🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن دارمی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3535)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

75. باب في الْخَرْصِ:
درخت پر پھلوں کے اندازے اور تخمینے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2655
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَسْعُودِ بْنِ نِيَارٍ الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ: جَاءَ سَهْلُ بْنُ أَبِي حَثْمَةَ إِلَى مَجْلِسِنَا فَحَدَّثَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "إِذَا خَرَصْتُمْ، فَخُذُوا وَدَعُوا، دَعُوا الثُّلُثَ، فَإِنْ لَمْ تَدَعُوا الثُّلُثَ، فَدَعُوا الرُّبُعَ".
سیدنا عبدالرحمٰن بن مسعود بن نیار رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ ہماری بیٹھک پر آئے اور حدیث بیان کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم (پھلوں کا درختوں پر) اندازہ کرو تو (دوتہائی) لیا کرو اور ایک تہائی چھوڑ دیا کرو، اگر ایک تہائی نہیں تو ایک چوتھائی چھوڑ دیا کرو۔ [سنن دارمي/من كتاب البيوع/حدیث: 2655]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده جيد، [مكتبه الشامله نمبر: 2661] »
اس حدیث کی سند جید ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 1605] ، [ترمذي 643] ، [نسائي 2490] ، [ابن حبان 3280] ، [الموارد 798]
وضاحت: (تشریح حدیث 2654)
معمول یہ تھا کہ زکاۃ کے لئے جب پھل درخت پر ہوتے تو ان کا اندازہ کر لیا جاتا اور اترنے کے بعد اس کا دسواں حصہ مالک سے زکاة میں لیا جاتا، تیسرا حصہ یا کم از کم چوتھا حصہ چھوڑ دینے کو اس لئے کہا گیا تاکہ مالک کو گنجائش رہے اور وہ ہمسایوں اور دوستوں کو کھلا سکے۔
بعض روایات میں فجدوا ہے جس کے معنی کھجور توڑنے کے ہیں۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں