مسند اسحاق بن راهويه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
جنت میں جانے والوں کے حسن و قد وقامت کا بیان
حدیث نمبر: 961
أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عُمَارَةَ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (أَوَّلُ زُمْرَةٍ مِنْ أُمَّتِي يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ عَلَى صُورَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ عَلَى صُورَةِ أَشَدِّ كَوْكَبٍ دُرِّيٍّ فِي السَّمَاءِ إِضَاءَةً، لَا يَبُولُونَ وَلَا يَتَغَوَّطُونَ وَلَا يَتْفُلُونَ وَلَا يَمْتَخِطُونَ، أَمْشَاطُهُمُ الذَّهَبُ وَرَشْحُهُمُ الْمِسْكُ، وَمَجَامِرُهُمُ الَأَلُوَّةُ وَأَزْوَاجُهُمُ الْحُورُ وَأَخَلَاقُهُمْ عَلَى خَلْقِ رَجُلٍ وَاحِدٍ عَلَى صُورَةِ أَبِيهِمْ آدَمَ سُتُّونَ ذِرَاعًا) ) .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت میں سے جنت میں جانے والا پہلا گروہ چودھویں رات کے چاند کی صورت پر ہو گا، پھر جو ان کے بعد داخل ہو گا وہ آسمان پر سب سے زیادہ چمکنے والے ستارے کی صورت پر ہو گا، نہ انہیں بول و براز کی حاجت ہو گی نہ وہ تھوکیں گے اور نہ وہ ناک صاف کریں گے، ان کی کنگھیاں سونے کی ہوں گی اور پسینہ کستوری کا ہو گا، ان کے دھونی دان اگر بتی (عود) کے ہوں گے، ان کی ازواج حوریں ہوں گی، اور ان کی تخلیق ایک جیسی ہو گی اپنے باپ آدم علیہ السلام کی طرح ساٹھ ساٹھ (لمبے ہوں گے)۔“ [مسند اسحاق بن راهويه/كتاب الجنة و النار و صفتهما/حدیث: 961]
تخریج الحدیث: «بخاري، رقم: 3327 . مسلم، كتاب الجنة، باب اول زمرة تدخل الجنة الخ، رقم: 2834 . سنن ترمذي، رقم: 2535 . مسند احمد: 230/2 .»