مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3.02. (مُنَاظَرَةُ سَيِّدِنَا آدَمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَسَيِّدِنَا مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ)
حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کا مباحثہ
حدیث نمبر: 81
81 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: (احْتَجَّ آدَمُ، وَمُوسَى عِنْدَ رَبِّهِمَا، فَحَجَّ آدَمُ مُوسَى؟ قَالَ مُوسَى: أَنْتَ آدَمُ الَّذِي خَلَقَكَ اللَّهُ بِيَدِهِ، وَنَفَخَ فِيكَ مِنْ رُوحِهِ، وَأَسْجَدَ لَكَ مَلَائِكَتَهُ، وَأَسْكَنَكَ فِي جَنَّتِهِ، ثُمَّ أَهَبَطْتَ النَّاسَ بِخَطِيئَتِكَ إِلَى الْأَرْضِ؟ قَالَ آدَمُ: أَنْتَ مُوسَى الَّذِي اصْطَفَاكَ اللَّهُ بِرِسَالَتِهِ وَبِكَلَامِهِ، وَأَعْطَاكَ الْأَلْوَاحَ فِيهَا تِبْيَانُ كُلِّ شَيْءٍ، وَقَرَّبَكَ نَجِيًّا، فَبِكَمْ وَجَدَتِ اللَّهِ كَتَبَ التَّوْرَاةَ قَبْلَ أَنْ أُخْلَقَ قَالَ مُوسَى: بِأَرْبَعِينَ عَامًا. قَالَ آدَمُ: فَهَلْ وَجَدْتَ فِيهَا (وَعَصَى آدَمُ رَبَّهُ فَغَوَى) ؟ قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: أَفَتَلُومُنِي عَلَى أَنْ عَمِلْتُ عَمَلًا كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَيَّ أَنْ أَعْمَلَهُ قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَنِي بِأَرْبَعِينَ سَنَةً؟) قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - (فَحَجَّ آدَمُ مُوسَى) . رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”آدم علیہ السلام اور موسیٰ علیہ السلام نے اپنے رب کے ہاں مناظرہ و مباحشہ کیا، تو آدم علیہ السلام موسیٰ علیہ السلام پر غالب رہے، موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا: آپ آدم علیہ السلام ہیں جنہیں اللہ نے اپنے ہاتھ سے تخلیق فرمایا، اس میں اپنی روح پھونکی، اپنے فرشتوں سے آپ کو سجدہ کرایا، آپ کو اپنی جنت میں بسایا پھر آپ نے اپنی خطا سے لوگوں کو زمین پر اتارا، آدم علیہ السلام نے فرمایا: آپ موسیٰ علیہ السلام ہیں جنہیں اللہ نے اپنی رسالت اور اپنے کلام کے لیے منتخب فرمایا، آپ کو تختیاں عطا کیں جن میں ہر چیز کا بیان ہے، آپ کو کسی واسطے کے بغیر سرگوشی کا شرف بخشا، آپ کے خیال میں میری تخلیق سے کتنا عرصہ قبل اللہ تعالیٰ نے تورات لکھی ہو گی؟ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا: چالیس برس، آدم علیہ السلام نے فرمایا: کیا آپ نے اس میں یہ چیز بھی پائی: ﴿وَعَصَىٰ آدَمُ رَبَّهُ فَغَوَىٰ﴾ [سورة طه: 121] ”آدم نے اپنے رب کی نافرمانی کی تو وہ بھٹک گئے۔“؟ انہوں نے فرمایا: جی ہاں، آدم علیہ السلام نے فرمایا: کیا آپ مجھے ایسے عمل کرنے پر ملامت کرتے ہیں جس کا کرنا اللہ نے مجھے پیدا کرنے سے بھی چالیس برس پہلے مجھ پر لازم کر دیا تھا۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”آدم علیہ السلام موسیٰ علیہ السلام پر غالب آ گئے۔“ اس حدیث کو مسلم نے روایت کیا ہے۔ [مشكوة المصابيح/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 81]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (15 / 2652) [و البخاري (6614 وغيره) مختصرًا .] »
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح