سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
24. باب إِذَا قَامَ مِنْ مَجْلِسِهِ ثُمَّ رَجَعَ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ:
کوئی آدمی اپنی جگہ سے اٹھ کر جائے واپس آ کر وہی اس جگہ بیٹھنے کا زیادہ مستحق ہے
حدیث نمبر: 2689
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ أَوِ الرَّجُلُ مِنْ مَجْلِسِهِ ثُمَّ رَجَعَ إِلَيْهِ، فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی“ یا یہ کہا: ”جب کوئی آدمی اپنی جگہ سے اٹھ جائے (کسی حاجت سے) پھر لوٹ کر آئے تو وہی زیادہ حقدار ہے اس جگہ بیٹھنے کا۔“ [سنن دارمي/من كتاب الاستئذان/حدیث: 2689]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2696] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مسلم 2179] ، [أبوداؤد 4853] ، [ابن ماجه 3717] ، [ابن حبان 588] ، [موارد الظمآن 1957]
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مسلم 2179] ، [أبوداؤد 4853] ، [ابن ماجه 3717] ، [ابن حبان 588] ، [موارد الظمآن 1957]
وضاحت: (تشریح حدیث 2688)
جو آدمی واپس آنے کی نیّت سے کسی حاجت کے لئے اپنی جگہ سے اٹھ کر کہیں جائے، واپس آ کر اس جگہ بیٹھنے کا وہی زیادہ حقدار ہے۔
کوئی دوسرا شخص بیٹھ بھی جائے تو اس کو وہاں سے ہٹ جانا چاہیے۔
واللہ اعلم۔
جو آدمی واپس آنے کی نیّت سے کسی حاجت کے لئے اپنی جگہ سے اٹھ کر کہیں جائے، واپس آ کر اس جگہ بیٹھنے کا وہی زیادہ حقدار ہے۔
کوئی دوسرا شخص بیٹھ بھی جائے تو اس کو وہاں سے ہٹ جانا چاہیے۔
واللہ اعلم۔
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح