🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن دارمی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3535)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

27. باب في النَّهْيِ عَنِ النَّفْخِ في الشَّرَابِ:
پینے کی چیز میں پھونک مارنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2170
أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْمُثَنَّى الْجُهَنِيِّ، قَالَ: قَالَ مَرْوَانُ لِأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيّ: هَلْ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْ النَّفْخِ فِي الشَّرَابِ؟ قَالَ:"نَعَمْ".
مروان بن الحکم نے سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پانی میں پھونک مارنے سے منع کرتے تھے؟ فرمایا: ہاں (سنا ہے)۔ [سنن دارمي/من كتاب الاشربة/حدیث: 2170]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده قوي، [مكتبه الشامله نمبر: 2179] »
اس حدیث کی سند قوی ہے۔ دیکھئے: [ترمذي 1887]

الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده قوي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2171
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "نَهَى عَنْ النَّفْخِ فِي الشَّرَابِ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مشروب میں پھونکنے سے منع فرمایا۔ [سنن دارمي/من كتاب الاشربة/حدیث: 2171]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2180] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 3728] ، [ترمذي 1888] ، [ابن ماجه 3428] ، [أبويعلی 2402] ، [ابن حبان 5316] ، [الحميدي 535] ، [بغوي فى شرح السنة 3035]
وضاحت: (تشریح احادیث 2169 سے 2171)
ان احادیث میں پانی یا کسی اور پینے کی چیز میں پھونک مارنے سے گریز کرنے کا حکم ہے۔
مبادا منہ سے کچھ گرے اور پانی میں پڑ کر اسے ملوث کر دے، جس سے دوسروں کو تکلیف یا نفرت و کراہت ہو۔
واللہ اعلم۔

الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں