مسند اسحاق بن راهويه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر صلوٰۃ پڑھنے کی فضٰلت
حدیث نمبر: 968
أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ لَيْثِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ، عَنْ كَعْبٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: صَلُّوا عَلَيَّ فَإِنَّ صَلَاتَكُمْ عَلَيَّ زَكَاةٌ لَكُمْ وَسَلُوا اللَّهَ لِيَ الْوَسِيلَةَ قَالَ: فَسُئِلَ عَنِ الْوَسِيلَةِ أَوْ أَخْبَرَهُمْ بِهَا، قَالَ: هِيَ أَعْلَى دَرَجَةٍ فِي الْجَنَّةِ وَلَا يَبْلُغُهَا أَحَدٌ إِلَّا رَجُلٌ وَاحِدٌ أَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَنَا هُوَ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھ پر صلوٰۃ پڑھا کرو، کیونکہ تمہارا مجھ پر صلوٰۃ پڑھنا تمہارے لیے پاکیزگی کا باعث ہے، اور اللہ سے میرے لیے وسیلہ کا سوال کرو۔“ راوی نے بیان کیا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے وسیلے کے متعلق پوچھا: گیا یا آپ نے اس کے متعلق انہیں بتایا، فرمایا: ”وہ جنت میں ایک اعلیٰ درجہ ہے، وہاں تک صرف ایک ہی شخص کی رسائی ہو گی، مجھے امید ہے کہ وہ میں ہوں گا۔“ [مسند اسحاق بن راهويه/كتاب الجنة و النار و صفتهما/حدیث: 968]
تخریج الحدیث: «مسند احمد: 365/2 . قال شعيب الارناوط، اسناده ضعيف .»
حدیث نمبر: 969
أَخْبَرَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ لَيْثًا يُحَدِّثُ، عَنْ كَعْبٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" صَلُّوا عَلَيَّ فَإِنَّهَا زَكَاةٌ لَكُمْ، وَسَلُوا اللَّهَ لِيَ الْوَسِيلَةَ وَهِيَ أَعْلَى دَرَجَةٍ فِي الْجَنَّةِ لَا يُدْرِكُهَا أَوْ قَالَ: لَا يَبْلُغُهَا إِلَّا رَجُلٌ وَاحِدٌ وَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَنَا هُوَ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھ پر صلوٰۃ بھیجو، کیونکہ وہ تمہارے لیے پاکیزگی ہے، اور اللہ سے میرے لیے وسیلے کی درخواست کرو وہ جنت میں ایک اعلیٰ درجہ ہے، وہاں تک صرف ایک ہی آدمی کی رسائی ہو گی اور میں امید کرتا ہوں کہ وہ میں ہی ہوں گا۔“ [مسند اسحاق بن راهويه/كتاب الجنة و النار و صفتهما/حدیث: 969]
تخریج الحدیث: «السابق»