صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. بَابُ: {وَمَا خَلَقَ الذَّكَرَ وَالأُنْثَى}:
باب: آیت کی تفسیر ”اور قسم ہے اس کی جس نے نر اور مادہ کو پیدا کیا“۔
حدیث نمبر: 4944
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: قَدِمَ أَصْحَابُ عَبْدِ اللَّهِ عَلَى أَبِي الدَّرْدَاءِ، فَطَلَبَهُمْ، فَوَجَدَهُمْ، فَقَالَ: أَيُّكُمْ يَقْرَأُ عَلَى قِرَاءَةِ عَبْدِ اللَّهِ؟ قَالَ: كُلُّنَا، قَالَ: فَأَيُّكُمْ أَحْفَظُ؟ فَأَشَارُوا إِلَى عَلْقَمَةَ، قَالَ: كَيْفَ سَمِعْتَهُ يَقْرَأُ وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى سورة الليل آية 1؟ قَالَ عَلْقَمَةُ: 0 وَالذَّكَرِ وَالْأُنْثَى 0، قَالَ: أَشْهَدُ أَنِّي سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ هَكَذَا، وَهَؤُلَاءِ يُرِيدُونِي عَلَى أَنْ أَقْرَأَ وَمَا خَلَقَ الذَّكَرَ وَالأُنْثَى سورة الليل آية 3 وَاللَّهِ لَا أُتَابِعُهُمْ".
ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا، کہا مجھ سے میرے والد نے، کہا ہم سے اعمش نے، ان سے ابراہیم نخعی نے بیان کیا کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے کچھ شاگرد ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کے یہاں (شام) آئے انہوں نے انہیں تلاش کیا اور پا لیا۔ پھر ان سے پوچھا کہ تم میں کون عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرآت کے مطابق قرآت کر سکتا ہے؟ شاگروں نے کہا کہ ہم سب کر سکتے ہیں۔ پھر پوچھا کسے ان کی قرآت زیادہ محفوظ ہے؟ سب نے علقمہ کی طرف اشارہ کیا۔ انہوں نے دریافت کیا انہیں سورۃ «والليل إذا يغشى» کی قرآت کرتے کس طرح سنا ہے؟ علقمہ نے کہا کہ «والذكر والأنثى» (بغیر خلق کے) کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح قرآت کرتے ہوئے سنا ہے۔ لیکن یہ لوگ (یعنی شام والے) چاہتے ہیں کہ «وما خلق الذكر والأنثى» پڑھوں۔ اللہ کی قسم میں ان کی پیروی نہیں کروں گا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب تَفْسِيرِ الْقُرْآنِ/حدیث: 4944]
حضرت ابراہیم نخعی رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے کچھ تلامذہ حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ کے ہاں (شام) آئے۔ حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ نے تلاش کے بعد انہیں پا لیا، پھر پوچھا: ”تم میں سے کون حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی قراءت کے مطابق قراءت کر سکتا ہے؟“ انہوں نے کہا: ”ہم سب کر سکتے ہیں۔“ پھر انہوں نے دریافت کیا: ”تم میں سے کس کو ان کی قراءت زیادہ محفوظ ہے؟“ سب نے حضرت علقمہ کی طرف اشارہ کیا۔ حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ نے پوچھا: ”تم نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو سورہ ﴿وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَىٰ﴾ [سورة الليل: 1] کی قراءت کرتے کس طرح سنا ہے؟“ علقمہ رحمہ اللہ نے کہا: ”وہ «وَالذَّكَرَ وَالْأُنثَىٰ» ”مذکر اور مونث کی (قسم)“ پڑھتے ہیں۔“ حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح پڑھتے سنا ہے لیکن یہ شام کے لوگ چاہتے ہیں کہ میں ﴿وَمَا خَلَقَ الذَّكَرَ وَالْأُنثَىٰ﴾ [سورة الليل: 3] پڑھوں۔ اللہ کی قسم! میں کسی صورت میں ان کی پیروی نہیں کروں گا۔““ [صحيح البخاري/كِتَاب تَفْسِيرِ الْقُرْآنِ/حدیث: 4944]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة