مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (لَا يَجِبُ عَلَى النِّسَاءِ حَلُّ شَعْرِ الرَّأْسِ فِي الغُسْلِ)
عورتوں کے لیے سر کے بال کھولنے ضروری نہیں
حدیث نمبر: 438
438 - وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي امْرَأَةٌ أَشُدُّ ضَفْرَ رَأْسِي، أَفَأَنْقُضُهُ لِغُسْلِ الْجَنَابَةِ؟ فَقَالَ:"لَا ; إِنَّمَا يَكْفِيكِ أَنْ تَحْثِي عَلَى رَأْسِكِ ثَلَاثَ حَثَيَاتٍ، ثُمَّ تُفِيضِينَ عَلَيْكِ الْمَاءَ فَتَطْهُرِينَ) . رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں ایک ایسی عورت ہوں کہ میں اپنے سر کے بالوں کو مضبوط گوندھتی ہوں، تو کیا میں غسل جنابت کے لیے اسے کھول دیا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، تمہارے لیے یہی کافی ہے کہ تم اپنے سر پر تین لپ پانی ڈالو، پھر اپنے جسم پر پانی بہا لو، پس تم پاک ہو جاؤ گی۔“ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 438]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (58/ 330)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح