🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مشکوۃ المصابیح میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (6294)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

5.36. (مَثَلُ الصِّرَاطِ المُسْتَقِيمِ)
صراۃ مستقیم کی مثال
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 191
191 - وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:"ضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا صِرَاطًا مُسْتَقِيمًا، وَعَنْ جَنَبَتَيِ الصِّرَاطِ سُورَانِ، فِيهِمَا أَبْوَابٌ مُفَتَّحَةٌ، وَعَلَى الْأَبْوَابِ سُتُورٌ مُرَخَاةٌ، وَعِنْدَ رَأْسِ الصِّرَاطِ دَاعٍ يَقُولُ: اسْتَقِيمُوا عَلَى الصِّرَاطِ وَلَا تَعْوَجُّوا، وَفَوْقَ ذَلِكَ دَاعٍ يَدْعُو، كُلَّمَا هَمَّ عَبْدٌ أَنْ يَفْتَحَ شَيْئًا مِنْ تِلْكَ الْأَبْوَابِ قَالَ: وَيْحَكَ! لَا تَفْتَحْهُ ; فَإِنَّكَ إِنْ تَفْتَحْهُ تَلِجْهُ". ثُمَّ فَسَّرَهُ فَأَخْبَرَ:"أَنَّ الصِّرَاطَ هُوَ الْإِسْلَامُ، وَأَنَّ الْأَبْوَابَ الْمُفَتَّحَةَ مَحَارِمُ اللَّهِ، وَأَنَّ السُّتُورَ الْمُرَخَاةَ حُدُودُ اللَّهِ، وَأَنَّ الدَّاعِيَ عَلَى رَأْسِ الصِّرَاطِ هُوَ الْقُرْآنُ، وَأَنَّ الدَّاعِيَ مِنْ فَوْقِهِ وَاعِظُ اللَّهِ فِي قَلْبِ كُلِّ مُؤْمِنٍ". رَوَاهُ رَزِينٌ، وَرَوَاهُ أَحْمَدُ.
ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ نے صراط مستقیم کی مثال بیان فرمائی، کہ راستے کے دونوں طرف دو دیواریں ہیں، ان میں دروازے کھلے ہوئے ہیں اور دروازوں پر پردے لٹک رہے ہیں، راستے کے سرے پر ایک داعی ہے، وہ کہہ رہا ہے، سیدھے چلتے جاؤ، ٹیڑھے مت ہونا، اور اس کے اوپر ایک اور داعی ہے، جب کوئی شخص ان دروازوں میں سے کسی چیز کو کھولنے کا ارادہ کرتا ہے تو وہ کہتا ہے: تم پر افسوس ہے، اسے مت کھولو، کیونکہ اگر تم نے اسے کھول دیا تو تم اس میں داخل ہو جاؤ گے۔ پھر آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا: راستہ اسلام ہے، کھلے ہوئے دروازے اللہ کی حرام کردہ اشیاء ہیں، لٹکے ہوئے پردے اللہ کی حدود ہیں، راستے کے سرے پر داعی قرآن ہے، اور اس کے اوپر جو داعی ہے وہ ہر مومن کے دل میں اللہ کا واعظ ہے۔ اس حدیث کو زرین رحمہ اللہ نے روایت کیا ہے۔ [مشكوة المصابيح/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 191]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «لا أصل له بھذا اللفظ، رواه رزين (لم أجده) [و الآجري في الشريعة (ص 12 ح 16 بلفظ آخر مختصر جدًا وسنده صحيح) و انظر الحديث الآتي فھو شاھد له .] »
قال الشيخ زبير على زئي:لا أصل له بهذا اللفظ، وانظر الحديث 192

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 192
192 - وَالْبَيْهَقِيُّ فِي (شُعَبِ الْإِيمَانِ) عَنِ النَّوَّاسِ بْنِ سَمْعَانَ، وَكَذَا التِّرْمِذِيُّ عَنْهُ إِلَّا أَنَّهُ ذَكَرَ أَخْصَرَ مِنْهُ.
امام احمد اور بیہقی نے «شُعَبُ الْإِيمَانِ» میں نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ سے اور اسی طرح امام ترمذی نے انہی سے روایت کیا ہے، البتہ انہوں نے اس سے مختصر روایت کیا ہے۔ [مشكوة المصابيح/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 192]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «حسن، رواه أحمد (4/ 182، 183 ح 17784) والبيهقي في شعب الإيمان (7216) والترمذي (2859 وقال: غريب .) [و صححه الحاکم علٰي شرط مسلم 1/ 73 ووافقه الذهبي .] »
قال الشيخ زبير على زئي:حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 193
193 - وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: مَنْ كَانَ مُسْتَنًّا ; فَلْيَسْتَنَّ بِمَنْ قَدْ مَاتَ فَإِنَّ الْحَيَّ لَا تُؤْمَنُ عَلَيْهِ الْفِتْنَةُ، أُولَئِكَ أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانُوا أَفْضَلَ هَذِهِ الْأُمَّةِ، أَبَرَّهَا قُلُوبًا وَأَعْمَقَهَا عِلْمًا، وَأَقَلَّهَا تَكَلُّفًا اخْتَارَهُمُ اللَّهُ لِصُحْبَةِ نَبِيِّهِ، وَلِإِقَامَةِ دِينِهِ، فَاعْرِفُوا لَهُمْ فَضْلَهُمْ، وَاتَّبِعُوهُمْ عَلَى آثَارِهِمْ، وَتَمَسَّكُوا بِمَا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ أَخْلَاقِهِمْ وَسِيَرِهِمْ، فَإِنَّهُمْ كَانُوا عَلَى الْهَدْيِ الْمُسْتَقِيمِ. رَوَاهُ رَزِينٌ.
ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جو کوئی کسی شخص کی راہ اپنانا چاہے تو وہ ان اشخاص کی راہ اپنائے جو فوت ہو چکے ہیں، کیونکہ زندہ شخص فتنے سے محفوظ نہیں رہا، اور وہ (فوت شدہ اشخاص) محمد صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھی ہیں، وہ اس امت کے بہترین افراد تھے، وہ دل کے صاف، علم میں عمیق اور تکلف و تصنع میں بہت کم تھے، اللہ نے اپنے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی صحبت اور اپنے دین کی اقامت کے لیے انہیں منتخب فرمایا، پس ان کی فضیلت کو پہچانو، ان کے آثار کی اتباع کرو اور ان کے اخلاق و کردار کو اپنانے کی مقدور بھر کوشش کرو، کیونکہ وہ ہدایتِ مستقیم پر تھے۔ اس حدیث کو رَزین نے روایت کیا ہے۔ [مشكوة المصابيح/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 193]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه رزين (لم أجده) [و ابن عبدالبر في جامع بيان العلم و فضله (2/ 97) ]
٭ فيه سنيد ضعيف و قتادة عن ابن مسعود: منقطع .و روي أحمد عن عبد الله بن مسعود رضي الله عنه قال: إن الله نظر في قلوب العباد فوجد قلب محمد ﷺ خير قلوب العباد فاصطفاه لنفسه فابتعثه برسالته ثم نظر في قلوب العباد بعد قلب محمد فوجد قلوب أصحابه خير قلوب العباد فجعلھم و زراء نبيه يقاتلون علي دينه فما رأي المسلمون حسنًا فھو عند الله حسن و ما رأوه سيئًا فھو عند الله سئ . (1/ 379 ح 3600) وسنده حسن .»
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں