب و زینت نہ کرے تو وہ اپنے شوہر کے ہاں ناپسندیدہ ہو جائے گی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں کس نے منع کیا ہے کہ تم چاندی کی بالیاں بنا لو اور عبیر (مرکب خوشبو) یا زعفران کے ساتھ انہیں زرد رنگ چڑھا لو تو وہ سونے کی طرح ہو جائیں گی۔“ [مسند اسحاق بن راهويه/كتاب اللباس و الزينة/حدیث: 701]
تخریج الحدیث: «سنن نسائي، كتاب الزينة، باب الكراهية للنساء الخ، رقم: 5142 . مسند احمد: 440/2 . قال الشيخ الالباني وشعيب الارناوط: اسناده ضعيف .»