مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (دُعَاءٌ يُقْرَأُ فِي الصَّلَاةِ)
نماز میں پڑھی جانے والی ایک دعا
حدیث نمبر: 817
817 - وَعَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعَمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ يُصَلِّي صَلَاةً قَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا، اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا، اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا، وَسُبْحَانَ اللَّهِ بُكْرَةً وَأَصِيلًا". أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ، مِنْ نَفْخِهِ وَنَفْثَهِ وَهَمْزَهِ، رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ، وَابْنُ مَاجَهْ، إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ:"وَالْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا، وَذَكَرَ فِي آخِرِهِ:"مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، وَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: نَفْخُهُ الْكِبْرُ، وَنَفْثُهُ الشِّعْرُ، وَهَمْزُهُ الْمُوتَةُ.
جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تو (اس وقت) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ پڑھ رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ” «اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا، اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا، اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا» ”اللہ بہت ہی بڑا ہے، اللہ بہت ہی بڑا ہے، اللہ بہت ہی بڑا ہے“، «وَالْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا» ”اللہ کے لیے بہت زیادہ تعریف ہے، اللہ کے لیے بہت زیادہ تعریف ہے، اللہ کے لیے بہت زیادہ تعریف ہے“، تین مرتبہ فرمایا: «وَسُبْحَانَ اللَّهِ بُكْرَةً وَأَصِيلًا» ”اللہ کے لیے صبح و شام پاکیزگی ہے“، «أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ: مِنْ نَفْخِهِ، وَنَفْثِهِ، وَهَمْزِهِ» ”میں شیطان سے اس کی پھونک، اس کے وسوسے اور اس کے خطرے سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں۔““ ابوداؤد، ابن ماجہ، البتہ ابن ماجہ نے «وَالْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا» کا ذکر نہیں کیا، اور انہوں نے آخر پر «مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ» کا ذکر کیا، اور عمرو رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس کی پھونک سے مراد کبر، اس کے وسوسے سے مراد شعر اور اس کے خطرے سے جنون مراد ہے۔ [اسنادہ حسن] [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 817]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه أبو داود (764) و ابن ماجه (807) [و صححه ابن حبان (443، 444) وابن الجارود (180) والحاکم (1/ 235) ووافقه الذهبي .] »
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن