الادب المفرد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
23. بَابُ لاَ يُسَمِّي الرَّجُلُ أَبَاهُ، وَلاَ يَجْلِسُ قَبْلَهُ، وَلاَ يَمْشِي أَمَامَهُ
کوئی آدمی اپنے باپ کو نام لے کر نہ بلائے، اور نہ اس سے پہلے بیٹھے، اور نہ اس کے آگے چلے
حدیث نمبر: 44
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ زَكَرِيَّا، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ , أَوْ غَيْرِهِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ أَبْصَرَ رَجُلَيْنِ، فَقَالَ لأَحَدِهِمَا: مَا هَذَا مِنْكَ؟ فَقَالَ: أَبِي، فَقَالَ: لاَ تُسَمِّهِ بِاسْمِهِ، وَلاَ تَمْشِ أَمَامَهُ، وَلا تَجْلِسْ قَبْلَهُ.
حضرت عروہ بن زبیر رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے دو آدمی کو (اکٹھا) دیکھا تو ایک سے دریافت کیا: اس دوسرے شخص سے تمہارا کیا رشتہ ہے؟ اس نے کہا: یہ میرے والد ہیں۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: انہیں نام لے کر مت بلاؤ، اور نہ ان کے آگے چلو، اور نہ ان کے بیٹھنے سے پہلے (مجلس میں) بیٹھو۔ [الادب المفرد/كِتَابُ الْوَالِدَيْنِ/حدیث: 44]
تخریج الحدیث: «صحيح: مجمع: 137/8، سني: 289»
قال الشيخ الألباني: صحیح