🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
مسند اسحاق بن راهويه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند اسحاق بن راهويه میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (981)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

کسی کے گھر میں داخل ہونے کے لیے اجازت مانگنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 809
أَخْبَرَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، نا الْأَعْمَشُ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أُمِّ طَارِقٍ مَوْلَاةِ سَعْدٍ قَالَتْ: جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَعْدًا فَاسْتَأْذَنَ، فَسَكَتَ سَعْدٌ، ثُمَّ أَعَادَ فَسَكَتَ، ثُمَّ أَعَادَ فَسَكَتَ، فَانْصَرَفَ، قَالَتْ: فَأَرْسَلَنِي سَعْدٌ إِلَيْهِ، فَأَتَيْتُهُ، فَقُلْتُ لَهُ: إِنَّمَا أَرَدْنَا أَنْ تُزِيدَنَا، فَسَمِعْتُ صَوْتًا بِالْبَابِ يَسْتَأْذِنُ وَلَا أَرَى شَيْئًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ( (مَنْ أَنْتِ؟) ) فَقَالَتْ: أَنَا أُمُّ مُلْدَمٍ، فَقَالَ: ( (لَا مَرْحَبًا بِكِ، وَلَا أَهْلًا أَتُهْدِينَ إِلَيَّ قُبَاءً؟) ) ، قَالَتْ: نَعَمْ، فَقَالَ: ( (ائْتِيهِمْ) ) .
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کی آزاد کردہ لونڈی ام طارق نے بیان کیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سعد رضی اللہ عنہ کے ہاں آئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اندر جانے کے لیے اجازت طلب کی، سیدنا سعد رضی اللہ عنہ خاموش رہے، پھر اجازت طلب کی، وہ پھر خاموش رہے، پھر اجازت طلب کی، وہ پھر خاموش رہے، اور واپس مڑ گئے، تو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بھیجا، میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: ہم نے تو صرف یہی ارادہ کیا کہ آپ ہمیں (سلامتی کی دعا کے حوالے سے) بڑھائیں، انہوں نے کہا: میں نے دروازے پر اجازت طلب کرنے کی آواز سنی، میں نے کوئی چیز نہ دیکھی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم کون ہو؟ اس نے کہا: میں ام ملدم ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے لیے کوئی خوش آمدید نہیں، کیا تم قباء کی طرف راہنمائی کر سکتی ہو؟ اس نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انہیں لے آ۔ [مسند اسحاق بن راهويه/كتاب البر و الصلة/حدیث: 809]
تخریج الحدیث: «مسند احمد: 378/6 . قال شعيب الارناوط: اسناده ضعيف .»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں