مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (فِي بَدَايَةِ الإِسْلَامِ كَانَتِ الأَحْكَامُ تَتَغَيَّرُ)
ابتداء اسلام میں احکامات میں تبدیلی ہوتی رہی ہے
حدیث نمبر: 450
450 - وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: كَانَتِ الصَّلَاةُ خَمْسِينَ، وَالْغُسْلُ مِنَ الْجَنَابَةِ سَبْعَ مَرَّاتٍ، وَغَسْلُ الْبَوْلِ مِنَ الثَّوْبِ سَبْعَ مَرَّاتٍ، فَلَمْ يَزَلْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُ حَتَّى جُعِلَتِ الصَّلَاةُ خَمْسًا، وَغُسْلُ الْجَنَابَةِ مَرَّةً، وَغَسْلُ الثَّوْبِ مِنَ الْبَوْلِ مَرَّةً. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نمازیں پچاس تھیں، غسل جنابت سات مرتبہ تھا، اور کپڑے سے پیشاب دھونا بھی سات مرتبہ تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسلسل (تخفیف کے لیے اپنے رب سے) سوال کرتے رہے حتیٰ کہ نمازیں پانچ، غسل جنابت ایک مرتبہ اور پیشاب کی وجہ سے کپڑے کا دھونا ایک مرتبہ کر دیا گیا۔ ضعیف۔ [مشكوة المصابيح/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 450]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه أبو داود (247)
٭ أيوب بن جابر: ضعيف .»
٭ أيوب بن جابر: ضعيف .»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف