🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مشکوۃ المصابیح میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (6294)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

--. (إِذَا تَجَمَّعَ المَاءُ فِي مَكَانِ الغُسْلِ فَلْيُؤَخِّرْ غَسْلَ قَدَمَيْهِ)
اگر غسل خانے میں پانی جمع ہو جاتا ہو تو پاؤں آخر میں دھوئے جائیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 436
436 - وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَتْ مَيْمُونَةُ: وَضَعْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُسْلًا فَسَتَرْتُهُ بِثَوْبٍ وَصَبَّ عَلَى يَدَيْهِ فَغَسَلَهُمَا، ثُمَّ صَبَّ بِيَمِينِهِ عَلَى شَمَالِهِ، فَغَسَلَ فَرْجَهُ، فَضَرَبَ بِيَدِهِ الْأَرْضَ فَمَسَحَهَا، ثُمَّ غَسَلَهَا، فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ، وَغَسَلَ وَجْهَهُ وَذِرَاعَيْهِ، ثُمَّ صَبَّ عَلَى رَأْسِهِ، وَأَفَاضَ عَلَى جَسَدِهِ، ثُمَّ تَنَحَّى فَغَسَلَ قَدَمَيْهِ فَنَاوَلْتُهُ ثَوْبًا فَلَمْ يَأْخُذْهُ، فَانْطَلَقَ وَهُوَ يَنْفُضُ يَدَيْهِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَلَفْظُهُ لِلْبُخَارِيِّ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، میمونہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: میں نے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے غسل کرنے کے لیے پانی رکھا، اور ایک کپڑے سے آپ پر پردہ کیا، آپ نے اپنے دونوں ہاتھوں پر پانی ڈالا تو انہیں دھویا، پھر آپ نے اپنے ہاتھوں پر پانی ڈالا تو انہیں دھویا، پھر اپنے دائیں ہاتھ سے بائیں ہاتھ پر پانی ڈال کر شرم گاہ کو دھویا، پھر آپ نے اپنا ہاتھ زمین پر ملا اور اسے دھویا، پھر آپ نے کلی کی، ناک میں پانی ڈالا، اپنا چہرہ اور بازو دھوئے، پھر سر پر پانی ڈالا، اور سارے جسم پر پانی بہایا، پھر آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس جگہ سے ہٹ کر پاؤں دھوئے، میں نے آپ کو کپڑا دیا لیکن آپ نے نہ لیا، پھر آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہاتھوں سے پانی صاف کرتے تشریف لے گئے۔ اور یہ الفاظ بخاری کے ہیں۔ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 436]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (276) و مسلم (37/ 317)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفق عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں