🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الادب المفرد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الادب المفرد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1322)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

474. بَابُ كَيْفَ رَدُّ السَّلامِ‏؟‏
سلام کا جواب کیسے دیا جائے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1032
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ‏:‏ حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ قَالَ‏:‏ أَخْبَرَنِي حَيْوَةُ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ‏:‏ بَيْنَمَا نَحْنُ جُلُوسٌ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ظِلِّ شَجَرَةٍ بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ، إِذْ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ مِنَ أَجْلَفِ النَّاسِ وَأَشَدِّهِمْ فَقَالَ‏:‏ السَّلامُ عَلَيْكُمْ، فَقَالُوا‏:‏ ”وَعَلَيْكُمُ‏.‏“
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ہم مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک درخت کے سائے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے تھے کہ ایک بداخلاق اور سخت مزاج بدوی آیا تو اس نے کہا: «السلام علیکم» ! انہوں نے کہا: ”وعلیکم“۔ [الادب المفرد/كِتَابُ السَّلامِ/حدیث: 1032]
تخریج الحدیث: «صحيح: تفرد به المصنف»
قال الشيخ الألباني: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1033
حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ عُمَرَ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ، سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ إِذَا سُلِّمَ عَلَيْهِ يَقُولُ‏:‏ وَعَلَيْكَ، وَرَحْمَةُ اللهِ‏.‏
ابو جمرہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا کہ جب انہیں سلام کہا جاتا تو جواب دیتے: «وعلیک ورحمۃ الله» ۔ [الادب المفرد/كِتَابُ السَّلامِ/حدیث: 1033]
تخریج الحدیث: «صحيح: تفرد به المصنف»
قال الشيخ الألباني: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1034
قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ‏:‏ وَقَالَتْ قَيْلَةُ‏:‏ قَالَ رَجُلٌ‏:‏ السَّلاَمُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ‏:‏ ”وَعَلَيْكَ السَّلاَمُ وَرَحْمَةُ اللهِ‏.‏“
سیدنا قیلہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ایک آدمی نے کہا: «السلام علیک یا رسول اللہ» ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وعلیک السلام ورحمۃ الله“۔ [الادب المفرد/كِتَابُ السَّلامِ/حدیث: 1034]
تخریج الحدیث: «حسن صحيح: جامع الترمذي، الأدب، حديث: 2814»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1035
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلاَلٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ‏:‏ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ فَرَغَ مِنْ صَلاَتِهِ، فَكُنْتُ أَوَّلَ مَنْ حَيَّاهُ بِتَحِيَّةِ الإِسْلاَمِ، فَقَالَ‏:‏ ”وَعَلَيْكَ، وَرَحْمَةُ اللهِ، مِمَّنْ أَنْتَ‏؟“‏ قُلْتُ‏:‏ مِنْ غِفَارٍ‏.‏
سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اس وقت حاضر ہوا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہو چکے تھے۔ چنانچہ میں پہلا شخص تھا جس نے اسلام کے طریقے پر سلام کہا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وعلیک ورحمۃ الله، تم کون سے قبیلے سے ہو؟“ میں نے کہا: قبیلہ غفار سے۔ [الادب المفرد/كِتَابُ السَّلامِ/حدیث: 1035]
تخریج الحدیث: «صحيح: صحيح مسلم، حديث: 2473»
قال الشيخ الألباني: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1036
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ قَالَ‏:‏ حَدَّثَنِي اللَّيْثُ قَالَ‏:‏ حَدَّثَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّهُ قَالَ‏:‏ قَالَ أَبُو سَلَمَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ‏:‏ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ‏:‏ ”يَا عَائِشُ، هَذَا جِبْرِيلُ، وَهُوَ يَقْرَأُ عَلَيْكِ السَّلاَمَ“، قَالَتْ‏:‏ فَقُلْتُ‏:‏ وَعَلَيْهِ السَّلاَمُ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ، تَرَى مَا لاَ أَرَى‏.‏ تُرِيدُ بِذَلِكَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ‏.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عائش! یہ جبریل ہیں جو تمہیں سلام کہہ رہے ہیں۔“ وہ فرماتی ہیں: میں نے کہا: «وعلیہ السلام ورحمۃ الله وبرکاتہ» ۔ آپ وہ دیکھتے ہیں جو میں نہیں دیکھ پاتی۔ ان کی مراد اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔ [الادب المفرد/كِتَابُ السَّلامِ/حدیث: 1036]
تخریج الحدیث: «صحيح: صحيح البخاري، المناقب، حديث: 3768»
قال الشيخ الألباني: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1037
حَدَّثَنَا مَطَرٌ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا بِسْطَامٌ قَالَ‏:‏ سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ بْنَ قُرَّةَ قَالَ‏:‏ قَالَ لِي أَبِي‏:‏ يَا بُنَيَّ، إِذَا مَرَّ بِكَ الرَّجُلُ فَقَالَ‏:‏ السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ، فَلاَ تَقُلْ‏:‏ وَعَلَيْكَ، كَأَنَّكَ تَخُصُّهُ بِذَلِكَ وَحْدَهُ، فَإِنَّهُ لَيْسَ وَحْدَهُ، وَلَكِنْ قُلِ‏:‏ السَّلامُ عَلَيْكُمْ‏.‏
معاویہ بن قرہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ مجھ سے میرے والد نے کہا: اے میرے بیٹے! جب تیرے پاس سے کوئی آدمی گزرے اور «السلام علیکم» کہے، تو تم «وعلیک» نہ کہنا کہ گویا تم اسی کو خاص کر رہے ہو، بلکہ یوں کہو: «السلام علیکم» ۔ [الادب المفرد/كِتَابُ السَّلامِ/حدیث: 1037]
تخریج الحدیث: «صحيح: الضعيفة للألباني، تحت حديث: 5753»
قال الشيخ الألباني: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں