🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن دارمی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3535)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

45. باب إِذَا أَوْصَى بِشَيْءٍ في سَبِيلِ اللَّهِ:
جب کوئی آدمی فی سبیل اللہ کسی چیز کی وصیت کرے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3336
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ هُوَ ابْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ مُوسَى هُوَ ابْنُ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ:"أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى ابْنِ عُمَرَ فَقَالَ: إِنَّ رَجُلًا أَوْصَى إِلَيَّ وَجَعَلَ نَاقَةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَلَيْسَ هَذَا زَمَانًا يُخْرَجُ إِلَى الْغَزْوِ، فَأَحْمِلُ عَلَيْهَا فِي الْحَجِّ؟ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: الْحَجُّ وَالْعُمْرَةُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ".
نافع سے مروی ہے کہ ایک آدمی سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور کہا کہ ایک شخص نے ایک اونٹنی کو اللہ کے راستے میں دینے کی مجھے وصیت کی ہے، اور یہ جہاد کا زمانہ بھی نہیں ہے، کیا میں اس کو حج کے لئے بھیج سکتا ہوں؟ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: حج اور عمرہ فی سبیل اللہ میں شامل ہیں۔ [سنن دارمي/من كتاب الوصايا/حدیث: 3336]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 3347] »
اس اثر کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 10888] و [البيهقي 272/6] ۔ اس کا شاہد [طيالسي 202/1، 976] ، [أحمد 405/6] و [الحاكم فى المستدرك 482/1] میں موجود ہے۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3337
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ مُوسَى بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ وَاقِدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ:"أَنَّ رَجُلًا أَوْصَى بِمَالِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَسَأَلَ الْوَصِيُّ عَنْ ذَلِكَ عُمَرَ، فَقَالَ: أَعْطِهِ عُمَّالَ اللَّهِ، قَالَ: وَمَنْ عُمَّالُ اللَّهِ؟ قَالَ: حَاجُّ بَيْتِ اللَّهِ".
واقد بن محمد بن زید بن عبداللہ بن عمر سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے اپنے مال کو فی سبیل اللہ (خرچ کرنے) کی وصیت کی، جس کو وصیت کی تھی اس نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا تو انہوں نے کہا: اس کو اللہ کے عمال کو دے دو، اس نے کہا: الله کے عمال کون ہیں؟ فرمایا: بیت اللہ کا حج کرنے والے۔ [سنن دارمي/من كتاب الوصايا/حدیث: 3337]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لضعف موسى بن عبيد الربذي، [مكتبه الشامله نمبر: 3348] »
موسیٰ بن عبیدہ ربذی کی وجہ سے اس اثر کی سند ضعیف ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 10886]
وضاحت: (تشریح احادیث 3335 سے 3337)
عموماً فی سبیل اللہ سے مراد جہاد لیا جاتا ہے، اور یہ مصارفِ زکاۃ میں سے بھی ہے، لہٰذا کوئی شخص مطلقاً وصیت کرے کہ اس کا مال فی سبیل اللہ خرچ کیا جائے اور کسی خاص جہت کی تحدید نہ کرے تو وہ مال جنگی ساز و سامان اور ضروریاتِ جہاد کے لئے، نیز مجاہد کے اوپر چاہے وہ مال دار ہی ہو وہ مال خرچ کیا جائے گا، جہاد کا موقع و محل نہ ہو تو احادیث سے ثابت ہے حج و عمرہ بھی فی سبیل اللہ میں داخل ہے، اسی طرح بعض علماء کے نزدیک دعوت و تبلیغ بھی فی سبیل اللہ میں داخل ہے کیوں کہ اس سے بھی مقصد اعلائے کلمۃ اللہ ہے۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں