🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

معجم صغير للطبراني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم فقہی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

معجم صغير للطبراني ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1198)
حدیث نمبر لکھیں:
معجم صغير للطبراني ترقیم فقہی سے تلاش کل احادیث (1197)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

محمد نام اور ابوالقاسم کنیت جمع کرنے کی اجازت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 651
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عِقَالٍ أَبُو الْفَوَارِسِ الْحَرَّانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ النُّفَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِمْرَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحَجَبِيُّ ، عَنْ جَدَّتِهِ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ:" إِنِّي وُلِدَ لِي غُلامٌ، فَسَمَّيْتُهُ مُحَمَّدًا، وَكَنَّيْتُهُ أَبَا الْقَاسِمِ، فَذُكِرَ لِي أَنَّكَ تَكْرَهُ ذَلِكَ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا الَّذِي أَحَلَّ اسْمِي وَحَرَّمَ كُنْيَتِي، وَمَا الَّذِي حَرَّمَ كُنْيَتِي وَأَحَلَّ اسْمِي"، لَمْ يَرْوِهِ عَنْ صَفِيَّةَ، إِلا مُحَمَّدُ بْنُ عِمْرَانَ، وَلا يُرْوَى عَنْ عَائِشَةَ، إِلا بِهَذَا الإِسْنَادِ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہنے لگی: میرے ہاں ایک بچہ پیدا ہوا، میں نے اس کا نام محمد رکھ دیا ہے اور اس کی کنیت ابوالقاسم رکھ دی، پھر مجھے معلوم ہوا کہ آپ اس بات کو ناپسند سمجھتے ہیں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے نام کو حلال اور کنیت کو حرام کس نے کیا ہے؟ یا فرمایا: کس نے میری کنیت کو حرام اور میرے نام کو حلال کیا ہے؟ [معجم صغير للطبراني/کتاب الادب/حدیث: 651]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه أبو داود فى «سننه» برقم: 4968، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 19392، وأحمد فى «مسنده» برقم: 25680، 26386، والطبراني فى «الأوسط» برقم: 1057، والطبراني فى «الصغير» برقم: 16
قال ابن حجر: قلت وهو متن منكر مخالف للأحاديث الصحيحة، تهذيب التهذيب: (3 / 666) ● ذكر الطبراني في الأوسط أن محمد بن عمران الحجبي تفرد به عن صفية بنت شيبة عنها ومحمد المذكور مجهول، فتح الباري شرح صحيح البخاري: (10 / 587)»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں