🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن دارمی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3535)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

2. باب كَيْفَ الاِسْتِئْذَانُ:
اجازت طلب کرنے کے طریقے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2666
أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ الرَّبِيعِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَضَرَبْتُ بَابَهُ، فَقَالَ: "مَنْ ذَا؟". فَقُلْتُ: أَنَا. قَالَ:"أَنَا؟ أَنَا؟!"فَكَرِهَ ذَاكَ.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دروازہ کھٹکھٹایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کون ہے؟“ میں نے کہا: میں ہوں، فرمایا: ”میں،“ میں یعنی اس کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ناپسند فرمایا۔ [سنن دارمي/من كتاب الاستئذان/حدیث: 2666]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح والحديث متفق عليه، [مكتبه الشامله نمبر: 2672] »
اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 6250] ، [مسلم 2155] ، [أبوداؤد 5187] ، [ترمذي 2711] ، [ابن ماجه 3709] ، [ابن حبان 5808]
وضاحت: (تشریح حدیث 2665)
«أَنَا أَنَا» یا میں میں یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سوال کا جواب نہیں تھا۔
انہیں کہنا چاہیے تھا کہ میں جابر ہوں، نام نہیں بتایا، اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میں میں کو ناپسند فرمایا۔
ہم نے اس دور کے محدث و مفتی سماحۃ الشيخ ابن باز رحمہ الله کو دیکھا اور سنا تھا، ٹیلیفون پر کوئی پوچھتا آپ کون ہیں تو بلا تردد کہتے: میں عبدالعزيز ابن باز ہوں، نہ آپ کے چہرے پر شکن آتی اور نہ ہی کبھی ناگواری دیکھنے میں آتی۔
بعض لوگ اپنا ”اسم گرامی“ بتانا کسرِ شان سمجھتے ہیں۔

الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح والحديث متفق عليه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں