🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن دارمی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3535)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

13. باب في تَوَاضُعِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تواضع کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 75
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُقَيْلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: "كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكْثِرُ الذِّكْرَ، وَيُقِلُّ اللَّغْوَ، وَيُطِيلُ الصَّلَاةَ، وَيُقْصِرُ الْخُطْبَةَ، وَلَا يَأْنَفُ وَلَا يَسْتَنْكِفُ أَنْ يَمْشِيَ مَعَ الْأَرْمَلَةِ وَالْمِسْكِينِ فَيَقْضِيَ لَهُمَا حَاجَتَهُمَا".
سیدنا عبدالله بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ذکر (الٰہی) زیادہ کرتے اور بے مقصد باتیں کم کرتے تھے، نماز لمبی پڑھتے اور خطبہ مختصر دیتے، نہ برا کہتے اور نہ گھمنڈ کرتے، بیوہ اور مسکین کے ساتھ چلتے اور ان کی ضرورت و حاجت پوری فرماتے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 75]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لضعف محمد بن حميد، [مكتبه الشامله نمبر: 75] »
اس روایت کی سند ضعیف ہے لیکن اس کی متابعت موجود ہے اور اس کو امام نسائی نے [السنن الكبرى 1716] میں اور بیہقی نے [شعب الايمان 8114] میں ذکر کیا ہے اور [صحيح ابن حبان 6423] میں بھی یہ حدیث موجود ہے۔
وضاحت: (تشریح حدیث 75)
اس روایت سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکرِ الٰہی میں مشغول رہنا ثابت ہوتا ہے، جیسا کہ حدیث سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا میں بھی ہے: «كَانَ يَذْكُرُ اللّٰهَ عَلَىٰ كُلِّ أَحْيَانِهِ.» مسلم: (373)۔
بے مقصد باتیں کم کرنا۔
(یہ جملہ محل نظر ہے، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بے مقصد گفتگو کبھی نہیں فرماتے تھے)۔
اس میں نماز لمبی اور خطبہ مختصر دینے کا ثبوت ہے۔
یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاقِ کریمانہ کی ایک جھلک ہے کہ بوڑھے اور غریبوں کے ساتھ چلنے میں عار نہ سمجھتے، بلکہ ان کی حاجت روائی فرماتے۔

الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده ضعيف لضعف محمد بن حميد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں