🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1. بَابُ قَوْلِهِ: {إِنَّكَ لاَ تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ وَلَكِنَّ اللَّهَ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ}:
باب: آیت کی تفسیر ”جس کو تم چاہو ہدایت نہیں کر سکتے، البتہ اللہ ہدایت دیتا ہے اسے جس کے لیے وہ ہدایت چاہتا ہے“۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4772
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:" لَمَّا حَضَرَتْ أَبَا طَالِبٍ الْوَفَاةُ جَاءَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدَ عِنْدَهُ أَبَا جَهْلٍ وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أُمَيَّةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، فَقَالَ:" أَيْ عَمِّ قُلْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ كَلِمَةً أُحَاجُّ لَكَ بِهَا عِنْدَ اللَّهِ"، فَقَالَ أَبُو جَهْلٍ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ: أَتَرْغَبُ عَنْ مِلَّةِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، فَلَمْ يَزَلْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْرِضُهَا عَلَيْهِ وَيُعِيدَانِهِ بِتِلْكَ الْمَقَالَةِ حَتَّى، قَالَ أَبُو طَالِبٍ: آخِرَ مَا كَلَّمَهُمْ عَلَى مِلَّةِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَأَبَى أَنْ، يَقُولَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَاللَّهِ لَأَسْتَغْفِرَنَّ لَكَ مَا لَمْ أُنْهَ عَنْكَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ: مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَنْ يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ سورة التوبة آية 113 وَأَنْزَلَ اللَّهُ فِي أَبِي طَالِبٍ، فَقَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّكَ لا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ وَلَكِنَّ اللَّهَ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ سورة القصص آية 56 قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: أُولِي الْقُوَّةِ: لَا يَرْفَعُهَا الْعُصْبَةُ مِنَ الرِّجَالِ، لَتَنُوءُ: لَتُثْقِلُ، فَارِغًا: إِلَّا مِنْ ذِكْرِ مُوسَى، الْفَرِحِينَ: الْمَرِحِينَ، قُصِّيهِ: اتَّبِعِي أَثَرَهُ، وَقَدْ يَكُونُ أَنْ يَقُصَّ الْكَلَامَ نَحْنُ نَقُصُّ عَلَيْكَ، عَنْ جُنُبٍ: عَنْ بُعْدٍ، عَنْ جَنَابَةٍ وَاحِدٌ، وَعَنِ اجْتِنَابٍ أَيْضًا يَبْطِشُ وَيَبْطُشُ، يَأْتَمِرُونَ: يَتَشَاوَرُونَ الْعُدْوَانُ وَالْعَدَاءُ وَالتَّعَدِّي، وَاحِدٌ، آنَسَ: أَبْصَرَ الْجِذْوَةُ قِطْعَةٌ غَلِيظَةٌ مِنَ الْخَشَبِ لَيْسَ فِيهَا لَهَبٌ وَالشِّهَابُ فِيهِ لَهَبٌ، وَالْحَيَّاتُ أَجْنَاسٌ الْجَانُّ وَالْأَفَاعِي وَالْأَسَاوِدُ، رِدْءًا: مُعِينًا، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: يُصَدِّقُنِي، وَقَالَ غَيْرُهُ: سَنَشُدُّ: سَنُعِينُكَ كُلَّمَا عَزَّزْتَ شَيْئًا فَقَدْ جَعَلْتَ لَهُ عَضُدًا مَقْبُوحِينَ مُهْلَكِينَ، وَصَّلْنَا: بَيَّنَّاهُ وَأَتْمَمْنَاهُ، يُجْبَى: يُجْلَبُ، بَطِرَتْ: أَشِرَتْ، فِي أُمِّهَا رَسُولًا: أُمُّ الْقُرَى مَكَّةُ وَمَا حَوْلَهَا، تُكِنُّ: تُخْفِي أَكْنَنْتُ الشَّيْءَ أَخْفَيْتُهُ وَكَنَنْتُهُ أَخْفَيْتُهُ وَأَظْهَرْتُهُ، وَيْكَأَنَّ اللَّهَ: مِثْلُ أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّهَ، يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَشَاءُ وَيَقْدِرُ: يُوَسِّعُ عَلَيْهِ وَيُضَيِّقُ عَلَيْهِ".
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا۔ انہیں سعید بن مسیب نے خبر دی اور ان سے ان کے والد (مسیب بن حزن) نے بیان کیا کہ جب ابوطالب کی وفات کا وقت قریب ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس آئے، ابوجہل اور عبداللہ بن ابی امیہ بن مغیرہ وہاں پہلے ہی سے موجود تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ چچا! آپ صرف کلمہ «لا إله إلا الله» پڑھ دیجئیے تاکہ اس کلمہ کے ذریعہ اللہ کی بارگاہ میں آپ کی شفاعت کروں۔ اس پر ابوجہل اور عبداللہ بن ابی امیہ بولے کیا تم عبدالمطلب کے مذہب سے پھر جاؤ گے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باربار ان سے یہی کہتے رہے (کہ آپ صرف ایک کلمہ پڑھ لیں) اور یہ دونوں بھی اپنی بات ان کے سامنے باربار دہراتے رہے (کہ کیا تم عبدالمطلب کے مذہب سے پھر جاؤ گے؟) آخر ابوطالب کی زبان سے جو آخری کلمہ نکلا وہ یہی تھا کہ وہ عبدالمطلب کے مذہب پر ہی قائم ہیں۔ انہوں نے «لا إله إلا الله» پڑھنے سے انکار کر دیا۔ راوی نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کی قسم! میں آپ کے لیے طلب مغفرت کرتا رہوں گا تاآنکہ مجھے اس سے روک نہ دیا جائے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی «ما كان للنبي والذين آمنوا أن يستغفروا للمشركين‏» ”نبی اور ایمان والوں کے لیے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ مشرکین کے لیے دعائے مغفرت کریں۔“ اور خاص ابوطالب کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا «إنك لا تهدي من أحببت ولكن الله يهدي من يشاء‏» کہ ”جس کو تم چاہو ہدایت نہیں کر سکتے، البتہ اللہ ہدایت دیتا ہے اسے جس کے لیے وہ ہدایت چاہتا ہے۔“ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا «أولي القوة‏» سے یہ مراد ہے کہ کئی زور دار آدمی مل کر بھی اس کی کنجیاں نہیں اٹھا سکتے تھے۔ «لتنوء‏» کا مطلب ڈھوئی جاتی تھیں۔ «فارغا‏» کا معنی یہ ہے کہ موسیٰ کی ماں کے دل میں موسیٰ کے سوا اور کوئی خاص نہیں رہا تھا۔ «الفرحين‏» کا معنی خوشی سے اتراتے ہوئے۔ «قصيه‏» یعنی اس کے پیچھے پیچھے چلی جا۔ «قصص» کے معنی بیان کرنے کے ہوتے ہیں جیسے سورۃ یوسف میں فرمایا «نحن نقص عليك‏»، «عن جنب‏» یعنی دور سے «عن جنابة» کا بھی یہی معنی ہے اور «عن اجتناب» کا بھی یہی ہے۔ «يبطش» ‏‏‏‏ بہ کسرہ طاء اور «يبطش‏.‏» بہ ضمہ طاء دونوں قرآت ہیں۔ «يأتمرون‏» مشورہ کر رہے ہیں۔ «عدوان» اور «عدو» اور «تعدي» سب کا ایک ہی مفہوم ہے یعنی حد سے بڑھ جانا ظلم کرنا۔ «آنس‏» کا معنی دیکھنا۔ «جذوة» لکڑی کا موٹا ٹکڑا جس کے سر ے پر آگ لگی ہو مگر اس میں شعلہ نہ ہو اور «شهاب» جو آیت «اواتیکم بشهاب قبس» میں ہے اس سے مراد ایسی جلتی ہوئی لکڑی جس میں شعلہ ہو۔ «حيات» یعنی سانپوں کی مختلف قسمیں (جیسے) جان، افعی، اسود وغیرہ «ردءا‏» یعنی مددگار، پشت پناہ۔ ابن عباس رضی اللہ عنہا نے «يصدقني‏» بہ ضمہ قاف پڑھا ہے۔ اوروں نے کہا «سنشد‏» کا معنی یہ ہے کہ ہم تیری مدد کریں گے عرب لوگ کا محاورہ ہے جب کسی کو قوت دیتے ہیں تو کہتے ہیں «جعلت له عضدا‏.‏» ۔ «مقبوحين» ‏‏‏‏ کا معنی ہلاک کئے گئے۔ «وصلنا‏» ہم نے اس کو بیان کیا اور پورا کیا۔ «يجبى‏» کچھے آتے ہیں۔ «بطرت‏» شرارت کی۔ «في أمها رسولا‏»، «أم القرى» مکہ اور اس کے اطراف کو کہتے ہیں۔ «تكن‏» کا معنی چھپاتی ہیں۔ عرب لوگ کہتے ہیں «أكننت» ‏‏‏‏ یعنی میں نے اس کو چھپا لیا۔ «كننته» کا بھی یہی معنی ہے۔ «ويكأن الله‏» کا معنی «ألم تر أن الله» کے یعنی کیا تو نے نہیں دیکھا۔ «يبسط الرزق لمن يشاء ويقدر‏» یعنی اللہ جس کو چاہتا ہے فراغت سے روزی دیتا ہے جسے چاہتا ہے تنگی سے دیتا ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب تَفْسِيرِ الْقُرْآنِ/حدیث: 4772]
حضرت سعید بن مسیب کے والد حضرت مسیب بن حزن رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”جب ابوطالب کی وفات کا وقت آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لے گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ وہاں ابوجہل اور عبداللہ بن ابی امیہ بن مغیرہ پہلے ہی سے بیٹھے ہوئے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوطالب سے فرمایا: ”اے چچا جان! آپ «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» "لا الہ الا اللہ" پڑھ لیں تو میں قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے ہاں اسے بطور دلیل پیش کر سکوں گا۔“ ابوجہل اور عبداللہ بن ابی امیہ کہنے لگے: ”اے ابوطالب! کیا آپ عبدالمطلب کا دین چھوڑ دیں گے؟“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے بار بار یہی کہتے رہے اور وہ دونوں بھی بار بار اپنی بات دہراتے رہے۔ آخر ابوطالب کی زبان سے جو آخری کلمہ نکلا وہ یہی تھا کہ وہ عبدالمطلب کے مذہب ہی پر قائم ہیں اور انہوں نے «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» "لا الہ الا اللہ" پڑھنے سے انکار کر دیا۔ راوی نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! میں آپ کے لیے ضرور مغفرت طلب کرتا رہوں گا جب تک کہ مجھے اس سے روک نہ دیا جائے۔“ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَن يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ﴾ [سورة التوبة: 113] ”نبی اور اہل ایمان کے لیے یہ مناسب نہیں کہ وہ مشرکین کے لیے دعائے مغفرت کریں۔“ اور اللہ تعالیٰ نے ابوطالب کے متعلق یہ آیت نازل کی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا: ﴿إِنَّكَ لَا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ وَلَٰكِنَّ اللَّهَ يَهْدِي مَن يَشَاءُ﴾ [سورة القصص: 56] ”بیشک آپ جسے چاہیں ہدایت نہیں دے سکتے بلکہ اللہ تعالیٰ ہی جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔“ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: «أُولِي الْقُوَّةِ» [سورة القصص: 76] کا مطلب ہے کہ قارون کے خزانوں کی چابیوں کو طاقت ور مردوں کی ایک جماعت بھی نہیں اٹھا پاتی تھی۔ «لَتَنُوءُ» [سورة القصص: 76] کے معنی ہیں: ”بوجھل کر دیتی تھی، بوجھ سے جھکا دیتی تھی۔“ «فَارِغًا» [سورة القصص: 10] کے معنی ہیں: ”حضرت موسیٰ علیہ السلام کی ماں کے دل میں موسیٰ علیہ السلام کے علاوہ اور کوئی خیال نہیں رہا تھا۔“ «الْفَرِحِينَ» [سورة القصص: 76] سے مراد ”اترانے والے، مارے خوشی کے پھول جانے والے“ ہیں۔ «قُصِّيهِ» [سورة القصص: 11] کے معنی ہیں: ”اس کے پیچھے پیچھے چلی جا۔“ اور کبھی یہ لفظ قصہ اور کلام بیان کرنے کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے جیسا کہ ﴿نَحْنُ نَقُصُّ عَلَيْكَ﴾ [سورة يوسف: 3] میں ہے، یعنی ”ہم آپ کو بیان سناتے ہیں۔“ «عَنْ جُنُبٍ» [سورة القصص: 11] کے معنی بُعد کے ہیں، یعنی ”دور سے“ اور «عَنْ جَنَابَةٍ» کے بھی یہی معنی ہیں کہ وہ پاکی سے دور ہو گیا، اسی طرح «عَنِ اجْتِنَابٍ» کے معنی ہیں کہ ”وہ پرہیز کر گیا۔“ «نَبْطِشُ» (از باب ضرب) اور «نَبْطُشُ» (از باب نصر) دونوں کے معنی ”گرفت کرنا“ ہیں۔ «يَأْتَمِرُونَ» [سورة القصص: 20] کے معنی ہیں: ”باہم مشورہ کر رہے ہیں۔“ «الْعُدْوَانُ»، «الْعَدَاءُ» اور «التَّعَدِّي» کے ایک ہی معنی ہیں، یعنی ”زیادتی کرنا اور حد سے تجاوز کرنا۔“ «آنَسَ» [سورة القصص: 29] کے معنی ہیں: ”اس نے دیکھا۔“ «الْجَذْوَةُ» [سورة القصص: 29] لکڑی کا وہ موٹا ٹکڑا جس کے سرے پر آگ لگی ہو لیکن اس میں شعلہ نہ ہو اور «شِهَابٍ» شعلے دار کو کہتے ہیں۔ «الْحَيَّاتُ» یعنی سانپوں کی مختلف اقسام، «الْجَانُّ» [سورة القصص: 31] چھوٹا اور سفید سانپ، «الْأَفَاعِي» بڑا سانپ اور «الْأَسَاوِدُ» سیاہ ناگ کو کہتے ہیں۔ «رِدْءًا» [سورة القصص: 34] کے معنی ہیں: ”مددگار اور پشت پناہ۔“ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے «يُصَدِّقُنِي» [سورة القصص: 34] کے معنی کیے ہیں: ”وہ میری تصدیق کرے“ یعنی میری بات کو کھول کر بیان کر دے۔ ان کے علاوہ دیگر اہل علم نے کہا ہے کہ «سَنَشُدُّ» [سورة القصص: 35] کے معنی ہیں: ”ہم تیری مدد کریں گے۔“ جب تم کسی کی مدد کرتے ہو تو گویا اس کا بازو بن جاتے ہو۔ «الْمَقْبُوحِينَ» [سورة القصص: 42] کے معنی ہیں: ”ہلاک شدہ۔“ «وَصَّلْنَا» [سورة القصص: 51] کے معنی ہیں: ”ہم نے اس کو بیان کیا اور پورا کیا۔“ «يُجْبَىٰ» [سورة القصص: 57] کے معنی ہیں: ”کھچے چلے آتے ہیں۔“ «بَطِرَتْ» [سورة القصص: 58] کے معنی ہیں: ”تکبر کیا اور شرارت کی۔“ ﴿فِي أُمِّهَا رَسُولًا﴾ [سورة القصص: 59] سے مراد ”ام القریٰ“ یعنی مکہ اور اس کے اطراف ہیں۔ «تُكِنُّ» [سورة القصص: 69] کے معنی ہیں «تُخْفِي»، یعنی ”پوشیدہ رکھتے ہیں۔“ اہل عرب کہتے ہیں: «أَكْنَنْتُ الشَّيْءَ» ”میں نے اس کو چھپا لیا“ اور «كَنَنْتُهُ» کے بھی یہی معنی ہیں۔ اس کے معنی ظاہر کرنا بھی ہیں، یعنی یہ لفظ اضداد سے ہے۔ «وَيْكَأَنَّ اللَّهَ» [سورة القصص: 82] کے معنی «أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّهَ» کے ہیں۔ ﴿يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَن يَشَآءُ وَيَقْدِرُ﴾ [سورة القصص: 82] کے معنی ہیں: ”جس کو چاہتا ہے فراخ روزی دیتا ہے اور جسے چاہتا تنگ روزی دیتا ہے۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب تَفْسِيرِ الْقُرْآنِ/حدیث: 4772]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں