مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1.03. (خُرُوجُ الإِيمَانِ عِنْدَ ارْتِكَابِ الكَبَائِرِ)
ارتکاب کبائر کے وقت ایمان کا خروج
حدیث نمبر: 53
53 - وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"لَا يَزْنِي الزَّانِي حِينَ يَزْنِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلَا يَسْرِقُ السَّارِقُ حِينَ يَسْرِقُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلَا يَشْرَبُ الْخَمْرَ حِينَ يَشْرِبُهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلَا يَنْتَهِبُ نُهْبَةً يَرْفَعُ النَّاسُ إِلَيْهِ فِيهَا أَبْصَارَهُمْ حِينَ يَنْتَهِبُهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلَا يَغُلُّ أَحَدُكُمْ حِينَ يَغُلُّ وَهُوَ مُؤْمِنٌ ; فَإِيَّاكُمْ إِيَّاكُمْ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جس وقت زانی زنا کرتا ہے تو وہ اس وقت مومن نہیں ہوتا، جس وقت چور چوری کرتا ہے تو اس وقت وہ مومن نہیں ہوتا، جب وہ شراب پیتا ہے تو شراب نوشی کے وقت وہ مومن نہیں ہوتا، جب لوٹنے والا لوٹتا ہے تو وہ لوٹنے کے وقت مومن نہیں ہوتا جبکہ لوگ اسے دیکھ رہے ہوتے ہیں اور جب خیانت کرنے والا خیانت کرتا ہے تو وہ اس وقت مومن نہیں ہوتا۔ پس تم بچ جاؤ، بچ جاؤ۔“ اس حدیث کو بخاری اور مسلم رحمہما اللہ نے روایت کیا ہے۔ [مشكوة المصابيح/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 53]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (2475) و مسلم (57/ 100)»
قال الشيخ الألباني: متفق عليه
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
حدیث نمبر: 54
54 - وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا -: وَلَا يَقْتُلُ حِينَ يَقْتُلُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ. قَالَ عِكْرِمَةُ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: كَيْفَ يُنْزَعُ الْإِيمَانُ؟ قَالَ: هَكَذَا، وَشَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ ثُمَّ أَخْرَجَهَا، فَإِنْ تَابَ عَادَ إِلَيْهِ هَكَذَا، وَشَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ. وَقَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ: لَا يَكُونُ هَذَا مُؤْمِنًا تَامًّا، وَلَا يَكُونُ لَهُ نُورُ الْإِيمَانِ. هَذَا لَفْظُ الْبُخَارِيِّ.
ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت میں ہے: ”جس وقت قاتل قتل کرتا ہے تو اس وقت وہ مومن نہیں ہوتا۔“ عکرمہ بیان کرتے ہیں، میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا: اس سے ایمان کیسے نکال لیا جاتا ہے؟ انہوں نے فرمایا: اس طرح اور انہوں نے ایک ہاتھ کی انگلیاں دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈالیں اور پھر انہیں نکال لیا، پس اگر وہ توبہ کر لے تو ایمان اس کی طرف اس طرح لوٹ آتا ہے، اور انہوں نے ایک ہاتھ کی انگلیاں دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈالیں، اور ابو عبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) نے فرمایا: ایسا شخص نہ کامل مومن ہو گا اور نہ اس کے لیے نورِ ایمان ہو گا۔ یہ بخاری کے الفاظ ہیں۔ [مشكوة المصابيح/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 54]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (6809)
٭ و قول البخاري: لم أجده .»
٭ و قول البخاري: لم أجده .»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح