مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (الغُسْلُ بَيْنَ الجِمَاعَيْنِ سَبَبٌ لِلنَّشَاطِ)
دوبارہ جماع کرنے کے درمیان غسل نشاط کا ذریعہ ہے
حدیث نمبر: 470
470 - وَعَنْ أَبِي رَافِعٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَافَ ذَاتَ يَوْمٍ عَلَى نِسَائِهِ، يَغْتَسِلُ عِنْدَ هَذِهِ، وَعِنْدَ هَذِهِ، قَالَ: فَقُلْتُ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَا تَجْعَلُهُ غُسْلًا وَاحِدًا آخِرًا؟ قَالَ:"هَذَا أَزْكَى وَأَطْيَبُ وَأَطْهَرُ". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو دَاوُدَ.
ابورافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک روز اپنی ازواج مطہرات کے پاس گئے، اور ہر ایک کے پاس جاتے وقت غسل فرمایا، وہ بیان کرتے ہیں، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیوں نہ آپ سب سے آخر پر ایک ہی غسل فرما لیتے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”یہ زیادہ پاکیزہ، زیادہ اچھا اور زیادہ صاف ہے۔“ حسن، رواہ احمد و ابوداؤد و ابن ماجہ۔ [مشكوة المصابيح/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 470]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «حسن، رواه أحمد (8/6 ح 24363) و أبو داود (219) [و ابن ماجه: 590] »
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:حسن