مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (فَائِدَةُ الصَّلَاةِ لِلَّهِ خَالِصَةً)
نماز ایک نصیحت ہے
حدیث نمبر: 575
الْفَصْلُ الثَّالِثُ 575 - عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي عَالَجْتُ امْرَأَةً فِي أَقْصَى الْمَدِينَةِ، وَإِنِّي أَصَبْتُ مِنْهَا مَا دُونَ أَنْ أَمَسَّهَا، فَأَنَا هَذَا، فَاقْضِ فِيَّ مَا شِئْتَ. فَقَالَ عُمَرَ: لَقَدْ سَتَرَكَ اللَّهُ لَوْ سَتَرْتَ عَلَى نَفْسِكَ. قَالَ: وَلَمْ يَرُدَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِ شَيْئًا. فَقَامَ الرَّجُلُ، فَانْطَلَقَ فَأَتْبَعَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا فَدَعَاهُ، وَتَلَا عَلَيْهِ هَذِهِ الْآيَةَ:"وَأَقِمِ الصَّلَاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يَذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ ذَلِكَ ذِكْرَى لِلذَّاكِرِينَ". فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ! هَذَا لَهُ خَاصَّةً؟:"فَقَالَ: بَلْ لِلنَّاسِ كَافَّةً رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس نے عرض کیا، اے اللہ کے رسول! میں نے مدینہ کے دوسرے کنارے ایک عورت سے طبع آزمائی کی، میں نے جماع کے علاوہ اس کے ساتھ سب کچھ کیا، چنانچہ میں حاضر ہوں، آپ میرے متعلق جو چاہیں فیصلہ فرمائیں، عمر رضی اللہ عنہ نے اسے کہا، اللہ نے تمہاری پردہ پوشی کی تھی کاش کہ تم بھی اپنی پردہ پوشی کرتے، راوی بیان کرتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے کوئی جواب نہ دیا، اور وہ آدمی کھڑا ہوا اور چلا گیا، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کسی آدمی کو اس کے پیچھے بھیجا تو اسے بلا کر یہ آیت سنائی: ﴿وَأَقِمِ الصَّلَاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ ذَلِكَ ذِكْرَى لِلذَّاكِرِينَ﴾ [سورة هود: 114] ”دن کے دونوں اطراف اور رات کی چند ساعتوں میں نماز پڑھا کریں، یقیناً نیکیاں برائیوں کو دور کر دیتی ہیں اور یہ نصیحت قبول کرنے والوں کے لیے نصیحت ہے۔“ حاضرین میں سے کسی نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! کیا یہ اس کے لیے خاص ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ تمام لوگوں کے لیے ہے۔“ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 575]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (42/ 2763)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح