🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Our Whatsapp Channel
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

6. بَابُ تَأْلِيفِ الْقُرْآنِ:
باب: قرآن مجید یا آیتوں کی ترتیب کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4993
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، أَنَّ ابْنَ جُرَيْجٍ أَخْبَرَهُمْ، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي يُوسُفُ بْنُ مَاهَكٍ، قَالَ: إِنِّي عِنْدَ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا إِذْ جَاءَهَا عِرَاقِيٌّ، فَقَالَ:" أَيُّ الْكَفَنِ خَيْرٌ؟ قَالَتْ: وَيْحَكَ، وَمَا يَضُرُّكَ؟ قَالَ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، أَرِينِي مُصْحَفَكِ، قَالَتْ: لِمَ؟ قَالَ: لَعَلِّي أُوَلِّفُ الْقُرْآنَ عَلَيْهِ فَإِنَّهُ يُقْرَأُ غَيْرَ مُؤَلَّفٍ، قَالَتْ: وَمَا يَضُرُّكَ أَيَّهُ قَرَأْتَ قَبْلُ، إِنَّمَا نَزَلَ أَوَّلَ مَا نَزَلَ مِنْهُ سُورَةٌ مِنِ الْمُفَصَّلِ، فِيهَا ذِكْرُ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ، حَتَّى إِذَا ثَابَ النَّاسُ إِلَى الْإِسْلَامِ نَزَلَ الْحَلَالُ وَالْحَرَامُ، وَلَوْ نَزَلَ أَوَّلَ شَيْءٍ لَا تَشْرَبُوا الْخَمْرَ، لَقَالُوا: لَا نَدَعُ الْخَمْرَ أَبَدًا وَلَوْ نَزَلَ لَا تَزْنُوا، لَقَالُوا: لَا نَدَعُ الزِّنَا أَبَدًا، لَقَدْ نَزَلَ بِمَكَّةَ عَلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِنِّي لَجَارِيَةٌ أَلْعَبُ بَلِ السَّاعَةُ مَوْعِدُهُمْ وَالسَّاعَةُ أَدْهَى وَأَمَرُّ سورة القمر آية 46، وَمَا نَزَلَتْ سُورَةُ الْبَقَرَةِ والنِّسَاءِ إِلَّا وَأَنَا عِنْدَهُ، قَالَ: فَأَخْرَجَتْ لَهُ الْمُصْحَفَ فَأَمْلَتْ عَلَيْهِ آيَ السُّوَرَةِ".
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم کو ہشام بن یوسف نے خبر دی، انہیں ابن جریج نے خبر دی، ان سے کیسان نے کہا کہ مجھے یوسف بن ماہک نے خبر دی، انہوں نے بیان کیا کہ میں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر تھا کہ ایک عراقی ان کے پاس آیا اور پوچھا کہ کفن کیسا ہونا چاہئے؟ ام المؤمنین نے کہا: افسوس اس سے مطلب! کسی طرح کا بھی کفن ہو تجھے کیا نقصان ہو گا۔ پھر اس شخص نے کہا ام المؤمنین مجھے اپنے مصحف دکھا دیجئیے۔ انہوں نے کہا کیوں؟ (کیا ضرورت ہے) اس نے کہا تاکہ میں بھی قرآن مجید اس ترتیب کے مطابق پڑھوں کیونکہ لوگ بغیر ترتیب کے پڑھتے ہیں۔ انہوں نے کہا پھر اس میں کیا قباحت ہے جونسی سورت تو چاہے پہلے پڑھ لے (جونسی سورت چاہے بعد میں پڑھ لے اگر اترنے کی ترتیب دیکھتا ہے) تو پہلے مفصل کی ایک سورت، اتری ( «اقرا باسم ربك») جس میں جنت و دوزخ کا ذکر ہے۔ جب لوگوں کا دل اسلام کی طرف رجوع ہو گیا (اعتقاد پختہ ہو گئے) اس کے بعد حلال و حرام کے احکام اترے، اگر کہیں شروع شروع ہی میں یہ اترتا کہ شراب نہ پینا تو لوگ کہتے ہم تو کبھی شراب پینا نہیں چھوڑیں گے۔ اگر شروع ہی میں یہ اترتا کہ زنا نہ کرو تو لوگ کہتے ہم تو زنا نہیں چھوڑیں گے اس کے بجائے مکہ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اس وقت جب میں بچی تھی اور کھیلا کرتی تھی یہ آیت نازل ہوئی «بل الساعة موعدهم والساعة أدهى وأمر‏» لیکن سورۃ البقرہ اور سورۃ نساء اس وقت نازل ہوئیں، جب میں (مدینہ میں) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھی۔ بیان کیا کہ پھر انہوں نے اس عراقی کے لیے اپنا مصحف نکالا اور ہر سورت کی آیات کی تفصیل لکھوائی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب فَضَائِلِ الْقُرْآنِ/حدیث: 4993]
حضرت یوسف بن ماہک رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس تھا، اس دوران میں ایک عراقی آیا اور کہنے لگا: ”کون سا کفن بہتر ہے؟“ آپ نے فرمایا: ”تجھ پر افسوس! کفن جس طرح کا بھی ہو تجھے اس سے کیا نقصان ہوگا؟“ پھر اس نے کہا: ”اے ام المؤمنین! مجھے اپنا مصحف دکھائیں۔“ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”تجھے اس کی کیا ضرورت ہے؟“ اس نے کہا: ”میں اس کے مطابق قرآن کی ترتیب کرنا چاہتا ہوں کیونکہ قرآن ترتیب کے بغیر پڑھا جاتا ہے۔“ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”اس میں کیا قباحت ہے کہ تم جو بھی حصہ پہلے پڑھو؟ سب سے پہلے مفصل میں سے وہ سورت نازل ہوئی جس میں جنت و دوزخ کا ذکر ہے، جب لوگ اسلام کی طرف مائل ہو گئے تو حلال و حرام سے متعلق آیات نازل ہوئیں۔ اگر پہلے ہی یہ نازل ہوتا کہ ”لوگو! شراب نہ پیو“ تو وہ کہتے: ”ہم شراب کبھی ترک نہیں کریں گے“ اور اگر پہلے نازل ہوتا کہ ”زنا نہ کرو“ تو لوگ کہتے: ”ہم اسے کبھی ترک نہیں کریں گے“۔ مکہ مکرمہ میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ آیت ﴿بَلِ السَّاعَةُ مَوْعِدُهُمْ وَالسَّاعَةُ أَدْهَى وَأَمَرُّ﴾ [سورة القمر: 46] نازل ہوئی جبکہ میں بچی تھی اور کھیلا کرتی تھی، لیکن سورہ بقرہ اور سورہ نساء اس وقت نازل ہوئیں جب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھی۔“ راوی بیان کرتے ہیں کہ پھر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس عراقی کے لیے مصحف نکالا اور ہر سورت کی آیات کے متعلق اسے تفصیل لکھوائی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب فَضَائِلِ الْقُرْآنِ/حدیث: 4993]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4994
حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَزِيدَ بْنِ قَيْسٍ، سَمِعْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ، يَقُولُ: فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ والْكَهْفِ ومَرْيَمَ وطَهَ والْأَنْبِيَاءِ:" إِنَّهُنَّ مِنَ الْعِتَاقِ الْأُوَلِ وَهُنَّ مِنْ تِلَادِي".
ہم آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے ابواسحاق نے بیان کیا، انہوں نے عبدالرحمٰن بن امیہ سے سنا اور انہوں نے ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے کہا سورۃ بنی اسرائیل، سورۃ الکہف، سورۃ مریم، سورۃ طہٰ اور سورۃ انبیاء کے متعلق بتلایا کہ یہ پانچوں سورتیں اول درجہ کی فصیح سورتیں ہیں اور میری یاد کی ہوئی ہیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب فَضَائِلِ الْقُرْآنِ/حدیث: 4994]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”سورہ بنی اسرائیل، الکہف، مریم، طہ اور سورۃ الانبیاء، یہ پانچوں سورتیں «الْعِتَاقِ الْأُوَلِ» (نہایت ہی بلیغ) اور «تِلَادِي» (میرا محفوظ خزانہ) ہیں۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب فَضَائِلِ الْقُرْآنِ/حدیث: 4994]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4995
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، أَنْبَأَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، سَمِعَ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" تَعَلَّمْتُ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى قَبْلَ أَنْ يَقْدَمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا ہم کو ابواسحاق نے خبر دی، انہوں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے سورۃ «سبح اسم ربك الأعلى» نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مدینہ منورہ آنے سے پہلے ہی سیکھ لی تھی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب فَضَائِلِ الْقُرْآنِ/حدیث: 4995]
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مدینہ طیبہ آنے سے پہلے ہی سورہ ﴿سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى﴾ [سورة الأعلى: 1] سیکھ لی تھی۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب فَضَائِلِ الْقُرْآنِ/حدیث: 4995]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4996
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ:" تَعَلَّمْتُ النَّظَائِرَ الَّتِي كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَؤُهُنَّ، اثْنَيْنِ اثْنَيْنِ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ، فَقَامَ عَبْدُ اللَّهِ وَدَخَلَ مَعَهُ عَلْقَمَةُ وَخَرَجَ عَلْقَمَةُ فَسَأَلْنَاهُ، فَقَالَ: عِشْرُونَ سُورَةً مِنْ أَوَّلِ الْمُفَصَّلِ عَلَى تَأْلِيفِ ابْنِ مَسْعُودٍ، آخِرُهُنَّ الْحَوَامِيمُ: حم سورة الدخان آية 1 الدُّخَانِ، وَعَمَّ يَتَسَاءَلُونَ".
ہم سے عبدان نے بیان کیا، ان سے ابوحمزہ (محمد بن میمون) نے ان سے اعمش نے، ان سے شقیق نے بیان کیا کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا میں ان جڑواں سورتوں کو جانتا ہوں جنہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر رکعت میں دو دو پڑھتے تھے پھر عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ مجلس سے کھڑے ہو گئے (اور اپنے گھر) چلے گئے۔ علقمہ بھی آپ کے ساتھ اندر گئے۔ جب علقمہ رضی اللہ عنہ باہر نکلے تو ہم نے ان سے انہیں سورتوں کے متعلق پوچھا۔ انہوں نے کہا یہ شروع مفصل کی بیس سورتیں ہیں، ان کی آخری سورتیں وہ ہیں جن کی اول میں «حم» ہے۔ «حم الدخان» اور «عم يتساءلون‏.‏» بھی ان ہی میں سے ہیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب فَضَائِلِ الْقُرْآنِ/حدیث: 4996]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”میں ان جڑواں سورتوں کو جانتا ہوں جنہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر رکعت میں دو دو پڑھتے تھے۔“ اس کے بعد حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ مجلس سے اٹھ گئے، ان کے ساتھ حضرت علقمہ رحمہ اللہ بھی گھر میں داخل ہوئے۔ پھر جب وہ باہر آئے تو ہم نے ان سے پوچھا: ”وہ کون سی سورتیں ہیں؟“ انہوں نے بتایا کہ ”وہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی ترتیب کے مطابق آغازِ مفصل کی بیس سورتیں ہیں جن کی آخری سورتیں «حمٓ» ”حم“ والی ہیں۔ «حمٓ الدُّخَان» ”حم الدخان“ اور «عَمَّ يَتَسَاءَلُونَ» ”عم یتساءلون“ بھی انہی میں سے ہیں۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب فَضَائِلِ الْقُرْآنِ/حدیث: 4996]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں