مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1.3. (بَعْضُ الأَحَادِيثِ عَنِ التَّفَكُّرِ لِلْعُلَمَاءِ)
علماء کے لیے غور و فکر کی کچھ احادیث
حدیث نمبر: 262
262 - وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"إِنَّ أُنَاسًا مِنْ أُمَّتِي سَيَتَفَقَّهُونَ فِي الدِّينِ وَيَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ، وَيَقُولُونَ: نَأْتِي الْأُمَرَاءَ فَنُصِيبُ مِنْ دُنْيَاهُمْ وَنَعْتَزِلُهُمْ بِدِينِنَا. وَلَا يَكُونُ ذَلِكَ، كَمَا لَا يُجْتَنَى مِنَ الْقَتَادِ إِلَّا الشَّوْكُ، كَذَلِكَ لَا يُجْتَنَى مِنْ قُرْبِهِمْ إِلَّا - قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ: كَأَنَّهُ يَعْنِي - الْخَطَايَا". رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت میں سے کچھ لوگ دین میں «تَفَقُّه» حاصل کرنے کا دعویٰ کریں گے، وہ قرآن پڑھیں گے، وہ کہیں گے: ہم امراء کے پاس جا کر ان سے ان کی دنیا سے کچھ حاصل کرتے ہیں، اور ہم اپنے دین کو ان سے بچا کر رکھتے ہیں حالانکہ ایسے نہیں ہو سکتا۔ جیسے «الْقَتَادِ» (سخت کانٹے دار جنگلی درخت) سے صرف کانٹے ہی چنے جا سکتے ہیں، اسی طرح ان (امراء) کے قرب سے سوائے۔۔۔“ محمد بن صباح رحمہ اللہ نے کہا: گویا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ کہنا چاہتے ہیں کہ ”ان کے پاس جانے سے گناہ حاصل ہو گا۔“ اس حدیث کو ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔ [مشكوة المصابيح/كِتَاب الْعِلْمِ/حدیث: 262]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه ابن ماجه (255)
٭ الوليد بن مسلم مدلس و عنعن و فيه علة أخري و ھي جھالة عبيد الله بن أبي بردة .»
٭ الوليد بن مسلم مدلس و عنعن و فيه علة أخري و ھي جھالة عبيد الله بن أبي بردة .»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 263
263 - وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: لَوْ أَنَّ أَهْلَ الْعِلْمِ صَانُوا الْعِلْمَ وَوَضَعُوهُ عِنْدَ أَهْلِهِ، لَسَادُوا بِهِ أَهْلَ زَمَانِهِمْ، وَلَكِنَّهُمْ بَذَلُوهُ لِأَهْلِ الدُّنْيَا لِيَنَالُوا بِهِ مِنْ دُنْيَاهُمْ، فَهَانُوا عَلَيْهِمْ سَمِعْتُ نَبِيَّكُمْ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ:"مَنْ جَعَلَ الْهُمُومَ هَمًّا وَاحِدًا هَمَّ آخِرَتِهِ، كَفَاهُ اللَّهُ هَمَّ دُنْيَاهُ، وَمَنْ تَشَعَّبَتْ بِهِ الْهُمُومُ فِي أَحْوَالِ الدُّنْيَا، لَمْ يُبَالِ اللَّهُ فِي أَيِّ أَوْدِيَتِهَا هَلَكَ". رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ. وَرَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي (شُعَبِ الْإِيمَانِ)
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: اگر اہل علم، علم کی حفاظت کرتے اور اسے اس کے اہل لوگوں تک پہنچاتے تو وہ اس کے ذریعے اپنے زمانے کے لوگوں پر سیادت و حکمرانی کرتے، لیکن انہوں نے دنیا داروں کے لیے اسے مخصوص کر دیا تاکہ وہ اس کے ذریعے ان کی دنیا سے کچھ حاصل کر لیں، تو اس طرح وہ ان کے سامنے بے آبرو ہوگئے، میں نے تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو شخص اپنے غموں کو سمیٹ کر فقط اپنی (آخرت کو) ایک غم بنا لیتا ہے تو اللہ اس کے دنیا کے غموں سے اس کے لیے کافی ہو جاتا ہے، اور جس شخص کو دنیا کے غم و فکر منتشر رکھیں تو پھر اللہ کو اس کی کوئی پرواہ نہیں کہ وہ کس وادی میں ہلاک ہوتا ہے۔“ اس حدیث کو ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔ [مشكوة المصابيح/كِتَاب الْعِلْمِ/حدیث: 263]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «ضعيف، رواه ابن ماجه (257) [و سنده ضعيف جدًا، نھشل: متروک، کذبه ابن راھويه، و انظر الحديث الآتي: 264] »
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
حدیث نمبر: 264
264 - عَنِ ابْنِ عُمَرَ مِنْ قَوْلِهِ: (مَنْ جَعَلَ الْهُمُومَ) إِلَى آخِرِهِ.
بیہقی رحمہ اللہ نے «شعب الإيمان» میں ابن عمر رضی اللہ عنہما سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قول: «مَنْ جَعَلَ الْهُمُومَ . . .» ”جس نے تمام فکروں کو (ایک ہی فکر بنا لیا)“ سے آخر تک روایت کیا ہے۔ [مشكوة المصابيح/كِتَاب الْعِلْمِ/حدیث: 264]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه البيھقي في شعب الإيمان (1888) [و الحاکم في المستدرک 4/ 328، 329]
٭ فيه يحيي بن المتوکل أبو عقيل وھو ضعيف .»
٭ فيه يحيي بن المتوکل أبو عقيل وھو ضعيف .»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 265
265 - وَعَنِ الْأَعْمَشِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - آفَةُ الْعِلْمِ النِّسْيَانُ، وَإِضَاعَتُهُ أَنْ تُحَدِّثَ بِهِ غَيْرَ أَهْلِهِ. رَوَاهُ الدَّارِمِيُّ مُرْسَلًا.
اعمش رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”بھول جانا علم کے لیے آفت ہے، اور جو علم کی اہلیت نہیں رکھتے ان سے اسے بیان کرنا اسے ضائع کرنا ہے۔“ اس حدیث کو دارمی نے مرسلاً روایت کیا ہے۔ [مشكوة المصابيح/كِتَاب الْعِلْمِ/حدیث: 265]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه الدارمي (1/ 150 ح 630)
٭ السند مرسل .»
٭ السند مرسل .»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف