صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. بَابُ جَمْعِ الْقُرْآنِ:
باب: قرآن مجید کے جمع کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4986
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ السَّبَّاقِ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَرْسَلَ إِلَيَّ أَبُو بَكْرٍ مَقْتَلَ أَهْلِ الْيَمَامَةِ، فَإِذَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ عِنْدَهُ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: إِنَّ عُمَرَ أَتَانِي، فَقَالَ:" إِنَّ الْقَتْلَ قَدِ اسْتَحَرَّ يَوْمَ الْيَمَامَةِ بِقُرَّاءِ الْقُرْآنِ، وَإِنِّي أَخْشَى أَنْ يَسْتَحِرَّ الْقَتْلُ بِالْقُرَّاءِ بِالْمَوَاطِنِ فَيَذْهَبَ كَثِيرٌ مِنَ الْقُرْآنِ، وَإِنِّي أَرَى أَنْ تَأْمُرَ بِجَمْعِ الْقُرْآنِ. قُلْتُ لِعُمَرَ: كَيْفَ تَفْعَلُ شَيْئًا لَمْ يَفْعَلْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ عُمَرُ: هَذَا وَاللَّهِ خَيْرٌ، فَلَمْ يَزَلْ عُمَرُ يُرَاجِعُنِي حَتَّى شَرَحَ اللَّهُ صَدْرِي لِذَلِكَ وَرَأَيْتُ فِي ذَلِكَ الَّذِي رَأَى عُمَرُ"، قَالَ زَيْدٌ: قَالَ أَبُو بَكْرٍ: إِنَّكَ رَجُلٌ شَابٌّ عَاقِلٌ لَا نَتَّهِمُكَ وَقَدْ كُنْتَ تَكْتُبُ الْوَحْيَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَتَبَّعَ الْقُرْآنَ فَاجْمَعْهُ، فَوَاللَّهِ لَوْ كَلَّفُونِي نَقْلَ جَبَلٍ مِنَ الْجِبَالِ مَا كَانَ أَثْقَلَ عَلَيَّ مِمَّا أَمَرَنِي بِهِ مِنْ جَمْعِ الْقُرْآنِ، قُلْتُ: كَيْفَ تَفْعَلُونَ شَيْئًا لَمْ يَفْعَلْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: هُوَ وَاللَّهِ خَيْرٌ، فَلَمْ يَزَلْ أَبُو بَكْرٍ يُرَاجِعُنِي حَتَّى شَرَحَ اللَّهُ صَدْرِي لِلَّذِي شَرَحَ لَهُ صَدْرَ أَبِي بَكْرٍ وعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، فَتَتَبَّعْتُ الْقُرْآنَ أَجْمَعُهُ مِنَ الْعُسُبِ وَاللِّخَافِ وَصُدُورِ الرِّجَالِ حَتَّى وَجَدْتُ آخِرَ سُورَةِ التَّوْبَةِ مَعَ أَبِي خُزَيْمَةَ الْأَنْصَارِيِّ، لَمْ أَجِدْهَا مَعَ أَحَدٍ غَيْرِهُ لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ سورة التوبة آية 128 حَتَّى خَاتِمَةِ بَرَاءَةَ فَكَانَتِ الصُّحُفُ عِنْدَ أَبِي بَكْرٍ حَتَّى تَوَفَّاهُ اللَّهُ، ثُمَّ عِنْدَ عُمَرَ حَيَاتَهُ، ثُمَّ عِنْدَ حَفْصَةَ بِنْتِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن شہاب نے بیان کیا، ان سے عبید بن سباق نے اور ان سے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جنگ یمامہ میں (صحابہ کی بہت بڑی تعداد کے) شہید ہو جانے کے بعد ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھے بلا بھیجا۔ اس وقت عمر رضی اللہ عنہ میرے پاس آئے اور انہوں نے کہا کہ یمامہ کی جنگ میں بہت بڑی تعداد میں قرآن کے قاریوں کی شہادت ہو گئی ہے اور مجھے ڈر ہے کہ اسی طرح کفار کے ساتھ دوسری جنگوں میں بھی قراء قرآن بڑی تعداد میں قتل ہو جائیں گے اور یوں قرآن کے جاننے والوں کی بہت بڑی تعداد ختم ہو جائے گی۔ اس لیے میرا خیال ہے کہ آپ قرآن مجید کو (باقاعدہ کتابی شکل میں) جمع کرنے کا حکم دے دیں۔ میں نے عمر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ آپ ایک ایسا کام کس طرح کریں گے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اپنی زندگی میں) نہیں کیا؟ عمر رضی اللہ عنہ نے اس کا یہ جواب دیا کہ اللہ کی قسم! یہ تو ایک کارخیر ہے۔ عمر رضی اللہ عنہ یہ بات مجھ سے باربار کہتے رہے۔ آخر اللہ تعالیٰ نے اس مسئلہ میں میرا بھی سینہ کھول دیا اور اب میری بھی وہی رائے ہو گئی جو عمر رضی اللہ عنہ کی تھی۔ زید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا آپ (زید رضی اللہ عنہ) جوان اور عقلمند ہیں، آپ کو معاملہ میں متہم بھی نہیں کیا جا سکتا اور آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وحی لکھتے بھی تھے، اس لیے آپ قرآن مجید کو پوری تلاش اور محنت کے ساتھ ایک جگہ جمع کر دیں۔ اللہ کی قسم! اگر یہ لوگ مجھے کسی پہاڑ کو بھی اس کی جگہ سے دوسری جگہ ہٹانے کے لیے کہتے تو میرے لیے یہ کام اتنا مشکل نہیں تھا جتنا کہ ان کا یہ حکم کہ میں قرآن مجید کو جمع کر دوں۔ میں نے اس پر کہا کہ آپ لوگ ایک ایسے کام کو کرنے کی ہمت کیسے کرتے ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود نہیں کیا تھا۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! یہ ایک عمل خیر ہے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ یہ جملہ برابر دہراتے رہے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے میرا بھی ان کی اور عمر رضی اللہ عنہ کی طرح سینہ کھول دیا۔ چنانچہ میں نے قرآن مجید (جو مختلف چیزوں پر لکھا ہوا موجود تھا) کی تلاش شروع کر دی اور قرآن مجید کو کھجور کی چھلی ہوئی شاخوں، پتلے پتھروں سے، (جن پر قرآن مجید لکھا گیا تھا) اور لوگوں کے سینوں کی مدد سے جمع کرنے لگا۔ سورۃ التوبہ کی آخری آیتیں مجھے ابوخزیمہ انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس لکھی ہوئی ملیں، یہ چند آیات مکتوب شکل میں ان کے سوا اور کسی کے پاس نہیں تھیں «لقد جاءكم رسول من أنفسكم عزيز عليه ما عنتم» سے سورۃ براۃ (سورۃ توبہ) کے خاتمہ تک۔ جمع کے بعد قرآن مجید کے یہ صحیفے ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس محفوظ تھے۔ پھر ان کی وفات کے بعد عمر رضی اللہ عنہ نے جب تک وہ زندہ رہے اپنے ساتھ رکھا پھر وہ ام المؤمنین حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہا کے پاس محفوظ رہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب فَضَائِلِ الْقُرْآنِ/حدیث: 4986]
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ جنگِ یمامہ کے بعد حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے مجھے بلا بھیجا، اس وقت حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی ان کے پاس موجود تھے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میرے پاس حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ آئے ہیں اور انہوں نے کہا ہے کہ جنگِ یمامہ میں بہت سے قراءِ قرآن شہید ہو گئے ہیں اور مجھے اندیشہ ہے کہ اگر قراء کی شہادت کا سلسلہ اسی طرح جاری رہا تو قراء ختم ہو جائیں گے اور قرآن کریم کا بہت سا حصہ بھی ان کے ساتھ جاتا رہے گا، اس لیے میری خواہش ہے کہ آپ قرآن مجید کو جمع کرنے کا حکم دیں۔ میں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے کہا کہ جو کام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کیا تم وہ کیسے کرو گے؟ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اس کا یہ جواب دیا: اللہ کی قسم! یہ تو ایک کارِ خیر ہے، اور وہ میرے ساتھ اس سلسلے میں تکرار کرتے رہے، آخر اللہ تعالیٰ نے اس مسئلے میں میرا سینہ بھی کھول دیا اور میری بھی وہی رائے ہے جو حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی تھی۔“ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے مزید فرمایا: ”تم ایک نوجوان اور عقل مند آدمی ہو، ہم نے تمہیں کسی معاملے میں متہم بھی نہیں کیا اور تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کاتبِ وحی بھی تھے، اس لیے قرآن مجید کو پوری جستجو اور محنت کے ساتھ ایک جگہ جمع کر دو۔“ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اللہ کی قسم! اگر وہ مجھے کوئی پہاڑ ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے کا حکم دیتے تو قرآن جمع کرنے کی نسبت یہ کام میرے لیے آسان تھا۔ بہرحال میں نے عرض کی: آپ حضرات وہ کام کیسے کر سکتے ہیں جو خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کیا؟ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کی قسم! یہ ایک عملِ خیر ہے، اور آپ میرے ساتھ تکرار کرتے رہے حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے اس کام کے لیے میرا سینہ کھول دیا جس کے لیے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا سینہ کھولا تھا۔ چنانچہ میں نے قرآن مجید کی تلاش شروع کر دی اور میں اسے کھجور کی شاخوں، باریک پتھروں اور لوگوں کے سینوں کی مدد سے جمع کرنے لگا، حتیٰ کہ سورہ توبہ کی آخری آیات مجھے حضرت ابو خزیمہ رضی اللہ عنہ کے پاس سے ملیں، یہ آیات ان کے علاوہ کسی اور کے پاس نہ تھیں: ﴿لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِّنْ أَنفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ﴾ [سورة التوبة: 128] ۔ جمع کرنے کے بعد یہ صحیفے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس رہے، پھر ان کی وفات کے بعد حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے زندگی بھر انہیں اپنے پاس رکھا، ان کے بعد وہ ام المومنین حضرت حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہا کے پاس محفوظ رہے۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب فَضَائِلِ الْقُرْآنِ/حدیث: 4986]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4987
حَدَّثَنَا مُوسَى، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ، حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ حَدَّثَهُ،" أَنَّ حُذَيْفَةَ بْنَ الْيَمَانِ قَدِمَ عَلَى عُثْمَانَ وَكَانَ يُغَازِي أَهْلَ الشَّأْمِ فِي فَتْحِ إِرْمِينِيَةَ وَأَذْرَبِيجَانَ مَعَ أَهْلِ الْعِرَاقِ، فَأَفْزَعَ حُذَيْفَةَ اخْتِلَافُهُمْ فِي الْقِرَاءَةِ، فَقَالَ حُذَيْفَةُ لِعُثْمَانَ:" يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، أَدْرِكْ هَذِهِ الْأُمَّةَ قَبْلَ أَنْ يَخْتَلِفُوا فِي الْكِتَابِ اخْتِلَافَ الْيَهُودِ وَالنَّصَارَى، فَأَرْسَلَ عُثْمَانُ إِلَى حَفْصَةَ، أَنْ أَرْسِلِي إِلَيْنَا بِالصُّحُفِ نَنْسَخُهَا فِي الْمَصَاحِفِ ثُمَّ نَرُدُّهَا إِلَيْكِ، فَأَرْسَلَتْ بِهَا حَفْصَةُ إِلَى عُثْمَانَ، فَأَمَرَ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ وعَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ وسَعِيدَ بْنَ الْعَاصِ وعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ فَنَسَخُوهَا فِي الْمَصَاحِفِ، وَقَالَ عُثْمَانُ لِلرَّهْطِ الْقُرَشِيِّينَ الثَّلَاثَةِ: إِذَا اخْتَلَفْتُمْ أَنْتُمْ وزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ فِي شَيْءٍ مِنَ الْقُرْآنِ، فَاكْتُبُوهُ بِلِسَانِ قُرَيْشٍ، فَإِنَّمَا نَزَلَ بِلِسَانِهِمْ، فَفَعَلُوا حَتَّى إِذَا نَسَخُوا الصُّحُفَ فِي الْمَصَاحِفِ رَدَّ عُثْمَانُ الصُّحُفَ إِلَى حَفْصَةَ، وَأَرْسَلَ إِلَى كُلِّ أُفُقٍ بِمُصْحَفٍ مِمَّا نَسَخُوا، وَأَمَرَ بِمَا سِوَاهُ مِنَ الْقُرْآنِ فِي كُلِّ صَحِيفَةٍ أَوْ مُصْحَفٍ أَنْ يُحْرَقَ".
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن سعد عوفی نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن شہاب نے بیان کیا اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ حذیفہ بن الیمان رضی اللہ عنہ امیرالمؤمنین عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اس وقت عثمان رضی اللہ عنہ ارمینیہ اور آذربیجان کی فتح کے سلسلے میں شام کے غازیوں کے لیے جنگ کی تیاریوں میں مصروف تھے، تاکہ وہ اہل عراق کو ساتھ لے کر جنگ کریں۔ حذیفہ رضی اللہ عنہ قرآن مجید کی قرآت کے اختلاف کی وجہ سے بہت پریشان تھے۔ آپ نے عثمان رضی اللہ عنہ سے کہا کہ امیرالمؤمنین اس سے پہلے کہ یہ امت (امت مسلمہ) بھی یہودیوں اور نصرانیوں کی طرح کتاب اللہ میں اختلاف کرنے لگے، آپ اس کی خبر لیجئے۔ چنانچہ عثمان رضی اللہ عنہ نے حفصہ رضی اللہ عنہا کے یہاں کہلایا کہ صحیفے (جنہیں زید رضی اللہ عنہ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کے حکم سے جمع کیا تھا اور جن پر مکمل قرآن مجید لکھا ہوا تھا) ہمیں دے دیں تاکہ ہم انہیں مصحفوں میں (کتابی شکل میں) نقل کروا لیں۔ پھر اصل ہم آپ کو لوٹا دیں گے حفصہ رضی اللہ عنہا نے وہ صحیفے عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس بھیج دئیے اور آپ نے زید بن ثابت، عبداللہ بن زبیر، سعد بن العاص، عبدالرحمٰن بن حارث بن ہشام رضی اللہ عنہم کو حکم دیا کہ وہ ان صحیفوں کو مصحفوں میں نقل کر لیں۔ عثمان رضی اللہ عنہ نے اس جماعت کے تین قریشی صحابیوں سے کہا کہ اگر آپ لوگوں کا قرآن مجید کے کسی لفظ کے سلسلے میں زید رضی اللہ عنہ سے اختلاف ہو تو اسے قریش ہی کی زبان کے مطابق لکھ لیں کیونکہ قرآن مجید بھی قریش ہی کی زبان میں نازل ہوا تھا۔ چنانچہ ان لوگوں نے ایسا ہی کیا اور جب تمام صحیفے مختلف نسخوں میں نقل کر لیے گئے تو عثمان رضی اللہ عنہ نے ان صحیفوں کو واپس لوٹا دیا اور اپنی سلطنت کے ہر علاقہ میں نقل شدہ مصحف کا ایک ایک نسخہ بھیجوا دیا اور حکم دیا کے اس کے سوا کوئی چیز اگر قرآن کی طرف منسوب کی جاتی ہے خواہ وہ کسی صحیفہ یا مصحف میں ہو تو اسے جلا دیا جائے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب فَضَائِلِ الْقُرْآنِ/حدیث: 4987]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے بیان کیا کہ حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ امیر المومنین حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے پاس آئے جبکہ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ اس وقت آرمینیا اور آذربائیجان کی فتح کے سلسلے میں شام کے غازیوں کے لیے جنگی تیاریوں میں مصروف تھے تاکہ وہ اہل عراق کو ساتھ لے کر جنگ کریں۔ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ لوگوں کے قرآن پڑھنے میں اختلاف کے باعث سخت پریشان تھے، حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے عرض کی: ”اے امیر المومنین! اس سے پہلے کہ یہ امت بھی یہود و نصاریٰ کی طرح کتاب اللہ میں اختلاف کرنے لگے آپ اس کی خبر لیں۔“ چنانچہ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے کسی کو حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیجا کہ وہ صحیفے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو پہنچا دیں۔ آپ نے حضرت زید بن ثابت، حضرت عبداللہ بن زبیر، حضرت سعید بن العاص اور عبدالرحمن بن حارث بن ہشام رضی اللہ عنہم کو حکم دیا کہ وہ ان صحیفوں کو مصاحف میں نقل کر لیں۔ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے تینوں قریشیوں کو فرمایا: ”جب تمہارا حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے ساتھ قرآن کریم کے کسی کلمے میں اختلاف ہو جائے تو اسے قریش کے محاورے کے مطابق لکھنا، کیونکہ قرآن مجید قریش کی زبان میں نازل ہوا تھا۔“ چنانچہ ان حضرات نے ایسا ہی کیا، جب تمام صحیفوں کو مختلف مصاحف میں نقل کر لیا گیا تو حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے وہ صحیفے حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کو واپس بھیج دیے اور اپنی سلطنت کے ہر علاقے میں نقل شدہ مصحف کا ایک ایک نسخہ بھیج دیا اور حکم دیا کہ اس کے علاوہ اگر کوئی چیز قرآن کی طرف منسوب کی جاتی ہے، خواہ کسی صحیفے میں ہو یا مصحف میں، اسے جلا دیا جائے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب فَضَائِلِ الْقُرْآنِ/حدیث: 4987]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4988
قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: وَأَخْبَرَنِي خَارِجَةُ بْنُ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، سَمِعَ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ، قَالَ:" فَقَدْتُ آيَةً مِنَ الْأَحْزَابِ حِينَ نَسَخْنَا الْمُصْحَفَ، قَدْ كُنْتُ أَسْمَعُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ بِهَا، فَالْتَمَسْنَاهَا، فَوَجَدْنَاهَا مَعَ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيِّ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ، فَأَلْحَقْنَاهَا فِي سُورَتِهَا فِي الْمُصْحَفِ".
ابن شہاب نے بیان کیا کہ مجھے خارجہ بن زید بن ثابت نے خبر دی، انہوں نے زید بن ثابت سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ جب ہم (عثمان رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں) مصحف کی صورت میں قرآن مجید کو نقل کر رہے تھے، تو مجھے سورۃ الاحزاب کی ایک آیت نہیں ملی حالانکہ میں اس آیت کو بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کرتا تھا اور آپ اس کی تلاوت کیا کرتے تھے، پھر ہم نے اسے تلاش کیا تو وہ خزیمہ بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس ملی۔ وہ آیت یہ تھی «من المؤمنين رجال صدقوا ما عاهدوا الله عليه» چنانچہ ہم نے اس آیت کو سورۃ الاحزاب میں لگا دیا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب فَضَائِلِ الْقُرْآنِ/حدیث: 4988]
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے بیان کیا کہ ”جب ہم مصحف کی صورت میں قرآن مجید کو نقل کر رہے تھے تو مجھے سورہ احزاب کی ایک آیت نہیں مل رہی تھی، حالانکہ میں وہ آیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کرتا تھا اور آپ اس کی تلاوت فرمایا کرتے تھے، پھر ہم نے اسے تلاش کیا تو وہ حضرت خزیمہ بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس سے ملی، وہ آیت یہ تھی: ﴿مِّنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ﴾ [سورة الأحزاب: 23] چنانچہ ہم نے اس آیت کو مصحف میں سورہ احزاب کے ساتھ ملا دیا۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب فَضَائِلِ الْقُرْآنِ/حدیث: 4988]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة