🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن دارمی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3535)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

9. باب في التَّسْلِيمِ عَلَى النِّسَاءِ:
عورتوں کو سلام کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2673
أَخْبَرَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ، عَنْ شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ ابْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، حَدَّثَنِي شَهْرٌ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ بْنِ السَّكَنِ إِحْدَى نِسَاءِ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ"أَنَّهَا بَيْنَا هِيَ فِي نِسْوَةٍ مَرَّ عَلَيْهِنَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمَ عَلَيْهِنَّ".
بنوعبدالاشہل کی ایک خاتون سیدہ اسماء بنت یزید بن سکن رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ وہ کچھ عورتوں کے ساتھ تھیں جن کے پاس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گزرے تو انہیں سلام کیا۔ [سنن دارمي/من كتاب الاستئذان/حدیث: 2673]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده حسن، [مكتبه الشامله نمبر: 2679] »
اس روایت کی سند حسن ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 5204] ، [ترمذي 2698] ، [ابن ماجه 3701] ، [أحمد 452/6] ، [الأدب المفرد 1047]
وضاحت: (تشریح حدیث 2672)
اس حدیث سے اجنبی مرد کا اجنبی عورتوں سے سلام کرنا ثابت ہوا۔
علمائے کرام نے کہا: اگر فتنے کا ڈر نہ ہو تو مرد عورت کو اور عورت مرد کو سلام کرسکتی ہے، جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے اور یہی صحیح ہے، صحابہ کرام بھی ازواجِ مطہرات کو سلام کیا کرتے تھے۔
ہاں! اجنبی عورت سے مصافحہ کرنا جائز نہیں بلکہ حرام ہے۔
سلام کرنے میں کوئی قباحت نہیں اور نہ جواب دینے میں کوئی حرج ہے۔
والله اعلم۔

الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں