🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

4. بَابُ قَوْلِهِ: {فَلَمَّا جَاوَزَا قَالَ لِفَتَاهُ آتِنَا غَدَاءَنَا لَقَدْ لَقِينَا مِنْ سَفَرِنَا هَذَا نَصَبًا} إِلَى قَوْلِهِ: {عَجَبًا}:
باب: آیت کی تفسیر ”پس جب وہ دونوں اس جگہ سے آگے بڑھ گئے تو موسیٰ نے اپنے ساتھی سے فرمایا کہ ہمارا کھانا لاؤ سفر سے ہمیں اب تو تھکن ہونے لگی ہے“ لفظ «عجبا» تک۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q4727
صُنْعًا: عَمَلًا، حِوَلًا: تَحَوُّلًا، قَالَ ذَلِكَ مَا كُنَّا نَبْغِ فَارْتَدَّا عَلَى آثَارِهِمَا قَصَصًا، إِمْرًا، وَنُكْرًا: دَاهِيَةً، يَنْقَضَّ: يَنْقَاضُ كَمَا تَنْقَاضُ السِّنُّ لَتَخِذْتَ وَاتَّخَذْتَ وَاحِدٌ، رُحْمًا: مِنَ الرُّحْمِ وَهِيَ أَشَدُّ مُبَالَغَةً مِنَ الرَّحْمَةِ وَنَظُنُّ أَنَّهُ مِنَ الرَّحِيمِ وَتُدْعَى مَكَّةُ أُمَّ رُحْمٍ أَيِ الرَّحْمَةُ تَنْزِلُ بِهَا.
‏‏‏‏ لفظ «صنعا» عمل کے معنی میں ہے۔ «حولا» بمعنی پھر جانا۔ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا یہی تو وہ چیز تھی جو ہم چاہتے تھے۔ چنانچہ وہ دونوں الٹے پاؤں واپس لوٹے۔ «إمرا» کا معنی عجیب بات۔ «نكرا» کا بھی یہی معنی ہے۔ «ينقض» اور «ينقاض» ‏‏‏‏ دونوں کا ایک ہی معنی ہے جیسے کہتے ہیں «تنقاض السن» یعنی دانت گر رہا ہے۔ «لتخذت» اور «واتخذت» (دونوں روایتیں ہیں) دونوں کا معنی ایک ہیں۔ «رحما»، «رحم» سے نکلا ہے جس کے معنی بہت رحمت تو یہ مبالغہ ہے رحمت کا اور ہم سمجھتے ہیں (یا لوگ سمجھتے ہیں) کہ یہ «رحم» سے نکلا ہے۔ اسی لیے مکہ کو «أم رحم» کہتے ہیں کیونکہ وہاں پروردگار کی رحمت اترتی ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب تَفْسِيرِ الْقُرْآنِ/حدیث: Q4727]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4727
حَدَّثَنِي قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: إِنَّ نَوْفًا الْبَكَالِيَّيَ زْعُمُ أَنَّ مُوسَى بَنِي إِسْرَائِيلَ لَيْسَ بِمُوسَى الْخَضِرِ، فَقَالَ: كَذَبَ عَدُوُّ اللَّهِ، حَدَّثَنَا أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" قَامَ مُوسَى خَطِيبًا فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ، فَقِيلَ لَهُ: أَيُّ النَّاسِ أَعْلَمُ؟ قَالَ: أَنَا، فَعَتَبَ اللَّهُ عَلَيْهِ إِذْ لَمْ يَرُدَّ الْعِلْمَ إِلَيْهِ، وَأَوْحَى إِلَيْهِ، بَلَى عَبْدٌ مِنْ عِبَادِي بِمَجْمَعِ الْبَحْرَيْنِ هُوَ أَعْلَمُ مِنْكَ، قَالَ: أَيْ رَبِّ كَيْفَ السَّبِيلُ إِلَيْهِ؟ قَالَ: تَأْخُذُ حُوتًا فِي مِكْتَلٍ، فَحَيْثُمَا فَقَدْتَ الْحُوتَ فَاتَّبِعْهُ، قَالَ: فَخَرَجَ مُوسَى وَمَعَهُ فَتَاهُ يُوشَعُ بْنُ نُونٍ وَمَعَهُمَا الْحُوتُ حَتَّى انْتَهَيَا إِلَى الصَّخْرَةِ، فَنَزَلَا عِنْدَهَا، قَالَ: فَوَضَعَ مُوسَى رَأْسَهُ فَنَامَ، قَالَ سُفْيَانُ: وَفِي حَدِيثِ غَيْرِ عَمْرٍو، قَالَ: وَفِي أَصْلِ الصَّخْرَةِ عَيْنٌ يُقَالُ لَهَا الْحَيَاةُ لَا يُصِيبُ مِنْ مَائِهَا شَيْءٌ إِلَّا حَيِيَ، فَأَصَابَ الْحُوتَ مِنْ مَاءِ تِلْكَ الْعَيْنِ، قَالَ: فَتَحَرَّكَ وَانْسَلَّ مِنَ الْمِكْتَلِ، فَدَخَلَ الْبَحْرَ، فَلَمَّا اسْتَيْقَظَ مُوسَى، قَالَ لِفَتَاهُ آتِنَا غَدَاءَنَا سورة الكهف آية 62 الْآيَةَ، قَالَ: وَلَمْ يَجِدِ النَّصَبَ حَتَّى جَاوَزَ مَا أُمِرَ بِهِ، قَالَ لَهُ فَتَاهُ يُوشَعُ بْنُ نُونٍ، أَرَأَيْتَ إِذْ أَوَيْنَا إِلَى الصَّخْرَةِ فَإِنِّي نَسِيتُ الْحُوتَ سورة الكهف آية 63 الْآيَةَ، قَالَ: فَرَجَعَا يَقُصَّانِ فِي آثَارِهِمَا، فَوَجَدَا فِي الْبَحْرِ كَالطَّاقِ مَمَرَّ الْحُوتِ، فَكَانَ لِفَتَاهُ عَجَبًا وَلِلْحُوتِ سَرَبًا، قَالَ: فَلَمَّا انْتَهَيَا إِلَى الصَّخْرَةِ إِذْ هُمَا بِرَجُلٍ مُسَجًّى بِثَوْبٍ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ مُوسَى، قَالَ: وَأَنَّى بِأَرْضِكَ السَّلَامُ، فَقَالَ: أَنَا مُوسَى، قَالَ مُوسَى: بَنِي إِسْرَائِيلَ، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: هَلْ أَتَّبِعُكَ عَلَى أَنْ تُعَلِّمَنِي مِمَّا عُلِّمْتَ رَشَدًا؟ قَالَ لَهُ الْخَضِرُ: يَا مُوسَى إِنَّكَ عَلَى عِلْمٍ مِنْ عِلْمِ اللَّهِ عَلَّمَكَهُ اللَّهُ لَا أَعْلَمُهُ، وَأَنَا عَلَى عِلْمٍ مِنْ عِلْمِ اللَّهِ عَلَّمَنِيهِ اللَّهُ لَا تَعْلَمُهُ، قَالَ: بَلْ أَتَّبِعُكَ، قَالَ: فَإِنِ اتَّبَعْتَنِي فَلَا تَسْأَلْنِي عَنْ شَيْءٍ حَتَّى أُحْدِثَ لَكَ مِنْهُ ذِكْرًا، فَانْطَلَقَا يَمْشِيَانِ عَلَى السَّاحِلِ، فَمَرَّتْ بِهِمْ سَفِينَةٌ، فَعُرِفَ الْخَضِرُ، فَحَمَلُوهُمْ فِي سَفِينَتِهِمْ بِغَيْرِ نَوْلٍ، يَقُولُ: بِغَيْرِ أَجْرٍ، فَرَكِبَا السَّفِينَةَ، قَالَ: وَوَقَعَ عُصْفُورٌ عَلَى حَرْفِ السَّفِينَةِ، فَغَمَسَ مِنْقَارَهُ فِي الْبَحْرِ، فَقَالَ الْخَضِرُ لِمُوسَى: مَا عِلْمُكَ وَعِلْمِي وَعِلْمُ الْخَلَائِقِ فِي عِلْمِ اللَّهِ إِلَّا مِقْدَارُ مَا غَمَسَ هَذَا الْعُصْفُورُ مِنْقَارَهُ، قَالَ: فَلَمْ يَفْجَأْ مُوسَى إِذْ عَمَدَ الْخَضِرُ إِلَى قَدُومٍ، فَخَرَقَ السَّفِينَةَ، فَقَالَ لَهُ مُوسَى: قَوْمٌ حَمَلُونَا بِغَيْرِ نَوْلٍ عَمَدْتَ إِلَى سَفِينَتِهِمْ فَخَرَقْتَهَا لِتُغْرِقَ أَهْلَهَا لَقَدْ جِئْتَ سورة الكهف آية 71 الْآيَةَ، فَانْطَلَقَا إِذَا هُمَا بِغُلَامٍ يَلْعَبُ مَعَ الْغِلْمَانِ، فَأَخَذَ الْخَضِرُ بِرَأْسِهِ فَقَطَعَهُ، قَالَ لَهُ مُوسَى: أَقَتَلْتَ نَفْسًا زَكِيَّةً بِغَيْرِ نَفْسٍ لَقَدْ جِئْتَ شَيْئًا نُكْرًا قَالَ أَلَمْ أَقُلْ لَكَ إِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِيعَ مَعِيَ صَبْرًا إِلَى قَوْلِهِ فَأَبَوْا أَنْ يُضَيِّفُوهُمَا فَوَجَدَا فِيهَا جِدَارًا يُرِيدُ أَنْ يَنْقَضَّ سورة الكهف آية 75 - 77، فَقَالَ بِيَدِهِ: هَكَذَا، فَأَقَامَهُ، فَقَالَ لَهُ مُوسَى: إِنَّا دَخَلْنَا هَذِهِ الْقَرْيَةَ فَلَمْ يُضَيِّفُونَا وَلَمْ يُطْعِمُونَا، لَوْ شِئْتَ لَاتَّخَذْتَ عَلَيْهِ أَجْرًا، قَالَ: هَذَا فِرَاقُ بَيْنِي وَبَيْنِكَ، سَأُنَبِّئُكَ بِتَأْوِيلِ مَا لَمْ تَسْتَطِعْ عَلَيْهِ صَبْرًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَدِدْنَا أَنَّ مُوسَى صَبَرَ حَتَّى يُقَصَّ عَلَيْنَا مِنْ أَمْرِهِمَا، قَالَ: وَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَقْرَأُ 0 وَكَانَ أَمَامَهُمْ مَلِكٌ يَأْخُذُ كُلَّ سَفِينَةٍ صَالِحَةٍ غَصْبًا وَأَمَّا الْغُلَامُ فَكَانَ كَافِرًا 0".
مجھ سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، کہا ان سے عمرو بن دینار نے اور ان سے سعید بن جبیر نے بیان کیا کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے عرض کیا۔ نوف بکالی کہتے ہیں کہ موسیٰ علیہ السلام جو اللہ کے نبی تھے وہ نہیں ہیں جنہوں نے خضر علیہ السلام سے ملاقات کی تھی۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا، دشمن خدا نے غلط بات کہی ہے۔ ہم سے ابی بن کعب نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کو وعظ کرنے کے لیے کھڑے ہوئے تو ان سے پوچھا گیا کہ سب سے بڑا عالم کون شخص ہے۔ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ میں ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے اس پر غصہ کیا، کیونکہ انہوں نے علم کی نسبت اللہ کی طرف نہیں کی تھی اور ان کے پاس وحی بھیجی کہ ہاں، میرے بندوں میں سے ایک بندہ دو دریاؤں کے ملنے کی جگہ پر ہے اور وہ تم سے بڑا عالم ہے۔ موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا: اے پروردگار! ان تک پہنچنے کا طریقہ کیا ہو گا؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ایک مچھلی زنبیل میں ساتھ لے لو۔ پھر جہاں وہ مچھلی گم ہو جائے وہیں انہیں تلاش کرو۔ بیان کیا کہ موسیٰ علیہ السلام نکل پڑے اور آپ کے ساتھ آپ کے رفیق سفر یوشع بن نون بھی تھے۔ مچھلی ساتھ تھی۔ جب چٹان تک پہنچے تو وہاں ٹھہر گئے۔ موسیٰ علیہ السلام اپنا سر رکھ کر وہیں سو گئے، عمرو کی روایت کے سوا دوسری روایت کے حوالہ سے سفیان نے بیان کیا کہ اس چٹان کی جڑ میں ایک چشمہ تھا، جسے حیات کہا جاتا تھا۔ جس چیز پر بھی اس کا پانی پڑ جاتا وہ زندہ ہو جاتی تھی۔ اس مچھلی پر بھی اس کا پانی پڑا تو اس کے اندر حرکت پیدا ہو گئی اور وہ اپنی زنبیل سے نکل کر دریا میں چلی گئی۔ موسیٰ علیہ السلام جب بیدار ہوئے تو انہوں نے اپنے ساتھی سے فرمایا «قال لفتاه آتنا غداءنا‏» کہ ہمارا ناشتہ لاؤ الآیۃ۔ بیان کیا کہ سفر میں موسیٰ علیہ السلام کو اس وقت تک کوئی تھکن نہیں ہوئی جب تک وہ مقررہ جگہ سے آگے نہیں بڑھ گئے۔ رفیق سفر یوشع بن نون نے اس پر کہا «أرأيت إذ أوينا إلى الصخرة فإني نسيت الحوت‏» آپ نے دیکھا جب ہم چٹان کے نیچے بیٹھے ہوئے تھے تو میں مچھلی کے متعلق کہنا بھول گیا الآیۃ۔ بیان کیا کہ پھر وہ دونوں الٹے پاؤں واپس لوٹے۔ دیکھا کہ جہاں مچھلی پانی میں گری تھی وہاں اس کے گزرنے کی جگہ طاق کی سی صورت بنی ہوئی ہے۔ مچھلی تو پانی میں چلی گئی تھی لیکن یوشع بن نون کو اس طرح پانی کے رک جانے پر تعجب تھا۔ جب چٹان پر پہنچے تو دیکھا کہ ایک بزرگ کپڑے میں لپٹے ہوئے وہاں موجود ہیں۔ موسیٰ علیہ السلام نے انہیں سلام کیا تو انہوں نے فرمایا کہ تمہاری زمین میں سلام کہاں سے آ گیا؟ آپ نے فرمایا کہ میں موسیٰ ہوں۔ پوچھا بنی اسرائیل کے موسیٰ؟ فرمایا کہ جی ہاں! موسیٰ علیہ السلام نے ان سے کہا کیا آپ کے ساتھ رہ سکتا ہوں تاکہ جو ہدایت کا علم اللہ تعالیٰ نے آپ کو دیا ہے وہ آپ مجھے بھی سکھا دیں۔ خضر علیہ السلام نے جواب دیا کہ آپ کو اللہ کی طرف سے ایسا علم حاصل ہے جو میں نہیں جانتا اور اسی طرح مجھے اللہ کی طرف سے ایسا علم حاصل ہے جو آپ نہیں جانتے۔ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا، لیکن میں آپ کے ساتھ رہوں گا۔ خضر علیہ السلام نے اس پر کہا کہ اگر آپ کو میرے ساتھ رہنا ہی ہے تو پھر مجھ سے کسی چیز کے متعلق نہ پوچھئے گا، میں خود آپ کو بتاؤں گا۔ چنانچہ دونوں حضرات دریا کے کنارے روانہ ہوئے، ان کے قریب سے ایک کشتی گزری تو خضر علیہ السلام کو کشتی والوں نے پہچان لیا اور اپنی کشتی میں ان کو بغیر کرایہ کے چڑھا لیا دونوں کشتی میں سوار ہو گئے۔ بیان کیا کہ اسی عرصہ میں ایک چڑیا کشتی کے کنارے آ کے بیٹھی اور اس نے اپنی چونچ کو دریا میں ڈالا تو خضر علیہ السلام نے موسیٰ علیہ السلام سے فرمایا کہ میرا، آپ کا اور تمام مخلوقات کا علم اللہ کے علم کے مقابلہ میں اس سے زیادہ نہیں ہے جتنا اس چڑیا نے اپنی چونچ میں دریا کا پانی لیا ہے۔ بیان کیا کہ پھر یکدم جب خضر علیہ السلام نے بسولا اٹھایا اور کشتی کو پھاڑ ڈالا تو موسیٰ علیہ السلام اس طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا ان لوگوں نے ہمیں بغیر کسی کرایہ کے اپنی کشتی میں سوار کر لیا تھا اور آپ نے اس کا بدلہ یہ دیا ہے کہ ان کی کشتی ہی چیر ڈالی تاکہ اس کے مسافر ڈوب مریں۔ بلاشبہ آپ نے بڑا نا مناسب کام کیا ہے۔ پھر وہ دونوں آگے بڑھے تو دیکھا کہ ایک بچہ جو بہت سے دوسرے بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا، خضر نے اس کا سر پکڑا اور کاٹ ڈالا۔ اس پر موسیٰ علیہ السلام بول پڑے کہ آپ نے بلا کسی خون و بدلہ کے ایک معصوم بچے کی جان لے لی، یہ تو بڑی بری بات ہے۔ خضر علیہ السلام نے فرمایا، میں نے آپ سے پہلے ہی نہیں کہہ دیا تھا کہ آپ میرے ساتھ صبر نہیں کر سکتے، اللہ تعالیٰ کے ارشاد پس اس بستی والوں نے ان کی میزبانی سے انکار کیا، پھر اس بستی میں انہیں ایک دیوار دکھائی دی جو بس گرنے ہی والی تھی۔ خضر علیہ السلام نے اپنا ہاتھ یوں اس پر پھیرا اور اسے سیدھا کر دیا۔ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا ہم اس بستی میں آئے تو انہوں نے ہماری میزبانی سے انکار کیا اور ہمیں کھانا بھی نہیں دیا اگر آپ چاہتے تو اس پر اجرت لے سکتے تھے۔ خضر علیہ السلام نے فرمایا بس یہاں سے اب میرے اور آپ کے درمیان جدائی ہے اور میں آپ کو ان کاموں کی وجہ بتاؤں گا جن پر آپ صبر نہیں کر سکے تھے۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ کاش موسیٰ علیہ السلام نے صبر کیا ہوتا اور اللہ تعالیٰ ان کے سلسلے میں اور واقعات ہم سے بیان کرتا۔ بیان کیا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما «وكان وراءهم ملك» کی بجائے «وكان أمامهم ملك يأخذ كل سفينة صالحة غصبا» قرآت کرتے تھے اور بچہ (جسے قتل کیا تھا) اس کے والدین مومن تھے۔ اور یہ بچہ (مشیت الٰہی میں) کافر تھا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب تَفْسِيرِ الْقُرْآنِ/حدیث: 4727]
حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے عرض کی: نوف بکالی کہتا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام جو بنی اسرائیل کے رسول تھے وہ وہ موسیٰ نہیں تھے جو حضرت خضر علیہ السلام سے ملے تھے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اللہ کے دشمن نے غلط بات کہی ہے۔ ہم سے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک دن حضرت موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کو وعظ کرنے کے لیے کھڑے ہوئے تو ان سے پوچھا گیا: سب سے بڑا عالم کون ہے؟ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا: میں ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے اس پر ان پر عتاب فرمایا کیونکہ انہوں نے علم کی نسبت اللہ کی طرف نہیں کی تھی۔ اور اللہ نے ان کی طرف وحی بھیجی کہ میرے بندوں میں سے ایک بندہ دو دریاؤں کے سنگم پر رہتا ہے وہ تم سے زیادہ علم رکھتا ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عرض کی: اے میرے رب! ان تک پہنچنے کا کیا طریقہ ہو گا؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ایک مچھلی زنبیل میں ساتھ لے لو، پھر وہ مچھلی جہاں گم ہو جائے وہیں انہیں تلاش کرو۔ الغرض حضرت موسیٰ علیہ السلام نکل پڑے اور آپ کے ساتھ آپ کے رفیق سفر یوشع بن نون بھی تھے۔ مچھلی ان کے پاس تھی۔ جب وہ چٹان تک پہنچے تو وہاں ٹھہر گئے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنا سر وہیں رکھ کر سو گئے۔ سفیان نے عمرو کی روایت کے علاوہ دوسری روایت کے حوالے سے بیان کیا کہ اس چٹان کی جڑ میں ایک چشمہ تھا جسے «عَيْنُ الْحَيَاةِ» حیات کہا جاتا تھا، جس چیز پر بھی اس کا پانی پڑتا وہ زندہ ہو جاتی تھی۔ اس مچھلی پر اس کا پانی پڑا تو اس کے اندر حرکت پیدا ہو گئی اور وہ زنبیل سے نکل کر دریا میں چلی گئی۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام جب بیدار ہوئے تو ﴿آتِنَا غَدَاءَنَا﴾ [سورة الكهف: 62] انہوں نے اپنے ساتھی سے فرمایا: ہمارا ناشتہ لاؤ۔ اس سفر کے دوران میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کو سفر کی تھکاوٹ کا کوئی احساس نہ ہوا۔ جب مقررہ جگہ سے آگے بڑھے تو تھکاوٹ محسوس کی، تاہم ان کے رفیق سفر یوشع بن نون نے عرض کی: ﴿أَرَأَيْتَ إِذْ أَوَيْنَا إِلَى الصَّخْرَةِ فَإِنِّي نَسِيتُ الْحُوتَ﴾ [سورة الكهف: 63] آپ نے دیکھا جب ہم چٹان کے نیچے بیٹھے ہوئے تھے تو میں مچھلی کے متعلق آپ کو آگاہ کرنا بھول گیا۔ پھر وہ دونوں الٹے پاؤں واپس آئے، دیکھا کہ جہاں مچھلی پانی میں گری تھی وہاں اس کے گزرنے کی جگہ پر طاق کی سی صورت بنی ہوئی تھی۔ مچھلی تو پانی میں چلی گئی تھی لیکن یوشع بن نون کو اس طرح پانی کے رک جانے پر تعجب تھا۔ جب وہ چٹان کے پاس پہنچے تو وہاں ایک بزرگ کو کپڑے میں لپٹا ہوا پایا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اسے سلام کیا تو انہوں نے فرمایا: تمہاری زمین میں سلام کہاں سے آ گیا؟ فرمایا: میں موسیٰ ہوں۔ انہوں نے دریافت کیا: بنی اسرائیل کے موسیٰ؟ فرمایا: جی ہاں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ان سے مزید کہا: ﴿هَلْ أَتَّبِعُكَ عَلَى أَنْ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمْتَ رُشْدًا﴾ [سورة الكهف: 66] کیا میں آپ کے ساتھ رہ سکتا ہوں تاکہ علم ہدایت جو آپ کو دیا گیا ہے وہ آپ مجھے بھی سکھا دیں؟ حضرت خضر علیہ السلام نے کہا: اے موسیٰ! آپ کو اللہ کی طرف سے ایسا علم حاصل ہے جو میں نہیں جانتا اور اسی طرح اللہ کی طرف سے مجھے ایسا علم حاصل ہے جو آپ نہیں جانتے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا: میں آپ کے ساتھ رہوں گا۔ حضرت خضر علیہ السلام نے فرمایا: ﴿فَإِنِ اتَّبَعْتَنِي فَلَا تَسْأَلْنِي عَنْ شَيْءٍ حَتَّى أُحْدِثَ لَكَ مِنْهُ ذِكْرًا﴾ [سورة الكهف: 70] اگر آپ نے میرے ساتھ رہنا ہی ہے تو پھر مجھ سے کسی چیز کے متعلق مت پوچھیں حتی کہ میں خود آپ کو بتانا شروع کروں۔ چنانچہ دونوں حضرات دریا کے کنارے کنارے روانہ ہوئے۔ ان کے قریب سے ایک کشتی گزری تو حضرت خضر علیہ السلام کو کشتی والوں نے پہچان لیا اور اپنی کشتی میں انہیں بغیر کرائے کے سوار کر لیا۔ وہ دونوں کشتی میں سوار ہو گئے۔ اس دوران میں ایک چڑیا کشتی کے کنارے پر آ بیٹھی اور اس نے اپنی چونچ کو دریا میں ڈالا تو حضرت خضر علیہ السلام نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے فرمایا: میرا، تمہارا اور دیگر تمام مخلوق کا علم اللہ کے علم کے مقابلے میں اس سے زیادہ نہیں جتنا اس چڑیا نے اپنی چونچ میں دریا کا پانی لیا ہے۔ پھر یکدم حضرت خضر علیہ السلام نے تیشہ اٹھایا اور کشتی کو توڑ دیا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام ان کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ﴿أَخَرَقْتَهَا لِتُغْرِقَ أَهْلَهَا لَقَدْ جِئْتَ شَيْئًا إِمْرًا﴾ [سورة الكهف: 71] ان لوگوں نے کرائے کے بغیر ہمیں اپنی کشتی میں سوار کیا اور آپ نے بدلے میں یہ دیا کہ ان کی کشتی کو توڑ ڈالا تاکہ اس میں سوار تمام مسافر پانی میں ڈوب مریں۔ یقیناً آپ نے انتہائی (نامناسب) کام کیا ہے۔ پھر وہ دونوں آگے بڑھے تو دیکھا کہ ایک بچہ جو دوسرے بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا، حضرت خضر علیہ السلام نے اس کا سر پکڑا اور اسے جسم سے الگ کر دیا۔ اس پر حضرت موسیٰ علیہ السلام بول پڑے: ﴿أَقَتَلْتَ نَفْسًا زَكِيَّةً بِغَيْرِ نَفْسٍ لَقَدْ جِئْتَ شَيْئًا نُكْرًا﴾ [سورة الكهف: 74] آپ نے بلا کسی خون و بدلہ کے ایک معصوم بچے کی جان لے لی۔ یہ تو بہت نازیبا حرکت ہے۔ حضرت خضر علیہ السلام نے کہا: ﴿أَلَمْ أَقُلْ لَكَ إِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِيعَ مَعِيَ صَبْرًا﴾ [سورة الكهف: 75] میں نے آپ سے پہلے نہیں کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ رہ کر صبر نہیں کر سکیں گے؟ اس بستی والوں نے ان کی میزبانی سے انکار کر دیا۔ پھر اس بستی میں انہیں ایک دیوار دکھائی دی جو بس گرنے ہی والی تھی۔ حضرت خضر علیہ السلام نے اس پر اپنا ہاتھ پھیرا اور اسے سیدھا کر دیا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا: ہم اس بستی میں آئے تو انہوں نے ہماری میزبانی سے انکار کر دیا اور ہمیں کھانا بھی نہیں دیا ﴿لَوْ شِئْتَ لَاتَّخَذْتَ عَلَيْهِ أَجْرًا﴾ [سورة الكهف: 77] اگر آپ چاہتے تو اس کے بدلے میں اجرت لے سکتے تھے۔ حضرت خضر علیہ السلام نے فرمایا: ﴿هَذَا فِرَاقُ بَيْنِي وَبَيْنِكَ سَأُنَبِّئُكَ بِتَأْوِيلِ مَا لَمْ تَسْتَطِعْ عَلَيْهِ صَبْرًا﴾ [سورة الكهف: 78] یہ میرے اور آپ کے درمیان جدائی کا وقت ہے۔ میں عنقریب آپ کو ان کاموں کی وجہ سے آگاہ کر دوں گا جن پر آپ نے صبر نہیں کیا۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کاش! موسیٰ علیہ السلام نے صبر کیا ہوتا تو ہمیں اس سلسلے سے متعلق مزید واقعات بیان کیے جاتے۔ راوی نے کہا: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما یوں پڑھا کرتے تھے: «وَكَانَ أَمَامَهُمْ مَلِكٌ يَأْخُذُ كُلَّ سَفِينَةٍ صَالِحَةٍ غَصْبًا» اور یہ بھی پڑھا کرتے تھے: «وَأَمَّا الْغُلَامُ فَكَانَ كَافِرًا» ۔ [صحيح البخاري/كِتَاب تَفْسِيرِ الْقُرْآنِ/حدیث: 4727]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں