🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن دارمی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3535)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

5. باب في الْخِيَارِ:
بیوی کو طلاق کا اختیار دینے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2306
أَخْبَرَنَا يَعْلَى، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنِ الْخِيَرَةِ، فَقَالَتْ: "قَدْ خَيَّرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفَكَانَ طَلَاقًا؟".
مسروق رحمہ اللہ نے کہا: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے طلاق کا اختیار دینے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: ہم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اختیار دیا تھا تو کیا محض یہ اختیار طلاق بن گیا؟ [سنن دارمي/من كتاب الطلاق/حدیث: 2306]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح والحديث متفق عليه، [مكتبه الشامله نمبر: 2315] »
اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 5262] ، [مسلم 1477] ، [ترمذي 1179] ، [نسائي 3203] ، [أبويعلی 4317] ، [ابن حبان 4267] ، [الحميدي 236]
وضاحت: (تشریح حدیث 2305)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عورت کو اختیار ہے کہ چاہو تو میرے ساتھ رہو اور چاہو تو اپنے میکے چلی جاؤ، تو اگر وہ شوہر کے ساتھ رہ جائے تو طلاق واقع نہیں ہوتی ہے۔
اس کی تفصیل سورۂ احزاب کی آیت: «﴿يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِأَزْوَاجِكَ إِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا .....﴾ [الأحزاب: 28] » کے ضمن میں دیکھی جا سکتی ہے۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں