🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن دارمی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3535)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

42. باب مَنْ لَمْ يَرَ كِتَابَةَ الْحَدِيثِ:
حدیث کی عدم کتابت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 484
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ يُونُسَ، قَالَ: "كَانَ الْحَسَنُ يَكْتُبُ وَيُكْتِبُ، وَكَانَ ابْنُ سِيرِينَ لَا يَكْتُبُ وَلَا يُكْتِبُ".
یونس بن عبید نے کہا: امام حسن بصری رحمہ اللہ لکھتے لکھاتے تھے اور امام محمد بن سیرین رحمہ اللہ نہ لکھتے اور نہ لکھاتے تھے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 484]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «، [مكتبه الشامله نمبر: 484] »
اس قول کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [جامع بيان العلم 387، 390]

الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني:
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 485
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا يَزِيدُ، أَخْبَرَنَا الْعَوَّامُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، قَالَ: بَلَغَ ابْنَ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَنَّ عِنْدَ نَاسٍ كِتَابًا يُعْجَبُونَ بِهِ، فَلَمْ يَزَلْ بِهِمْ حَتَّى أَتَوْهُ بِهِ، فَمَحَاهُ، ثُمَّ قَالَ: "إِنَّمَا هَلَكَ أَهْلُ الْكِتَابِ قَبْلَكُمْ: أَنَّهُمْ أَقْبَلُوا عَلَى كُتُبِ عُلَمَائِهِمْ، وَتَرَكُوا كِتَابَ رَبِّهِمْ".
ابراہیم تیمی نے کہا: سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کو خبر لگی کہ کچھ لوگوں کے پاس کتاب ہے جس پر وہ فخر کرتے ہیں، سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے اسے مٹا دیا اور پھر فرمایا: تم سے پہلے اہل کتاب اس لئے ہلاک ہوئے کہ وہ اپنے علماء کی کتابوں کی طرف متوجہ ہو گئے اور رب کی کتاب کو ترک کر دیا۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 485]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 485] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [تقييد العلم ص: 56] و [جامع بيان العلم 319 نحوه]

الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 486
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ قَالَ: قُلْتُ لِعَبِيدَةَ: "أَكْتُبُ مَا أَسْمَعُ مِنْكَ، قَالَ: لَا، قُلْتُ: فَإِنْ وَجَدْتُ كِتَابًا أَقْرَؤُهُ؟، قَالَ: لَا".
امام محمد بن سیرین رحمہ اللہ نے عبیدہ (بن عمرو السلمانی) سے کہا: میں آپ سے جو سنتا ہوں اسے لکھ لوں؟ فرمایا: نہیں، میں نے کہا: اگر لکھا ہوا مل جائے تو اسے پڑھ لوں؟ فرمایا: نہیں۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 486]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 486] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [تقييد العلم ص: 45] ، [جامع بيان العلم 360] ، [مصنف ابن أبى شيبه 6356] ، [العلم لأبي خيثمه 150]

الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 487
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَلَا تُكْتِبُنَا، فَإِنَّا لَا نَحْفَظُ؟، فَقَالَ: "لَا، إِنَّا لَنْ نُكْتِبَكُمْ، وَلَنْ نَجْعَلَهُ قُرْآنًا، وَلَكِنْ احْفَظُوا عَنَّا كَمَا حَفِظْنَا نَحْنُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ابونضرہ نے کہا: میں نے سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ آپ ہمیں لکھائیں گے نہیں؟ ہم حفظ نہیں کر سکتے، انہوں نے فرمایا: نہیں، ہم تمہیں ہرگز نہیں لکھائیں گے اور اس لکھے ہوئے کو قرآن نہیں بننے دیں گے، ہاں ہم سے احادیث یاد کر لو جس طرح ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یاد کرتے تھے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 487]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 487] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ ابونضرة کا نام منذر بن مالک ہے۔ حوالہ دیکھئے: [تقييد العلم ص: 37] ، [جامع بيان العلم 338، 340] ، [مصنف ابن أبى شيبه 6491] ، [المحدث الفاصل 363]

الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 488
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا كَثِيرٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: "إِنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ لَا يَكْتُبُ، وَلَا يُكْتِبُ".
امام اوزاعی رحمہ اللہ سے مروی ہے: میں نے ابوکثیر کو کہتے سنا، کہا: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے تھے: ابوہریرہ نہ لکھتے ہیں اور نہ لکھاتے ہیں۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 488]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لضعف محمد بن كثير الصنعاني ولكنه لم ينفرد به بل تابعه عليه المعافى بن عمران وهو ثقة فيصح الإسناد، [مكتبه الشامله نمبر: 488] »
اس روایت کی سند محمد بن کثیر کی وجہ سے ضعیف ہے، لیکن المعافیٰ بن عمران سے بھی اسی طرح مروی ہے جو ثقہ ہیں۔ دیکھئے: [تقييد العلم ص: 42] ، [العلم 140] ، [جامع بيان العلم 357]

الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده ضعيف لضعف محمد بن كثير الصنعاني ولكنه لم ينفرد به بل تابعه عليه المعافى بن عمران وهو ثقة فيصح الإسناد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 489
أَخْبَرَنَا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ: "أَنَّهُ كَانَ يَكْتُبُ حَدِيثَ أَبِيهِ، فَرَآهُ أَبُو مُوسَى، فَمَحَاهُ".
ابوبردہ سے مروی ہے کہ وہ اپنے والد کی حدیث لکھا لیا کرتے تھے، ابوموسیٰ نے انہیں ایسا کرتے دیکھا تو اس کو مٹا دیا۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 489]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لجهالة أبي موسى، [مكتبه الشامله نمبر: 489] »
اس اثر کی سند ابوموسیٰ کی جہالت کی وجہ سے ضعیف ہے، لیکن [المحدث الفاصل 369] و [تقييد العلم ص: 39، 40] میں صحیح سند سے مروی ہے۔ نیز دیکھئے: [مصنف ابن أبى شيبه 6495] ، [العلم 153] و [جامع بيان العلم 347]

الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده ضعيف لجهالة أبي موسى
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 490
أَخْبَرَنَا الْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعٍ، حَدَّثَنِي قُرَيْشُ بْنُ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ لِي ابْنُ عَوْنٍ: "وَاللَّهِ مَا كَتَبْتُ حَدِيثًا قَطُّ".
قریش بن انس نے بیان کیا کہ ابن عون نے مجھ سے کہا: قسم اللہ کی میں نے کبھی کوئی حدیث نہیں لکھی، اور ابن عون نے کہا: ابن سیرین رحمہ اللہ نے بھی فرمایا: نہیں، قسم الله کی میں نے کبھی کوئی حدیث نہیں لکھی۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 490]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إلى قوله في الحديث الشريف " ما كتبت حديث قط " أسناده فيه قريش بن أنس وقد اختلط وهو من رجال البخاري في صحيحه. وإلى نهاية الحديث الشريف " هؤلاء وما تقول " إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 490] »
اس روایت کی سند میں قریش بن انس کو اختلاط ہوگیا تھا، اور اس اثر کو رامهرمزی نے [المحدث الفاصل 368] میں ذکر کیا ہے۔

الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إلى قوله في الحديث الشريف " ما كتبت حديث قط " أسناده فيه قريش بن أنس وقد اختلط وهو من رجال البخاري في صحيحه. وإلى نهاية الحديث الشريف " هؤلاء وما تقول " إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 491
قَالَ: وقَالَ ابْنُ سِيرِينَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: "لَا وَاللَّهِ مَا كَتَبْتُ حَدِيثًا قَطُّ"، قَالَ ابْنُ عَوْنٍ: قَالَ لِي ابْنُ سِيرِينَ: عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَرَادَنِي مَرْوَانُ بْنُ الْحَكَمِ وَهُوَ أَمِيرٌ عَلَى الْمَدِينَةِ أَنْ أُكْتِبَهُ شَيْئًا، قَالَ: فَلَمْ أَفْعَلْ، قَالَ: فَجَعَلَ سِتْرًا بَيْنَ مَجْلِسِهِ وَبَيْنَ بَقِيَّةِ دَارِهِ، قَالَ: فَكَانَ أَصْحَابُهُ يَدْخُلُونَ عَلَيْهِ، وَيَتَحَدَّثُونَ فِي ذَلِكَ الْمَوْضِعِ، فَأَقْبَلَ مَرْوَانُ عَلَى أَصْحَابِهِ، فَقَالَ: مَا أُرَانَا إِلَّا قَدْ خُنَّاهُ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيَّ، قَالَ: قُلْتُ وَمَا ذَاكَ؟، قَالَ: مَا أُرَانَا إِلَّا قَدْ خُنَّاكَ، قَالَ: قُلْتُ: وَمَا ذَاكَ؟، قَالَ:"إِنَّا أَمَرْنَا رَجُلًا يَقْعُدُ خَلْفَ هَذَا السِّتْرِ، فَيَكْتُبُ مَا تُفْتِي هَؤُلَاءِ وَمَا تَقُولُ".
عبداللہ بن عون نے کہا: مجھ سے محمد بن سیرین رحمہ اللہ نے فرمایا: سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مروان بن الحکم نے جو مدینہ کے گورنر تھے، مجھ سے چاہا کہ میں انہیں کچھ لکھاؤں، لیکن میں نے ایسا نہیں کیا۔ راوی نے کہا: امیر (محترم) نے اپنے اور باقی زنان خانہ (گھر کے لوگوں) کے درمیان پردہ کرا دیا، پھر گورنر (صاحب) کے مصاحب ان کے پاس اس جگہ آئے اور باتیں کرنے لگے، پھر مروان اپنے مصاحبین کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: میرا خیال ہے ہم نے ان کے ساتھ خیانت کی ہے۔ پھر میری (زید بن ثابت کی) طرف متوجہ ہوئے، میں نے کہا: کیسی خیانت؟ کہا: میرے خیال میں ہم نے آپ کی خیانت کی ہے، کہا بات کیا ہے؟ کہا: ہم نے ایک آدمی کو حکم دیا تھا کہ اس پردے کے پیچھے بیٹھ جائے اور جو کچھ یہ لوگ فتویٰ دیں وہ اور جو کچھ آپ کہیں اس کو لکھ لے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 491]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «، [مكتبه الشامله نمبر: 491] »
اس روایت کی سند صحیح ہے، اور یہ روایت [مصنف ابن أبى شيبه 6497] ، [جامع بيان العلم 349] میں صحیح سند سے مروی ہے۔ نیز ابن سعد نے [الطبقات 117/2/2] اور طبری نے [المعجم الكبير 4871] میں بھی اسے ذکر کیا ہے لیکن ان کی سند ضعیف ہے۔

الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني:
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 492
أَخْبَرَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، قَالَ: قُلْتُ لِإِبْرَاهِيمَ: إِنَّ سَالِمًا أَتَمُّ مِنْكَ حَدِيثًا؟ قَالَ: "إِنَّ سَالِمًا كَانَ يَكْتُبُ".
منصور (بن المعتمر) نے کہا: میں نے ابراہیم سے کہا کہ سالم (ابن ابی الجعد) آپ سے زیادہ حدیث میں کامل ہیں، ابراہیم نے کہا: کیونکہ سالم لکھ لیا کرتے تھے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 492]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 492] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [طبقات ابن سعد 203/6] ، [المحدث الفاصل 349] ، [تقييد العلم ص: 108-109] و [جامع بيان العلم 385]

الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 493
أَخْبَرَنَا الْوَلِيدُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ يَزِيدَ الْحِمْصِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ، قَالَ: وَفَدْتُ مَعَ أَبِي إِلَى يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ بِحُوَّارَيْنَ حِينَ تُوُفِّيَ مُعَاوِيَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ نُعَزِّيهِ، وَنُهَنِّيهِ بِالْخِلَافَةِ، فَإِذَا رَجُلٌ فِي مَسْجِدِهَا، يَقُولُ: "أَلَا إِنَّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ أَنْ تُرْفَعَ الْأَشْرَارُ، ويُوضَعُ الْأَخْيَارُ، أَلَا إِنَّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ أَنْ يَظْهَرَ الْقَوْلُ وَيُخْزَنَ الْعَمَلُ، أَلَا إِنَّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ أَنْ تُتْلَى الْمَثْنَاةُ، فَلَا يُوجَدُ مَنْ يُغَيِّرُهَا، قِيلَ لَهُ: وَمَا الْمَثْنَاةُ؟، قَالَ: مَا اسْتُكْتِبَ مِنْ كِتَابٍ غَيْرِ الْقُرْآنِ، فَعَلَيْكُمْ بِالْقُرْآنِ فَبِهِ هُدِيتُمْ، وَبِهِ تُجْزَوْنَ، وَعَنْهُ تُسْأَلُونَ"، فَلَمْ أَدْرِ مَنْ الرَّجُلُ، فَحَدَّثْتُ هذَا الْحَدِيثِ بَعْدَ ذَلِكَ بِحِمْصَ، فَقَالَ لِي رَجُلٌ مِنْ الْقَوْمِ: أَوَ مَا تَعْرِفُهُ؟، قُلْتُ: لَا، قَالَ: ذَلِكَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا.
عمرو بن قیس نے کہا: سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی وفات پر میں اپنے والد کے ساتھ تعزیت اور خلافت کی مبارکباد دینے کے لئے یزید بن معاویہ کے پاس حوارّین گیا، کیا دیکھتے ہیں کہ ان کی مسجد میں ایک آدمی کہہ رہا ہے: خبردار دیکھو! قیامت کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اشرار سر چڑھائے جائیں گے اور اخیار (اچھے لوگ) گرائے جائیں گے، سنو! قیامت کی نشانیوں میں سے ہے کہ قول کا اظہار ہو گا اور عمل محفوظ رہے گا۔ سنو! اشراط ساعۃ میں سے ہے کہ ”مثناة“ (ثانوی کتاب) پڑھی جائے گی اور کوئی اس میں تغیر کرنے والا نہ ہو گا، عرض کیا گیا: یہ ”مثناة“ کیا ہے، فرمایا: قرآن کے علاوہ کسی کتاب لکھنے کی درخواست کرنا، لہٰذا تم قرآن کو ہی تھامے رکھنا، اسی کے ذریعہ تم کو ہدایت ملی ہے، اور اسی کے ذریعہ تم کو اجر ملے گا، اور اس کے بارے میں تم سے پوچھا جائے گا۔ میں نے نہیں پہچانا کہ یہ کون آدمی ہیں؟ پھر میں نے یہ حدیث حمص میں بیان کی تو جماعت کے ایک آدمی نے مجھ سے کہا کہ تم انہیں پہچانتے نہیں؟ میں نے کہا: نہیں، تو انہوں نے کہا: یہ سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ تھے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 493]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده جيد، [مكتبه الشامله نمبر: 493] »
اس اثر کی سند جید ہے۔ دیکھئے: [المستدرك 554/4] ، [غريب الحديث لأبي عبيد 282/4]
وضاحت: (تشریح احادیث 474 سے 493)
حوّارین حمص کے قریب ایک گاؤں کا نام ہے جس میں یزید بن معاویہ کا انتقال ہوا۔

الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده جيد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں