سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
113. باب إِتْيَانِ النِّسَاءِ في أَدْبَارِهِنَّ:
عورتوں کے دبر میں جماع کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 1165
أَخْبَرَنَا خَلِيفَةُ بْنُ خَيَّاطٍ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، قَالَ: سَمِعْتُ لَيْثًا حَدَّثَ، عَنْ عِيسَى بْنِ قَيْسٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ: نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ سورة البقرة آية 223، قَالَ: "إِنْ شِئْتَ فَاعْزِلْ، وَإِنْ شِئْتَ فَلَا تَعْزِلْ".
سعید بن المسيب رحمہ اللہ سے « ﴿نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ﴾ » [بقره: 223/2] کے بارے میں مروی ہے، فرمایا: چاہو تو عزل کرو یا چاہو تو عزل نہ کرو۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 1165]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف ليث هو: ابن أبي سليم وهو ضعيف، [مكتبه الشامله نمبر: 1170] »
لیث بن ابی سلیم کی وجہ سے یہ روایت ضعیف ہے۔ دیکھئے: [تفسير طبري 395/2] ، [ أسباب النزول للواحدي ص: 54] و [مصنف ابن أبى شيبه 232/4]
لیث بن ابی سلیم کی وجہ سے یہ روایت ضعیف ہے۔ دیکھئے: [تفسير طبري 395/2] ، [ أسباب النزول للواحدي ص: 54] و [مصنف ابن أبى شيبه 232/4]
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده ضعيف ليث هو: ابن أبي سليم وهو ضعيف
حدیث نمبر: 1166
أَخْبَرَنَا خَلِيفَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، عَنْ عَوْفٍ، عَنْ الْحَسَنِ، قَالَ: "كَيْفَ شِئْتَ، يَعْنِي: إِتْيَانَهَا فِي الْفَرْجِ".
حسن بصری رحمہ اللہ سے مروی ہے: جس طرح چاہو کرو، بس جماع مخصوص جگہ میں ہو۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 1166]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1171] »
اس قول کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [الدر المنثور 262/1]
اس قول کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [الدر المنثور 262/1]
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1167
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ "أَنَّ الْيَهُودَ قَالُوا لِلْمُسْلِمِينَ: مَنْ أَتَى امْرَأَتَهُ وَهِيَ مُدْبِرَةٌ، جَاءَ وَلَدُهُ أَحْوَلَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى: نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ سورة البقرة آية 223".
سیدنا جابر بن عبدالله انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ یہود نے مسلمانوں سے کہا کہ جو اپنی بیوی سے پیچھے کی طرف سے جماع کرے تو اس کا بچہ بھینگا پیدا ہوگا، لہٰذا اللہ تعالیٰ نے یہ آیت شریفہ نازل فرمائی: « ﴿نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ﴾ » [بقره: 223/2] ”عورتیں تمہاری کھیتیاں ہیں جس طرح چاہو انہیں پانی دو۔“ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 1167]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1172] »
یہ حدیث صحیح متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 4527] ، [مسلم 1435] ، [ابويعلی 2024] ، [ابن حبان 4166] ، [الحميدي 1300]
یہ حدیث صحیح متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 4527] ، [مسلم 1435] ، [ابويعلی 2024] ، [ابن حبان 4166] ، [الحميدي 1300]
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1168
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ عِكْرِمَةَ: فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ سورة البقرة آية 223، قَالَ: "يَأْتِي أَهْلَهُ كَيْفَ شَاءَ قَائِمًا وَقَاعِدًا وَبَيْنَ يَدَيْهَا وَمِنْ خَلْفِهَا".
عکرمہ رحمہ اللہ سے « ﴿فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ ...﴾ » [البقرة: 223/2] کے بارے میں مروی ہے، اس سے مراد یہ ہے کہ کھڑے بیٹھے سامنے یا پیچھے جدھر سے چاہے اپنی بیوی سے جماع کرے۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 1168]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1173] »
اس اثر کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مصنف ابن أبى شيبه 229/4]
اس اثر کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مصنف ابن أبى شيبه 229/4]
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1169
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْوَلِيدِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ "فَأْتُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ أَمَرَكُمُ اللَّهُ سورة البقرة آية 222، قَالَ: فِي الْفَرْجِ".
امام ابراہیم نخعی رحمہ اللہ نے فرمایا: « ﴿فَأْتُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ أَمَرَكُمُ اللَّهُ ...﴾ » [بقرة: 222/2] سے مراد ہے کہ (جماع) فرج میں ہو۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 1169]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1174] »
اس قول کی سند بھی صحیح ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 232/4] و [تفسير طبري 388/2] ۔ ابن ادریس: عبداللہ بن ادریس بن یزید ہیں۔
اس قول کی سند بھی صحیح ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 232/4] و [تفسير طبري 388/2] ۔ ابن ادریس: عبداللہ بن ادریس بن یزید ہیں۔
وضاحت: (تشریح احادیث 1163 سے 1169)
ان تمام روایات سے واضح ہوا کہ شوہر اپنی بیوی سے جس طرح چاہے استمتاع کر سکتا ہے، کھڑے سے، بیٹھے سے، آگے سے یا پیچھے سے، لیکن مقامِ مخصوص سے تجاوز نہ کرے، جماع جماع ہی کی جگہ میں کرے اور دبر سے شدت کے ساتھ اجتناب کرے، کیونکہ یہ فعل حرام ہے، اور جو ایسا کرے اس کو حدیث میں ملعون قرار دیا گیا ہے۔
اس سلسلے میں مزید تفصیل کے لئے دیکھئے: [زاد المعاد 311/3 ”فصل“ بعد فصل اما الجماع و الباه] ۔
ان تمام روایات سے واضح ہوا کہ شوہر اپنی بیوی سے جس طرح چاہے استمتاع کر سکتا ہے، کھڑے سے، بیٹھے سے، آگے سے یا پیچھے سے، لیکن مقامِ مخصوص سے تجاوز نہ کرے، جماع جماع ہی کی جگہ میں کرے اور دبر سے شدت کے ساتھ اجتناب کرے، کیونکہ یہ فعل حرام ہے، اور جو ایسا کرے اس کو حدیث میں ملعون قرار دیا گیا ہے۔
اس سلسلے میں مزید تفصیل کے لئے دیکھئے: [زاد المعاد 311/3 ”فصل“ بعد فصل اما الجماع و الباه] ۔
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح