مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (مَاءُ وُضُوءِ النَّبِيِّ ﷺ البَاقِي)
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کا بچا ہوا پانی
حدیث نمبر: 476
476 - وَعَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: ذَهَبَتْ بِي خَالَتِي إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ ابْنَ أُخْتِي وَجِعٌ، فَمَسَحَ رَأْسِي، وَدَعَا بِالْبَرَكَةِ، ثُمَّ تَوَضَّأَ، فَشَرِبْتُ مِنْ وَضُوئِهِ ثُمَّ قُمْتُ خَلْفَ ظَهْرِهِ، فَنَظَرْتُ إِلَى خَاتَمِ النُّبُوَّةِ بَيْنَ كَتِفَيْهِ مِثْلَ زِرِّ الْحَجَلَةِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
سائب بن یزید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میری خالہ مجھے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لے گئیں اور انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرا بھانجا مریض ہے، چنانچہ آپ نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور برکت کے لیے دعا کی، پھر آپ نے وضو کیا، تو میں نے آپ کے وضو کا پانی پیا، پھر میں آپ کے پیچھے کھڑا ہو گیا تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کندھوں کے مابین چکور کے انڈے کی مثل مہرِ نبوت دیکھی۔ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 476]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (190) و مسلم (111/ 2345)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفق عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه