🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مشکوۃ المصابیح میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (6294)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

--. (كَثْرَةُ الجَمَاعَةِ مَقْصُودَةٌ)
نمازوں کے پسندیدہ اوقات نبوی صلی اللہ علیہ وسلم
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 587
(2) بَابُ تَعْجِيلِ الصَّلَوَاتِ الْفَصْلُ الْأَوَّلُ 587 - عَنْ سَيَّارِ بْنِ سَلَامَةَ، قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وَأَبِي عَلَى أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ، فَقَالَ لَهُ أَبِي: كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الْمَكْتُوبَةَ؟ فَقَالَ: كَانَ يُصَلِّي الْهَجِيرَ الَّتِي تَدْعُونَهَا الْأُولَى حِينَ تَدْحَضُ الشَّمْسُ، وَيُصَلِّي‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌ الْعَصْر‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌َ ثُمَّ يَرْجِعُ أَحَدُنَا إِلَى رَحْلِهِ فِي أَقْصَى الْمَدِينَةِ وَالشَّمْسُ حَيَّةٌ، وَنَسِيتُ مَا قَالَ فِي الْمَغْرِبِ، وَكَانَ يَسْتَحِبُّ أَنْ يُؤَخِّرَ الْفَيْءَ الَّتِي تَدْعُونَهَا الْعَتَمَةَ، وَكَانَ يَكْرَهُ النَّوْمَ قَبْلَهَا وَالْحَدِيثَ بَعْدَهَا، وَكَانَ يَنْتَقِلُ مِنْ صَلَاةِ الْغَدَاةِ حِينَ يَعْرِفُ الرَّجُلُ جَلِيسَهُ وَيَقْرَأُ بِالسِتِّينَ إِلَى الْمِائَةِ. وَفِي رِوَايَةٍ: وَلَا يُبَالِي بِتَأْخِيرِ الْعِشَاءِ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ، وَلَا يُحِبُّ النَّوْمَ قَبْلَهَا وَالْحَدِيثَ بَعْدَهَا. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
سیار بن سلامہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں، میں اور میرے والد ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ کے پاس گئے تو میرے والد نے ان سے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی فرض نماز کی کیفیت کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا: آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نمازِ ظہر، جسے تم پہلی نماز کہتے ہو، اس وقت پڑھا کرتے تھے جب سورج ڈھل جاتا، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نمازِ عصر پڑھتے تو پھر ہم میں سے کوئی مدینہ کے آخری کنارے واقع اپنی رہائش گاہ پر واپس جاتا تو سورج بالکل سفید اور چمک دار ہوتا تھا۔ راوی بیان کرتے ہیں، میں مغرب کے بارے میں بھول گیا کہ انہوں نے کیا کہا تھا، اور جب آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نمازِ عشاء جسے تم «الْعَتَمَةَ» عتمہ کہتے ہو، کو تاخیر سے پڑھنا پسند فرماتے تھے، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس (نمازِ عشاء) سے پہلے سو جانا اور اس کے بعد باتیں کرنا، ناپسند فرماتے تھے، اور آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نمازِ فجر میں سلام پھیر کر نمازیوں کی طرف رخ فرماتے تو اس وقت ہر نمازی اپنے ساتھ والے نمازی کو پہچان لیتا تھا، اور آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ساٹھ سے سو آیات تک تلاوت فرمایا کرتے تھے۔ اور ایک روایت میں ہے: آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نمازِ عشاء کو تہائی رات تک بغیر کسی پروا کے مؤخر کر دیا کرتے تھے، اور آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نمازِ عشاء سے پہلے سونا اور اس کے بعد باتیں کرنے کو ناپسند کیا کرتے تھے۔ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 587]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (541) و مسلم (235 / 647)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفق عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں