🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مشکوۃ المصابیح میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (6294)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

3.12. (خَلْقُ آدَمَ)
تخلیق آدم
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 100
100 - وَعَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: (إِنَّ اللَّهَ خَلَقَ آدَمَ مِنْ قَبْضَةٍ قَبَضَهَا مِنْ جَمِيعِ الْأَرْضِ، فَجَاءَ بَنُو آدَمَ عَلَى قَدْرِ الْأَرْضِ، مِنْهُمُ الْأَحْمَرُ وَالْأَبْيَضُ، وَالْأَسْوَدُ وَبَيْنَ ذَلِكَ، وَالسَّهْلُ، وَالْحَزْنُ، وَالْخَبِيثُ، وَالطَّيِّبُ) رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالتِّرْمِذِيُّ، وَأَبُو دَاوُدَ.
ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: اللہ نے آدم علیہ السلام کو ایک مٹھی (بھر مٹی) سے جو اس نے ساری سطح زمین سے حاصل کی تھی، پیدا فرمایا۔ آدم علیہ السلام کی اولاد زمین (کی رنگت) کی مناسبت سے پیدا ہوئی، ان میں سے کچھ سرخ ہیں، کچھ سفید اور کچھ کالے، اور کچھ سرخ و سفید کے مابین، کچھ نرم مزاج اور کچھ سخت مزاج، کچھ بری عادات والے اور کچھ پاکیزہ صفات والے ہیں۔ اس حدیث کو احمد، ترمذی اور ابوداود نے روایت کیا ہے۔ [مشكوة المصابيح/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 100]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده صحيح، رواه أحمد (4/ 400 ح 19811) والترمذي (2955 وقال: ھذا حديث حسن صحيح) وأبوداود (4693) [و صححه ابن حبان (الموارد: 2083) والحاکم (2/ 261، 262) ووافقه الذهبي .] »
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 101
101 - وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: إِنَّ اللَّهَ خَلَقَ خَلْقَهُ فِي ظُلْمَةٍ، فَأَلْقَى عَلَيْهِمْ مِنْ نُورِهِ، فَمَنْ أَصَابَهُ مِنْ ذَلِكَ النُّورِ اهْتَدَى. وَمَنْ أَخْطَأَهُ ضَلَّ، فَلِذَلِكَ أَقُولُ: جَفَّ الْقَلَمُ عَلَى عِلْمِ اللَّهِ"رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالتِّرْمِذِيُّ.
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: اللہ نے اپنی مخلوق کو اندھیرے میں پیدا فرمایا، پھر ان پر اپنا نور ڈالا، پس جس کو یہ نور میسر آ گیا وہ ہدایت پا گیا اور جو اس سے محروم رہا وہ گمراہ ہو گیا، پس میں اسی لیے کہتا ہوں، اللہ کے علم پر قلم خشک ہو چکا ہے۔ اس حدیث کو امام احمد اور ترمذی نے روایت کیا ہے۔ [مشكوة المصابيح/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 101]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «صحيح، رواه أحمد (2/ 176 ح 6644 ب) والترمذي (2642 وقال: ھذا حديث حسن .) [و صححه ابن حبان (الموارد: 1812) والحاکم (1/ 30) ووافقه الذهبي .] »
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں