🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الادب المفرد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الادب المفرد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1322)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

183. بَابُ إِصْلاحِ ذَاتِ الْبَيْنِ
آپس کے بگاڑ کو درست کرنے کی فضیلت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 391
حَدَّثَنَا صَدَقَةُ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ‏:‏ ”أَلاَ أُنَبِّئُكُمْ بِدَرَجَةٍ أَفْضَلَ مِنَ الصَّلاَةِ وَالصِّيَامِ وَالصَّدَقَةِ‏؟“‏ قَالُوا‏:‏ بَلَى، قَالَ‏:‏ ”صَلاَحُ ذَاتِ الْبَيْنِ، وَفَسَادُ ذَاتِ الْبَيْنِ هِيَ الْحَالِقَةُ‏.‏“
سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں نماز، روزہ اور صدقہ سے بلند درجہ عمل کے متعلق نہ بتاؤں؟“ صحابہ نے عرض کیا: کیوں نہیں (ضرور بتائیں)۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آپس کے بگاڑ کی اصلاح کرنا۔ اور آپس میں بگاڑ پیدا کرنے کی عادت تو (دین کو) مونڈ کر رکھ دیتی ہے۔“ [الادب المفرد/كِتَابُ/حدیث: 391]
تخریج الحدیث: «صحيح: أخرجه أبوداؤد، كتاب الأدب، باب فى إصلاح ذات البين: 4919 و الترمذي: 2509 - انظر المشكاة: 5038»
قال الشيخ الألباني: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 392
حَدَّثَنَا مُوسَى، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ، قَالَ‏:‏ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ الْحُسَيْنِ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ‏:‏ ‏ ﴿فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَصْلِحُوا ذَاتَ بَيْنِكُمْ‏﴾ [الأنفال: 1] ، قَالَ‏:‏ هَذَا تَحْرِيجٌ مِنَ اللهِ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ أَنْ يَتَّقُوا اللَّهَ وَأَنْ يُصْلِحُوا ذَاتَ بَيْنِهِمْ‏.‏
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے ارشادِ باری تعالیٰ: « ﴿فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَصْلِحُوا ذَاتَ بَيْنِكُمْ﴾ » [الأنفال: 1] ”اللہ سے ڈرو اور اپنے باہمی معاملات کی اصلاح کرو“ کے بارے میں فرمایا: اس میں اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو پابند کر دیا ہے کہ وہ ہر صورت میں اللہ تعالیٰ سے ڈریں اور اپنے معاملات کی اصلاح کریں۔ [الادب المفرد/كِتَابُ/حدیث: 392]
تخریج الحدیث: «صحيح الإسناد موقوفًا و روى نحوه مرفوعًا من حديث ابن عباس: أخرجه ابن أبى شيبة: 34780 و الطبراني فى تفسيره: 384/13 و البيهقي فى شعب الإيمان: 11084 - التعليق الرغيب: 410/3»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد موقوفًا و روى نحوه مرفوعًا من حديث ابن عباس

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں