مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (إِذَا بَالَ الأَطْفَالُ عَلَى الثَّوْبِ فَمَاذَا؟)
اگر بچے کپڑے پر پیشاب کر دیں؟
حدیث نمبر: 501
الْفَصْلُ الثَّانِي 501 - عَنْ لُبَابَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: كَانَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، فِي حِجْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبَالَ عَلَى ثَوْبِهِ. فَقُلْتُ: الْبَسْ ثَوْبًا، وَأَعْطِنِي إِزَارَكَ حَتَّى أَغْسِلَهُ، قَالَ: إِنَّمَا يُغْسَلُ مِنْ بَوْلِ الْأُنْثَى، وَيُنْضَحُ مِنْ بَوْلِ الذَّكَرِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو دَاوُدَ، وَابْنُ مَاجَهْ.
لبابہ بنت حارث رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ حسین بن علی رضی اللہ عنہما رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی گود میں تھے، انہوں نے آپ کے کپڑے پر پیشاب کر دیا، میں نے عرض کیا: آپ دوسرا کپڑا پہن لیں اور اپنا ازار مجھے دے دیں تاکہ میں اسے دھو دوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”صرف لڑکی کے پیشاب سے کپڑا دھویا جاتا ہے، اور لڑکے کے پیشاب سے کپڑے پر چھینٹے مارے جاتے ہیں۔“ (صحیح، رواہ احمد وابوداؤد وابن ماجہ) [مشكوة المصابيح/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 501]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «صحيح، رواه أحمد (6/ 339، 340 ح 27416) و أبو داود (375) و ابن ماجه (522) [و صححه ابن خزيمة (282) والحاکم (166/1) ووافقه الذهبي .] »
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح