🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Our Whatsapp Channel
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

2. بَابُ: {تَبْتَغِي مَرْضَاةَ أَزْوَاجِكَ}، {قَدْ فَرَضَ اللَّهُ لَكُمْ تَحِلَّةَ أَيْمَانِكُمْ}:
باب: آیت کی تفسیر ”اے نبی! آپ اپنی بیویوں کی خوشی حاصل کرنا چاہتے ہیں اللہ نے تمہارے لیے قسموں کا کفارہ مقرر کر دیا ہے“۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4913
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ حُنَيْنٍ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يُحَدِّثُ، أَنَّهُ قَالَ:" مَكَثْتُ سَنَةً أُرِيدُ أَنْ أَسْأَلَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ عَنْ آيَةٍ فَمَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أَسْأَلَهُ هَيْبَةً لَهُ، حَتَّى خَرَجَ حَاجًّا، فَخَرَجْتُ مَعَهُ، فَلَمَّا رَجَعْنَا وَكُنَّا بِبَعْضِ الطَّرِيقِ عَدَلَ إِلَى الْأَرَاكِ لِحَاجَةٍ لَهُ، قَالَ: فَوَقَفْتُ لَهُ حَتَّى فَرَغَ، ثُمَّ سِرْتُ مَعَهُ، فَقُلْتُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، مَنِ اللَّتَانِ تَظَاهَرَتَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَزْوَاجِهِ؟ فَقَالَ: تِلْكَ حَفْصَةُ، وَعَائِشَةُ، قَالَ: فَقُلْتُ: وَاللَّهِ إِنْ كُنْتُ لَأُرِيدُ أَنْ أَسْأَلَكَ عَنْ هَذَا مُنْذُ سَنَةٍ فَمَا أَسْتَطِيعُ هَيْبَةً لَكَ، قَالَ: فَلَا تَفْعَلْ مَا ظَنَنْتَ أَنَّ عِنْدِي مِنْ عِلْمٍ فَاسْأَلْنِي، فَإِنْ كَانَ لِي عِلْمٌ خَبَّرْتُكَ بِهِ، قَالَ: ثُمَّ قَالَ عُمَرُ: وَاللَّهِ إِنْ كُنَّا فِي الْجَاهِلِيَّةِ مَا نَعُدُّ لِلنِّسَاءِ أَمْرًا حَتَّى أَنْزَلَ اللَّهُ فِيهِنَّ مَا أَنْزَلَ، وَقَسَمَ لَهُنَّ مَا قَسَمَ، قَالَ: فَبَيْنَا أَنَا فِي أَمْرٍ أَتَأَمَّرُهُ إِذْ قَالَتِ امْرَأَتِي لَوْ صَنَعْتَ كَذَا وَكَذَا، قَالَ: فَقُلْتُ لَهَا: مَا لَكَ وَلِمَا هَا هُنَا وَفِيمَ تَكَلُّفُكِ فِي أَمْرٍ أُرِيدُهُ، فَقَالَتْ لِي: عَجَبًا لَكَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ مَا تُرِيدُ أَنْ تُرَاجَعَ أَنْتَ وَإِنَّ ابْنَتَكَ لَتُرَاجِعُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى يَظَلَّ يَوْمَهُ غَضْبَانَ، فَقَامَ عُمَرُ، فَأَخَذَ رِدَاءَهُ مَكَانَهُ حَتَّى دَخَلَ عَلَى حَفْصَةَ، فَقَالَ لَهَا: يَا بُنَيَّةُ إِنَّكِ لَتُرَاجِعِينَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى يَظَلَّ يَوْمَهُ غَضْبَانَ، فَقَالَتْ حَفْصَةُ: وَاللَّهِ إِنَّا لَنُرَاجِعُهُ، فَقُلْتُ: تَعْلَمِينَ أَنِّي أُحَذِّرُكِ عُقُوبَةَ اللَّهِ وَغَضَبَ رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا بُنَيَّةُ لَا يَغُرَّنَّكِ هَذِهِ الَّتِي أَعْجَبَهَا حُسْنُهَا حُبُّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِيَّاهَا، يُرِيدُ عَائِشَةَ، قَالَ: ثُمَّ خَرَجْتُ حَتَّى دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ لِقَرَابَتِي مِنْهَا فَكَلَّمْتُهَا، فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: عَجَبًا لَكَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ دَخَلْتَ فِي كُلِّ شَيْءٍ حَتَّى تَبْتَغِيَ أَنْ تَدْخُلَ بَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَزْوَاجِهِ، فَأَخَذَتْنِي وَاللَّهِ أَخْذًا كَسَرَتْنِي عَنْ بَعْضِ مَا كُنْتُ أَجِدُ، فَخَرَجْتُ مِنْ عِنْدِهَا وَكَانَ لِي صَاحِبٌ مِنْ الْأَنْصَارِ إِذَا غِبْتُ أَتَانِي بِالْخَبَرِ، وَإِذَا غَابَ كُنْتُ أَنَا آتِيهِ بِالْخَبَرِ، وَنَحْنُ نَتَخَوَّفُ مَلِكًا مِنْ مُلُوكِ غَسَّانَ ذُكِرَ لَنَا أَنَّهُ يُرِيدُ أَنْ يَسِيرَ إِلَيْنَا، فَقَدِ امْتَلَأَتْ صُدُورُنَا مِنْهُ فَإِذَا صَاحِبِي الْأَنْصَارِيُّ يَدُقُّ الْبَابَ، فَقَالَ: افْتَحْ افْتَحْ، فَقُلْتُ: جَاءَ الْغَسَّانِيُّ، فَقَالَ: بَلْ أَشَدُّ مِنْ ذَلِكَ اعْتَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَزْوَاجَهُ، فَقُلْتُ: رَغَمَ أَنْفُ حَفْصَةَ وَعَائِشَةَ، فَأَخَذْتُ ثَوْبِي، فَأَخْرُجُ حَتَّى جِئْتُ فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَشْرُبَةٍ لَهُ يَرْقَى عَلَيْهَا بِعَجَلَةٍ وَغُلَامٌ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْوَدُ عَلَى رَأْسِ الدَّرَجَةِ، فَقُلْتُ لَهُ: قُلْ هَذَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، فَأَذِنَ لِي، قَالَ عُمَرُ: فَقَصَصْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا الْحَدِيثَ فَلَمَّا بَلَغْتُ حَدِيثَ أُمِّ سَلَمَةَ تَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِنَّهُ لَعَلَى حَصِيرٍ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ شَيْءٌ، وَتَحْتَ رَأْسِهِ وِسَادَةٌ مِنْ أَدَمٍ حَشْوُهَا لِيفٌ، وَإِنَّ عِنْدَ رِجْلَيْهِ قَرَظًا مَصْبُوبًا وَعِنْدَ رَأْسِهِ أَهَبٌ مُعَلَّقَةٌ، فَرَأَيْتُ أَثَرَ الْحَصِيرِ فِي جَنْبِهِ، فَبَكَيْتُ، فَقَالَ:" مَا يُبْكِيكَ؟" فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ كِسْرَى وَقَيْصَرَ فِيمَا هُمَا فِيهِ، وَأَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ، فَقَالَ:" أَمَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ لَهُمُ الدُّنْيَا وَلَنَا الْآخِرَةُ".
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سلیمان بن بلال نے بیان کیا، ان سے یحییٰ نے، ان سے عبید بن حنین نے کہ انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو حدیث بیان کرتے ہوئے سنا، انہوں نے کہا ایک آیت کے متعلق عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے پوچھنے کے لیے ایک سال تک میں تردد میں رہا، ان کا اتنا ڈر غالب تھا کہ میں ان سے نہ پوچھ سکا۔ آخر وہ حج کے لیے گئے تو میں بھی ان کے ساتھ ہو لیا، واپسی میں جب ہم راستہ میں تھے تو رفع حاجت کے لیے وہ پیلو کے درخت میں گئے۔ بیان کیا کہ میں ان کے انتظار میں کھڑا رہا جب وہ فارغ ہو کر آئے تو پھر میں ان کے ساتھ چلا اس وقت میں نے عرض کیا۔ امیرالمؤمنین! امہات المؤمنین میں وہ کون دو عورتیں تھیں جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے متفقہ منصوبہ بنایا تھا؟ انہوں نے بتلایا کہ حفصہ اور عائشہ رضی اللہ عنہما تھیں۔ بیان کیا کہ میں نے عرض کیا اللہ کی قسم میں یہ سوال آپ سے کرنے کے لیے ایک سال سے ارادہ کر رہا تھا لیکن آپ کے رعب کی وجہ سے پوچھنے کی ہمت نہیں ہوتی تھی۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا ایسا نہ کیا کرو جس مسئلہ کے متعلق تمہارا خیال ہو کہ میرے پاس اس سلسلے میں کوئی علم ہے تو اسے پوچھ لیا کرو، اگر میرے پاس اس کا کوئی علم ہو گا تو تمہیں بتا دیا کروں گا۔ بیان کیا کہ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! جاہلیت میں ہماری نظر میں عورتوں کی کوئی عزت نہ تھی۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں وہ احکام نازل کئے جو نازل کرنے تھے اور ان کے حقوق مقرر کئے جو مقرر کرنے تھے۔ بتلایا کہ ایک دن میں سوچ رہا تھا کہ میری بیوی نے مجھ سے کہا کہ بہتر ہے اگر تم اس معاملہ کا فلاں فلاں طرح کرو، میں نے کہا تمہارا اس میں کیا کام۔ معاملہ مجھ سے متعلق ہے تم اس میں دخل دینے والی کون ہوتی ہو؟ میری بیوی نے اس پر کہا: خطاب کے بیٹے! تمہارے اس طرز عمل پر حیرت ہے تم اپنی باتوں کا جواب برداشت نہیں کر سکتے تمہاری لڑکی (حفصہ) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی جواب دے دیتی ہیں ایک دن تو اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو غصہ بھی کر دیا تھا۔ یہ سن کر عمر رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے اور اپنی چادر اوڑھ کر حفصہ کے گھر پہنچے اور فرمایا بیٹی! کیا تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی باتوں کا جواب دے دیتی ہو یہاں تک کہ ایک دن تم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دن بھر ناراض بھی رکھا ہے۔ حفصہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: جی ہاں، اللہ کی قسم! ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی جواب دے دیتے ہیں۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے کہا جان لو میں تمہیں اللہ کی سزا اور اس کے رسول کی سزا (ناراضگی) سے ڈراتا ہوں۔ بیٹی! اس عورت کی وجہ سے دھوکا میں نہ آ جانا جس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت حاصل کر لی ہے۔ ان کا اشارہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف تھا کہا کہ پھر میں وہاں سے نکل کر ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا کیونکہ وہ بھی میری رشتہ دار تھیں۔ میں نے ان سے بھی گفتگو کی انہوں نے کہا ابن خطاب! تعجب ہے کہ آپ ہر معاملہ میں دخل اندازی کرتے ہیں اور آپ چاہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کی ازواج کے معاملات میں بھی دخل دیں۔ اللہ کی قسم! انہوں نے میری ایسی گرفت کی کہ میرے غصہ کو ٹھنڈا کر کے رکھ دیا، میں ان کے گھر سے باہر نکل آیا۔ میرے ایک انصاری دوست تھے، جب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں حاضر نہ ہوتا تو وہ مجلس کی تمام باتیں مجھ سے آ کر بتایا کرتے اور جب وہ حاضر نہ ہوتے تو میں انہیں آ کر بتایا کرتا تھا۔ اس زمانہ میں ہمیں غسان کے بادشاہ کی طرف سے ڈر تھا اطلاع ملی تھی کہ وہ مدینہ پر چڑھائی کرنے کا ارادہ کر رہا ہے، اس زمانہ میں کئی عیسائی اور ایرانی بادشاہ ایسا غلط گھمنڈ رکھتے تھے کہ یہ مسلمان کیا ہیں ہم جب چاہیں گے ان کا صفایا کر دیں گے مگر یہ سارے خیالات غلط ثابت ہوئے اللہ نے اسلام کو غالب کیا۔ چنانچہ ہم کو ہر وقت یہی خطرہ رہتا تھا، ایک دن اچانک میرے انصاری دوست نے دروازہ کھٹکھٹایا اور کہا کھولو! کھولو! کھولو! میں نے کہا معلوم ہوتا ہے غسانی آ گئے۔ انہوں نے کہا بلکہ اس سے بھی زیادہ اہم معاملہ پیش آ گیا ہے، وہ یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں سے علیحدگی اختیار کر لی ہے۔ میں نے کہا حفصہ اور عائشہ رضی اللہ عنہما کی ناک غبار آلود ہو۔ چنانچہ میں نے اپنا کپڑا پہنا اور باہر نکل آیا۔ میں جب پہنچا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بالاخانہ میں تشریف رکھتے تھے جس پر سیڑھی سے چڑھا جاتا تھا۔ نبی کریم کا ایک حبشی غلام (رباح) سیڑھی کے سرے پر موجود تھا، میں نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کرو کہ عمر بن خطاب آیا ہے اور اندر آنے کی اجازت چاہتا ہے۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچ کر اپنا سارا واقعہ سنایا۔ جب میں ام سلمہ رضی اللہ عنہما کی گفتگو پر پہنچا تو آپ کو ہنسی آ گئی۔ اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھجور کی ایک چٹائی پر تشریف رکھتے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم مبارک اور اس چٹائی کے درمیان کوئی اور چیز نہیں تھی آپ کے سر کے نیچے ایک چمڑے کا تکیہ تھا۔ جس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی۔ پاؤں کی طرف کیکر کے پتوں کا ڈھیر تھا اور سر کی طرف مشکیزہ لٹک رہا تھا۔ میں نے چٹائی کے نشانات آپ کے پہلو پر دیکھے تو رو پڑا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، کس بات پر رونے لگے ہو میں نے عرض کی یا رسول اللہ! قیصر و کسریٰ کو دنیا کا ہر طرح کا آرام مل رہا ہے آپ اللہ کے رسول ہیں (آپ پھر ایسی تنگ زندگی گزارتے ہیں) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم اس پر خوش نہیں ہو کہ ان کے حصہ میں دنیا ہے اور ہمارے حصہ میں آخرت ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب تَفْسِيرِ الْقُرْآنِ/حدیث: 4913]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں ایک آیت کے متعلق حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھنے کے لیے ایک سال تک ٹھہرا رہا لیکن ان کی ہیبت کی وجہ سے میری ہمت نہ پڑتی تھی۔ آخر وہ ایک مرتبہ حج کے لیے تشریف لے گئے تو میں بھی ان کے ساتھ گیا۔ واپسی کے وقت جب ہم راستے میں تھے تو آپ رفع حاجت کے لیے ایک پیلو کے درخت کے پاس گئے۔ میں ان کے انتظار میں کھڑا رہا۔ جب آپ فارغ ہو کر آئے تو میں بھی آپ کے ساتھ چلا۔ اس وقت میں نے عرض کی: ”اے امیر المومنین! امہات المومنین میں سے وہ کون دو عورتیں تھیں جنہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق ایک منصوبہ تشکیل دیا تھا؟“ انہوں نے بتایا کہ وہ ”حضرت حفصہ اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہما تھیں۔“ میں نے کہا: ”اللہ کی قسم! میں آپ سے یہ سوال کرنے کے لیے ایک سال سے ارادہ کر رہا تھا، لیکن آپ کے رعب کی وجہ سے پوچھنے کی ہمت نہیں ہوتی تھی۔“ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ایسا نہ کیا کرو، جس مسئلے کی بابت تمہارا خیال ہو کہ میرے پاس اس کے متعلق معلومات ہیں تو وہ پوچھ لیا کرو۔ اگر میرے پاس اس کے متعلق کچھ علم ہو گا تو میں تمہیں ضرور بتا دیا کروں گا۔“ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! دور جاہلیت کے وقت ہماری نظر میں عورتوں کی کوئی حیثیت نہ تھی حتی کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے متعلق وہ احکام نازل فرمائے جو نازل کرنے تھے اور ان کے حقوق مقرر کیے جو کرنے تھے۔ ایک دن یوں ہوا کہ میں کچھ سوچ بچار میں تھا کہ میری بیوی نے مجھ سے کہا: بہتر ہے تم یہ معاملہ فلاں فلاں طرح حل کرو۔ میں نے اس سے کہا: تمہارا اس کام میں کیا داخل؟ یہ معاملہ مجھ سے متعلق ہے، تمہیں دخل اندازی کرنے کی چنداں ضرورت نہیں۔ میری بیوی نے کہا: اے خطاب کے بیٹے! تمہارے اس طرز عمل پر مجھے حیرت ہے کہ تم اپنی باتوں کا جواب برداشت نہیں کرتے جبکہ تمہاری بیٹی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی جواب دے دیتی ہے، یہاں تک کہ وہ سارا سارا دن ان سے ناراض رہتے ہیں۔ یہ سن کر عمر کھڑے ہو گئے اور اپنی چادر اوڑھ کر حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے گھر پہنچے اور کہا: بیٹی! تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تکرار کرتی ہو یہاں تک کہ وہ سارا سارا دن تم سے ناراض رہتے ہیں؟“ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا: ”ہاں، اللہ کی قسم! ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بعض اوقات تکرار کرتی ہیں۔“ میں نے کہا: ”تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ میں تمہیں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ناراضی سے خبردار کرتا ہوں۔ اے بیٹی! تم اس عورت کی وجہ سے دھوکے میں نہ آ جانا جسے اپنے حسن پر بڑا ناز ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی وہ پیاری ہے۔“ (ان کا اشارہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف تھا)۔ پھر میں وہاں سے نکل کر ام المومنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا جو میری رشتے دار تھیں۔ میں نے اس معاملے میں ان سے بات کی تو حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا: ”اے ابن خطاب! تم عجیب آدمی ہو! ہر معاملے میں دخل اندازی کرتے ہو، یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کی ازواج مطہرات کے متعلق بھی دخل دینے چلے ہو۔“ اللہ کی قسم! ان کی اس بات نے میری ہمت پست کر دی، چنانچہ میں ان کے گھر سے باہر نکل آیا۔ میرے ایک انصاری دوست تھے، جب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں حاضر نہ ہوتا تو وہ مجلس کی تمام باتیں آ کر مجھے بتاتے اور جب وہ حاضر نہ ہوتے تو میں انہیں مجلس کی باتوں سے آگاہ کرتا تھا۔ یہ وہ زمانہ تھا کہ ہمیں غسان کے ایک بادشاہ کے حملے کا خطرہ لگا ہوا تھا کیونکہ ہمیں اطلاع ملی تھی کہ وہ مدینہ پر چڑھائی کرنے کا ارادہ رکھے ہوئے ہے۔ اس کے خوف سے ہمارے سینے بھرے ہوئے تھے۔ ایک دن اچانک میرے دوست نے دروازہ کھٹکھٹایا اور کہا: ”دروازہ کھولو، دروازہ کھولو!“ میں نے پوچھا: ”کیا غسانی چڑھ آئے؟“ اس نے کہا: ”اس سے بھی اہم معاملہ پیش آ گیا ہے، وہ یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں سے علیحدگی اختیار کر لی ہے۔“ میں نے کہا: ”حفصہ اور عائشہ کی ناک خاک آلود ہو!“ چنانچہ میں نے اپنا لباس پہنا اور باہر نکل آیا۔ جب میں پہنچا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بالا خانہ میں تشریف فرما تھے جس پر آپ سیڑھی سے چڑھتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک حبشی غلام سیڑھی کے کنارے پر موجود تھا۔ میں نے اسے کہا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کرو کہ عمر بن خطاب آیا ہے اور اندر آنے کی اجازت چاہتا ہے“، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اجازت دے دی۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچ کر سارا واقعہ گوش گزار کیا۔ جب میں حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی گفتگو پر پہنچا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرانے لگے۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھجور کی ایک چٹائی پر تشریف رکھتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم مبارک اور چٹائی کے درمیان کوئی اور چیز نہ تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر کے نیچے ایک چمڑے کا تکیہ تھا جس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی، پاؤں کی طرف کیکر کے پتوں کا ڈھیر تھا اور سر کی طرف ایک مشکیزہ لٹک رہا تھا۔ میں نے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو پر چٹائی کے نشانات دیکھے تو آبدیدہ ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم کس بات پر رونے لگے ہو؟“ میں نے عرض کی: ”اللہ کے رسول! قیصر و کسریٰ کو دنیا کی تمام سہولیات میسر ہیں اور آپ تو اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم اس پر خوش نہیں ہو کہ ان کے حصے میں دنیا ہے اور ہمارے حصے میں آخرت ہے؟“ [صحيح البخاري/كِتَاب تَفْسِيرِ الْقُرْآنِ/حدیث: 4913]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں