صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
47. بَابُ تَفْسِيرِ تَرْكِ الْخِطْبَةِ:
باب: پیغام چھوڑ دینے کی وجہ بیان کرنا۔
حدیث نمبر: 5145
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يُحَدِّثُ،" أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ حِينَ تَأَيَّمَتْ حَفْصَةُ، قَالَ عُمَرُ: لَقِيتُ أَبَا بَكْرٍ، فَقُلْتُ: إِنْ شِئْتَ أَنْكَحْتُكَ حَفْصَةَ بِنْتَ عُمَرَ، فَلَبِثْتُ لَيَالِيَ، ثُمَّ خَطَبَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَقِيَنِي أَبُو بَكْرٍ، فَقَالَ: إِنَّهُ لَمْ يَمْنَعْنِي أَنْ أَرْجِعَ إِلَيْكَ فِيمَا عَرَضْتَ إِلَّا أَنِّي قَدْ عَلِمْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ ذَكَرَهَا فَلَمْ أَكُنْ لِأُفْشِيَ سِرَّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَوْ تَرَكَهَا لَقَبِلْتُهَا". تَابَعَهُ يُونُسُ، وَمُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، وَابْنُ أَبِي عَتِيقٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ.
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زھری نے، کہا کہ مجھے سالم بن عبداللہ نے خبر دی، انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میری بیٹی حفصہ رضی اللہ عنہا بیوہ ہوئیں تو میں ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے ملا اور ان سے کہا کہ اگر آپ چاہیں تو میں آپ کا نکاح عزیزہ حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہما سے کر دوں۔ پھر کچھ دنوں کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے نکاح کا پیغام بھیجا اس کے بعد ابوبکر رضی اللہ عنہ مجھ سے ملے اور کہا آپ نے جو صورت میرے سامنے رکھی تھی اس کا جواب میں نے صرف اس وجہ سے نہیں دیا تھا کہ مجھے معلوم تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا ذکر کیا ہے۔ میں نہیں چاہتا کہ آپ کا راز کھولوں ہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں چھوڑ دیتے تو میں ان کو قبول کر لیتا۔ شعیب کے ساتھ اس حدیث کو یونس بن یزید اور موسیٰ بن عقبہ اور محمد بن ابی عتیق نے بھی زہری سے روایت کیا ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 5145]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ جب حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا بیوہ ہو گئیں تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے ملا اور ان سے کہا کہ اگر تم چاہو تو میں اپنی بیٹی حفصہ کا نکاح آپ سے کر دیتا ہوں۔ میں کئی راتیں آپ کی طرف سے جواب کے انتظار میں رہا، اس دوران رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کو نکاح کا پیغام دیا۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی مجھ سے ملاقات ہوئی تو فرمانے لگے: بلاشبہ تمہاری پیش کش کے جواب میں کوئی چیز حائل نہ تھی سوائے اس کے کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق علم تھا کہ آپ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کا ذکر فرما رہے تھے، اور میں آپ کے راز کو افشا نہیں کرنا چاہتا تھا، اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم چھوڑ دیتے تو میں آپ کی پیش کش قبول کر لیتا۔“ یونس، موسیٰ بن عقبہ اور ابن ابی عتیق نے زہری سے روایت کرنے میں شعیب کی متابعت کی ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 5145]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة