مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (بِئْرُ بُضَاعَةَ)
بضاعہ کنوئیں کا بیان
حدیث نمبر: 478
478 - وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنَتَوَضَّأُ مِنْ بِئْرٍ بُضَاعَةَ، وَهِيَ بِئْرٌ يُلْقَى فِيهَا الْحِيَضُ، وَلُحُومُ الْكِلَابِ، وَالنَّتْنُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"إِنَّ الْمَاءَ طَهُورٌ لَا يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالتِّرْمِذِيُّ، وَأَبُو دَاوُدَ، وَالنَّسَائِيُّ.
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مسئلہ دریافت کیا گیا: کیا ہم بضاعہ کے کنویں سے وضو کر لیا کریں؟ جبکہ وہ ایسا کنواں ہے، جہاں حیض آلود کپڑے، کتوں کے گوشت اور بدبودار چیزیں پھینکی جاتی ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک پانی پاک ہے، اسے کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی۔“ (إسناده حسن، رواہ احمد والترمذی وابوداؤد والنسائی)۔ [مشكوة المصابيح/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 478]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه أحمد (3 / 31 ح 11277) والترمذي (66 وقال: حديث حسن) و أبو داود (66) والنسائي (1/ 174 ح 327)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن