صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
17. بَابُ الأَكْفَاءِ فِي الْمَالِ، وَتَزْوِيجِ الْمُقِلِّ الْمُثْرِيَةَ:
باب: کفائت میں مالداری کا لحاظ ہونا اور غریب مرد کا مالدار عورت سے نکاح کرنا۔
حدیث نمبر: 5092
حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ، أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَى سورة النساء آية 3، قَالَتْ:" يَا ابْنَ أُخْتِي، هَذِهِ الْيَتِيمَةُ تَكُونُ فِي حَجْرِ وَلِيِّهَا فَيَرْغَبُ فِي جَمَالِهَا وَمَالِهَا وَيُرِيدُ أَنْ يَنْتَقِصَ صَدَاقَهَا، فَنُهُوا عَنْ نِكَاحِهِنَّ إِلَّا أَنْ يُقْسِطُوا فِي إِكْمَالِ الصَّدَاقِ، وَأُمِرُوا بِنِكَاحِ مَنْ سِوَاهُنَّ، قَالَتْ: وَاسْتَفْتَى النَّاسُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ذَلِكَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ: وَيَسْتَفْتُونَكَ فِي النِّسَاءِ إِلَى وَتَرْغَبُونَ أَنْ تَنْكِحُوهُنَّ سورة النساء آية 127، فَأَنْزَلَ اللَّهُ لَهُمْ: أَنَّ الْيَتِيمَةَ إِذَا كَانَتْ ذَاتَ جَمَالٍ وَمَالٍ رَغِبُوا فِي نِكَاحِهَا وَنَسَبِهَا وَسُنَّتِهَا فِي إِكْمَالِ الصَّدَاقِ، وَإِذَا كَانَتْ مَرْغُوبَةً عَنْهَا فِي قِلَّةِ الْمَالِ وَالْجَمَالِ تَرَكُوهَا وَأَخَذُوا غَيْرَهَا مِنَ النِّسَاءِ، قَالَتْ: فَكَمَا يَتْرُكُونَهَا حِينَ يَرْغَبُونَ عَنْهَا، فَلَيْسَ لَهُمْ أَنْ يَنْكِحُوهَا إِذَا رَغِبُوا فِيهَا إِلَّا أَنْ يُقْسِطُوا لَهَا وَيُعْطُوهَا حَقَّهَا الْأَوْفَى فِي الصَّدَاقِ".
مجھ سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے، ان سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب نے، انہیں عروہ بن زبیر نے خبر دی کہ انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے آیت «وإن خفتم أن لا تقسطوا في اليتامى» ”اور اگر تمہیں خوف ہو کہ یتیم لڑکیوں کے بارے میں تم انصاف نہیں کر سکو گے۔“ کے متعلق سوال کیا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا میرے بھانجے! اس آیت میں اس یتیم لڑکی کا حکم بیان ہوا ہے جو اپنے ولی کی پرورش میں ہو اور اس کا ولی اس کی خوبصورتی اور مالداری پر ریجھ کر یہ چاہے کہ اس سے نکاح کرے لیکن اس کے مہر میں کمی کرنے کا بھی ارادہ ہو۔ ایسے ولی کو اپنی زیر پرورش یتیم لڑکی سے نکاح کرنے سے منع کیا گیا ہے جب وہ ان کا مہر انصاف سے پورا ادا کریں گے اگر وہ ایسا نہ کریں تو پھر آیت میں ایسے ولیوں کو حکم دیا گیا کہ وہ اپنی زیر پرورش یتیم لڑکی کے سوا کسی اور سے نکاح کر لیں۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بعد سوال کیا تو اللہ تعالیٰ نے سورۃ نساء میں آیت «ويستفتونك في النساء» سے «وترغبون أن تنكحوهن» تک نازل کی۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ حکم دیا کہ یتیم لڑکیاں اگر خوبصورت اور صاحب مال ہوں تو ان کے ولی بھی ان کے ساتھ نکاح کر لینا چاہتے ہیں، اس کا خاندان پسند کرتے ہیں اور مہر پورا ادا کر کے ان سے نکاح کر لیتے ہیں۔ لیکن ان میں حسن کی کمی ہو اور مال بھی نہ ہو تو پھر ان کی طرف رغبت نہیں ہو گی اور وہ انہیں چھوڑ کر دوسری عورتوں سے نکاح کر لیتے ہیں۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ آیت کا مطلب یہ ہے کہ جیسے اس وقت یتیم لڑکی کو چھوڑ دیتے ہیں جب وہ نادار ہو اور خوبصورت نہ ہو ایسے ہی اس وقت بھی چھوڑ دینا چاہئے جب وہ مالدار اور خوبصورت ہو البتہ اگر اس کے حق میں انصاف کریں اور اس کا مہر پورا ادا کریں تب اس سے نکاح کر سکتے ہیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 5092]
حضرت عروہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے درج ذیل آیت کے متعلق سوال کیا: ﴿وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَىٰ﴾ [سورة النساء: 3] ”اور اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ تم یتیم لڑکیوں کے متعلق انصاف نہیں کر سکو گے۔۔۔“ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”اے میرے بھانجے! مذکورہ آیت میں اس یتیم لڑکی کا حکم بیان ہوا ہے جو اپنے سرپرست کی پرورش میں ہو اور وہ اس کی خوبصورتی اور مال داری کی وجہ سے اس میں دلچسپی رکھتا ہو کہ اس سے نکاح کر لے لیکن اس کا حق مہر پورا پورا ادا نہیں کرے۔ اس قسم کے سرپرستوں کو اپنی زیرِ کفالت یتیم بچیوں سے نکاح کرنا منع قرار دیا گیا ہے۔ البتہ اس صورت میں ان سے نکاح کرنے کی اجازت ہے جب وہ ان کا حق مہر انصاف کے ساتھ پورا پورا ادا کریں۔ اگر وہ ایسا نہ کریں تو انہیں زیرِ کفالت بچیوں کے علاوہ دوسری عورتوں سے نکاح کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔“ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”اس کے بعد لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فتویٰ پوچھا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿وَيَسْتَفْتُونَكَ فِي النِّسَاءِ﴾ [سورة النساء: 127] ”اور وہ (لوگ) آپ سے عورتوں کے متعلق فتویٰ پوچھتے ہیں۔۔۔“ آخر تک۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے بیان کیا ہے کہ یتیم لڑکیاں اگر خوبصورت اور مال دار ہوں تو ان سے نکاح اور ان کے نسب میں دلچسپی رکھتے ہیں اور پورا حق مہر ادا کر کے ان سے نکاح کر لیتے ہیں لیکن اگر ان میں حسن کی کمی اور مال کی قلت ہو تو پھر ان کی طرف رغبت نہیں ہوتی بلکہ انہیں چھوڑ کر دوسری عورتوں سے نکاح کر لیتے ہیں۔“ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ آیت کا مطلب یہ ہے: ”جیسے وہ اس وقت یتیم لڑکی کو چھوڑ دیتے ہیں جب وہ نادار ہو اور خوبصورت نہ ہو ایسے ہی انہیں اس وقت بھی چھوڑ دینا چاہیے جب وہ مال دار اور خوبصورت ہو، البتہ اگر اس کے حق میں انصاف کریں اور حق مہر پورا پورا ادا کریں تو اس سے نکاح کر سکتے ہیں۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 5092]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة